پیرس : فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک ستمبر میں فلسطین کو باقاعدہ طور پر ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا باضابطہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں میکخواں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ فوری طور پر رکنی چاہیے، شہریوں کی جانیں بچانا اور انسانی امداد پہنچانا وقت کی ضرورت ہے۔
میکخواں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے، غزہ کو محفوظ بنایا جائے اور اس کی تعمیر نو کے لیے عالمی کوششیں تیز کی جائیں۔
فلسطینی قیادت نے فرانسیسی صدر کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی اور اصولی فیصلہ قرار دیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے مشیر حسین الشیخ نے کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی حمایت اور عالمی قانون کے مطابق ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دراصل "حماس کی دہشتگردی کو تسلیم کرنے" کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی فرانس کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم امن کے عمل کو نقصان پہنچائے گا اور حماس کے بیانیے کو تقویت دے گا۔
دوسری جانب، حماس نے فرانس کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ایک "مثبت پیش رفت" قرار دیا اور دنیا کے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں۔
واضح رہے کہ اب تک اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 140 سے زائد ممالک فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں، لیکن امریکا، برطانیہ اور چند دیگر مغربی ممالک نے اب تک ایسا نہیں کیا۔
فرانس کے اس اعلان نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ہلچل مچائی ہے بلکہ عالمی سفارتی محاذ پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا خطے میں امن کا راستہ کھول سکتا ہے یا مزید تناؤ کا باعث بنے گا۔