ریاست پاکستان کے مجرم کیفر کردار کو پہنچنے لگے ہیں۔ 9مئی کے عدالتی فیصلے آنے لگے ہیں۔ ایک انتظار کے بعد ریاست کی رٹ نظر آنے لگی ہے۔ ویسے پی ٹی آئی نے عمران خان کی سحر انگیز قیادت میں جو ایک پوری نسل تیار کی ہے قوم کو اسے بھگتنا ہو گا۔ گزرے تیس سال کے دوران عمران خان نے جس بیانیے کے تحت، جس طرح نوجوان نسل کی فکری و عملی تربیت کی ہے وہ اب سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ ہماری ریاست نے ہی نواز شریف و زرداری دشمنی میں عمران خان جیسی شخصیت کو پروان چڑھایا، کچھ اس طرح پروان چڑھایا کہ اس طوفان میں بہت سی قابل ذکر چیزیں بھی بہہ گئیں۔ سیاست اور سیاستدان گالی بن گیا۔ گالی گلوچ، دشنام طرازی عام چلن ہو گیا۔ اس طرز فکر و عمل کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے خوفناک بنا دیا گیا۔ پی ٹی آئی اور عمران خان اور اس کے حواری دواری ایسے جن بنے کہ الامان الحفیظ۔ اب ریاست اس غلاظت کو صاف کر رہی ہے۔ نوجوانوں کے ذہن آلودہ ہو چکے ہیں۔ ویسے 1995ءکے نوجوان اب مکمل بالغ افراد بن کر معاشرے کا ”کارآمد“ حصہ بن چکے ہیں لیکن انہیں دی گئی تربیت کا کمال ہے کہ وہ اب بھی معاشرے میں گندگی پھیلانے میں ایسے ہی مصروف عمل ہیں جیسے پہلے تھے۔ ان کا قائد جیل میں ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت صف اول کی قیادت جیلوں میں ہے لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا اور اس سے وابستہ لوگ آٹو پر چل رہے ہیں۔ ریاست کے خلاف ، ملک کے خلاف، حکومت کے خلاف، رائج الوقت نظام کے خلاف وہ ایسے ہی فعال ہیں جیسے وہ مرشد کی موجودگی میں فعال تھے۔ ویسے مرشد کا اپنا ٹوئیٹر اکاﺅنٹ مرشد کے بغیر بھی ان کی روحانی نہیں شیطانی طاقت کے ساتھ احکامات جاری کر رہا ہے۔ ایسے ہی جیسے وہ پہلے مرشد کی آزادی کے وقت شعلہ زنی کیا کرتا تھا۔ ریاست فعال ہے۔ ریاست اپنے مجرموں کے ساتھ نمٹ رہی ہے چاہے وہ ٹی ٹی پی ہو یا بی ایل اے، چاہے وہ خوارج الہند ہوں یا اندرون ملک بیٹھے ففتھ کالمسٹ، ریاست ان سب کے ساتھ آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹ رہی ہے لیکن ایک بات اور بڑی اہم ہے کہ پی ٹی آئی ان مقدمات اور سزاﺅں کو سیاسی بنانے کی کاوشوں میں مصروف رہی ہے۔ اسے اس مقصد میں کس حد تک کامیابی ملی ہے یہ ایک دوسرا سوال ہے لیکن ایک رائے ضرور پائی جاتی ہے کہ معاملات سیاسی ہیں۔ ایک پاکستانی کے طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی ایک مفسد جماعت ہے، عمران خان سیاسی لیڈر نہیں بلکہ ہمہ وقت کسی کیفیت میں رہنے والی شخصیت ہیں اور انہوں نے اپنے زور بیان اور شخصی کشش و شہرت کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے کی ایک معقول تعداد کو اپنے بیانیے کا اسیر بنا رکھا ہے۔ وہ نظام کے نقائص اور کمزوریوں پر بجا طور پر تنقید کرتے ہیں۔ تنقید کرتے کرتے وہ حدود سے تجاوز بھی کرتے ہیں لیکن وہ باتیں ٹھیک کرتے ہیں پھر پاکستان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وہ وجوہات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں لیکن پھر انہی عناصر کے ساتھ مل بھی جاتے ہیں۔ ان عناصر کو اپنی پارٹی میں شامل بھی کر لیتے ہیں۔ انہی کے ساتھ بات چیت پر اصرار بھی کر رہے ہیں، ان کا تبدیلی کا نعرہ درست ہی سہی لیکن جب تبدیلی کا وقت آیا وہ اقتدار میں آئے تو بجائے تبدیلی کی کوشش کرنے کے وہ اس نظام کے خوشہ چینوں میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے جی بھر کر اس نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔ لوٹ مار کی جب اسی نظام نے ان کی بے اعتدالیوں کا نوٹس لیا، انہیں اقتدار سے اٹھا کر باہر پھینک دیا تو انہوں نے تشدد کی راہ اپنائی۔ سسٹم نے جب انہیں کٹہرے میں کھڑا کیا تو انہوں نے 9مئی کر ڈالا۔ انہوں نے حکومت کے خلاف تحریک نہیں چلائی۔ حکومت کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ براہ راست ریاست پر پل پڑے اور تاک تاک کر ریاستی علامات پر نشانہ بازی کی ان کے خیال میں وہ اس طرح ریاست سے اپنی بات منوا سکیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ریاست نے ذہانت کا ثبوت دیا۔ فوری ری ایکشن نہیں دیا۔ مفسد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے ریاست کے ری ایکشن نہ دینے کو پی ٹی آئی ایک اور رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ 9 مئی خود ریاست نے ہی ترتیب دیا تھا تاکہ عمران خان پر شکنجہ فٹ کیا جا سکے۔ اس حوالے سے عمرانی پروپیگنڈہ مشن نے خاصا اودھم مچایا لیکن بات بن نہیں سکی کیونکہ شواہد اس قدر واضح تھے کہ پروپیگنڈہ پنپ نہیں سکا پھر عمرانی پروپیگنڈہ مشن 9 مئی کے مقدمات کو سیاسی بنانے میں لگی رہی۔ ہمارا نظام عدالت ہی اس طرح کا ہے کہ مجرموں کو جلدی کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکتا ہے۔ انصاف میں تاخیر نے بھی عمرانی پروپیگنڈے کو اس حوالے سے تقویت دی کہ مقدمات سیاسی ہیں پھرجن ملزمان نے توبہ کر لیا، پریس کانفرنس کر کے تو یہ تائب ہو کر بری ہو گئے۔ اس عنصر نے بھی معاملات کو ہوا دی لیکن اب معاملات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ عدالتوں نے مجرمان کو سزائیں دینا شروع کر دی ہیں۔ پی ٹی آئی بطور جماعت تو پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کے عمل
کا شکار ہو چکی ہے، اس کی صف اول کی قیادت روپوش ہے اور صف دوم کے کھلاڑی خواتین و حضرات آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ صفوں میں دراڑیں نمایاں ہو چکی ہیں۔ ہر سطح پر گروہ بندی نظر آرہی ہے۔ پی ٹی آئی بطور جماعت کوئی مناسب اور موثر تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ 5 اگست کو قوم دیکھ لے گی کہ تحریک انصاف کس بری طرح ناکام ہوتی ہے۔ عمران خان جیل میں ہیں اور جیل میں ہی رہیں گے ویسے انہیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ آسانی سے اور مروجہ طریقوں سے رہا نہیں ہو سکتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے بیٹوں کو متحرک کیا ہے کہ وہ اپنے اباجی کی رہائی کے لئے اپنا خاندانی اثر و رسوخ استعمال کریں۔ رچرڈ گرینیل اور جو ولسن سے ان کے بیٹوں کی ملاقاتیں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ لگتا نہیں کہ امریکہ بطور ریاست اور ڈونلڈ ٹرمپ بطور صدر امریکہ اس معاملے میں مداخلت کریں گے۔ عمران خان کے جرائم واضح ہیں، عدالتی نظام فعال ہے، آئین پاکستان کے مطابق ادارے کام کر رہے ہیں۔ عمران خان کو کسی قسم کا ریلیف انہیں عدالتوں سے ملے گا لیکن ان کے حواری دواری عمران خان کا کیس سنجیدگی سے پیش کرنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی: 9مئی کے جیالوں کا انجام
09:04 AM, 26 Jul, 2025