بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ دعویٰ صرف آئینی کتاب کی زینت جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ آئین میں 1976 میں لفظ سیکولر شامل کیا گیا تاکہ دنیا کو تاثر دیا جا سکے کہ بھارت میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں، لیکن عملاً بھارت کا ریاستی ڈھانچہ ایک اکثریتی مذہب کی بالادستی پر قائم ہو چکا ہے، جہاں اقلیتوں کے لیے جینے کا حق بھی مشروط ہو چکا ہے۔ مسلمان، جو بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ہیں، ہر سطح پر امتیازی سلوک کا نشانہ بن رہے ہیں۔ گائے کے تحفظ کے نام پر بے گناہوں کو سڑکوں پر قتل کیا جاتا ہے اور قاتل دندناتے پھرتے ہیں۔ پہلو خان، اخلاق اور تبریز انصاری جیسے نام بھارت کے سیکولر چہرے پر بدنما داغ ہیں۔ یہی نہیں، مسلمانوں کو پاکستانی اور غدار جیسے القابات دے کر ان کی وفاداری کو مشکوک بنایا جاتا ہے اور جب وہ اپنے آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ سیاسی میدان میں بھی ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، حتیٰ کہ بی جے پی جیسی بڑی جماعت میں کوئی مسلمان وزیر تک نہیں۔ بابری مسجد کی شہادت بھارت کے سیکولرازم پر پہلا بڑا حملہ تھا۔ ایک تاریخی مسجد کو دن دیہاڑے شہید کر دیا گیا، اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہی۔ بعد میں عدالت نے اسی مقام پر رام مندر کی تعمیر کی اجازت دیتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ ایمان کو ثبوت پر فوقیت حاصل ہے۔ ایسا فیصلہ کسی بھی حقیقی سیکولر ریاست میں ناقابلِ تصور ہوتا لیکن بھارت میں یہ معمول بن چکا ہے کہ عدالتی فیصلے بھی اکثریتی جذبات کے مطابق ہوتے ہیں۔
کشمیر کا معاملہ بھارت کے سیکولرازم کی سب سے بڑی نفی ہے۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرتے ہوئے ایک پوری ریاست کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کر دیا گیا۔ کشمیریوں پر زمین تنگ کر دی گئی، انٹرنیٹ بند، قیادت گرفتار یوں وادی کو عملی طور پر ایک قید خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ کشمیر کو زبردستی بھارت میں ضم کر کے وہاں کے باسیوں کی شناخت، ثقافت اور حقِ خود ارادیت کو روند ڈالا گیا۔ یہ سب ایک ایسے ملک میں ہو رہا ہے جو دنیا کے سامنے خود کو جمہوریت کا محافظ اور سیکولرازم کا علمبردار کہتا ہے۔ بھارتی میڈیا جو کبھی آزاد صحافت کا دعویدار تھا، اب محض حکومت کا پروپیگنڈا آلہ بن چکا ہے۔ دن رات مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔ گودی میڈیا نے سچ، انصاف اور شفافیت کو دفن کر کے جھوٹ، تعصب اور تفریق کو فروغ دیا ہے۔ میڈیا جو کسی معاشرے کا ضمیر ہونا چاہیے، وہ بھارت میں ایک تعصب زدہ ہتھیار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی ہندوتوا نظریے کے شکنجے میں ہے۔ سکولوں کے نصاب سے مسلمانوں کے تاریخی کردار کو یا تو منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے یا مکمل طور پر خارج کر دیا جاتا ہے۔ نئی نسل کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ بھارت صرف ہندووں کا ملک ہے اور مسلمان محض غاصب یا درانداز۔ یہ سوچ ایک ایسی نسل تیار کر رہی ہے جو نفرت، عدم برداشت اور تشدد کو حب الوطنی کا مترادف سمجھے گی۔ جب کسی ریاست میں آئینی دعوے اور عملی رویے میں زمین آسمان کا فرق ہو، تو وہاں علیحدگی کے جذبات جنم لیتے ہیں۔ بھارت آج ایسی ہی ریاست بن چکا ہے جہاں کئی قومیں، مذہبی گروہ اور ثقافتی اکائیاں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ علیحدگی کی تحریکیں صرف کشمیر تک محدود نہیں رہیں، بلکہ بھارت کے مختلف علاقوں میں پھیل چکی ہیں۔ پنجاب میں خالصتان تحریک ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم سکھ کمیونٹی اس تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور حالیہ برسوں میں امرت پال سنگھ جیسے افراد نے خالصتانی نظریے کو مقامی سطح پر نئی توانائی دی ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں جیسے ناگا لینڈ، منی پور، آسام اور میزورام میں بھی علیحدگی کے جذبات شدید ہیں۔ نسلی، لسانی اور ثقافتی اختلافات کو ریاستی جبر سے دبانے کی کوششیں مسلسل ناکام ہو رہی ہیں۔ منی پور میں حالیہ فسادات، جن میں ہزاروں افراد بے گھر اور درجنوں ہلاک ہوئے، ریاست کی ناکامی اور عوامی بے چینی کا ثبوت ہیں۔ ان علاقوں میں کئی گروہ مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں، جو خود کو بھارتی نظام کا حصہ ماننے سے انکاری ہیں۔ ماو¿ نواز تحریک، جسے نکسل باڑی بغاوت بھی کہا جاتا ہے، بھارت کے سب سے غریب اور پسماندہ علاقوں میں اب بھی جاری ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر معاشی استحصال، جاگیرداری نظام اور قبائلی عوام کی زمینوں پر قبضے کے خلاف ہے۔ تامل ناڈو میں دراوڑی شناخت کی بنیاد پر سیاسی مزاحمت ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ اگرچہ اب اس تحریک نے خودمختاری کے بجائے وفاقی حقوق پر زور دینا شروع کیا ہے، لیکن مرکز کی ہندوتوا پالیسیوں نے اس ریاست میں پھر سے علیحدگی پسند سوچ کو تقویت دی ہے۔
دلت تحریکیں جو امبیڈکر کے نظریات سے متاثر ہیں، بھارت کے اندر طبقاتی علیحدگی کا ایک واضح اظہار ہیں۔ جب ایک طبقہ صدیوں سے ظلم و استحصال کا شکار ہو اور آج بھی مندر میں داخلے، پانی کے کنویں تک رسائی، یا برابر نشست پر بیٹھنے جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہو، تو وہ علیحدگی کا ہی مطالبہ کرے گا، چاہے وہ جغرافیائی ہو یا سماجی۔ یہ تمام تحریکیں بھارت کی اس مصنوعی وحدت کو چیلنج کرتی ہیں جسے ریاستی جبر، اکثریتی پروپیگنڈا اور آئینی چالاکی سے قائم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارت میں بغاوت کا جو لاوا پک رہا ہے، وہ صرف ریاستی ناانصافی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ریاست کی جانب سے شناخت کے انکار، حقِ نمائندگی کی عدم فراہمی اور ثقافتی استحصال کا ارتعاش ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی برادری ان تمام حقائق سے آگاہ ہونے کے باوجود اقتصادی اور سٹریٹیجک مفادات کے باعث خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بھارت کا چہرہ آج بے نقاب ہو چکا، یہ ایک ایسی ریاست بن چکی ہے جہاں آئین اور زمینی حقائق میں خلیج دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ سیکولرازم، جمہوریت، انصاف، اور مساوات جیسے الفاظ صرف سیاسی تقریروں اور آئینی صفحات میں باقی رہ گئے ہیں جبکہ بھارت ایک جنونی ہندو ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے۔ دنیا اس حقیقت کا بروقت ادراک کر لے ایسا نہ ہو یہاں کوئی بڑا انسانی المیہ جنم لے لے۔
بھارت کا نقاب اتر چکا
09:04 AM, 26 Jul, 2025