مریم نواز کی مقبولیت کا راز

09:16 AM, 25 Jul, 2025

پنجاب میں پچھلے ڈیڑھ سال میں جتنے بھی اقدامات ہو رہے ہیں یہ سب پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہے ہیں۔ ان کی ماضی میں بہت کم ہی مثالیں ملتی ہیں۔ مریم نواز کے طرز حکومت سے بظاہر نظر آتا ہے کہ ان کا حکومت سازی سے قبل کا ہوم ورک مکمل تھا انہوں نے اپنے پانچ سال کی مکمل پلاننگ کی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ایک حکومت آئے اور پہلے ہی سال میں وہ درجنوں عوامی مفاد کے منصوبے لانچ کر دیں۔ مریم نواز نے اپنے طرز حکومت سے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک تجربہ کار اور پاکستان کے تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کی بیٹی ہیں۔ نواز شریف کا تجربہ، سیاسی، ویژن اور ذہانت مریم نواز کے طرز حکومت میں نظر آتی ہے۔ مریم نواز کا ہر منصوبہ عام آدمی کی فلاح کے لیے ہے۔ مریم نواز نے گزشتہ روز پنجاب میں انسداد منشیات فورس باقاعدہ لانچ کی ہے۔ منشیات پاکستان سمیت دنیا بھر کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ منشیات کی زیادہ تر عادی نوجوان نسل ہے۔ ان نوجوانوں کو گمراہ کرنے والا بھی ایک مافیا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی یہ مافیا اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ مریم نواز اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پنجاب میں پاکستان کی پہلی کاؤنٹر نارکوٹیکس فورس کا قیام عمل میں لائی ہیں۔ یہ فورس آج سے پنجاب میں باقاعدہ اپنا کام شروع کر دے گی۔ پہلے مرحلے میں پنجاب کے ہر ڈویژن میں سی این ایف کے سٹیشن اور ریجنل آفس قائم ہو چکے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں سی این ایف کا دائرہ کار ضلعی سطح تک بڑھایا جائے گا۔ سی این ایف کے افسران اور جوانوں کو اے این ایف اکیڈمی راولپنڈی میں 12 ہفتوں کی پروفیشنل تربیت دی گئی ہے۔ اگر منشیات کے حوالے سے لاہور کی ہی بات کی جائے تو لاہور کینال میں دھرمپورہ، مغل پورہ، لال پل اور اچھرہ میں جگہ جگہ نشے کے عادی افراد نظر آتے تھے اس کے علاوہ چوبرجی چوک اور داتا دربار کے ملحقہ سڑک پر درجنوں ایسے منشیات کے عادی لوگ نظر آتے تھے لیکن اب لاہور میں کسی بھی جگہ منشیات کے عادی افراد کے ڈیرے نظر نہیں آتے ان میں زیادہ تر نوجوان ہی نظر آتے تھے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت پنجاب پاکستان کا واحد صوبہ بن چکا ہے جہاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز متعدد سپیشلائزڈ فورسز قائم کر چکی ہیں۔ پنجاب میں پہلی وائلڈ لائف فورس کا قیام عمل میں لایا گیا اس کے بعد انوائرمنٹ فورس، فارسٹ فورس اور پھر پیرا فورس کا بھی قیام عمل میں لایا گیا، پیرا فورس پنجاب میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل فورس تصور کی جاتی ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ہے جس کا کام پنجاب میں مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف منظم کارروائیاں کرنا ہے۔ یہ فورس پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں کام کرے گی۔ یہ فورس پرائس کنٹرول اور ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن میں بھی ہراول دستہ ہو گی۔ پیرا فورس کے سٹیشن تھری ڈی ماڈل ہیں اور اسکوجدید ہتھیار سے لیس کیا گیا ہے۔ ان تمام فورسز کی اپنے الگ ڈی جی ہیں ان کے پاس شناخت کے لیے اپنے یونیفارم ہیں۔ ان تمام فورسز کے لیے نئی بھرتیاں کی گئی ہیں جس میں سیکڑوں نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے ہیں۔ اس کے علاوہ ستھرا پنجاب پراجیکٹ میں بھی ایک لاکھ 20ہزار نوجوانوں کو روزگار مل چکے ہیں۔ مریم نواز کی حکومت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے حقیقت میں گراؤنڈ پر نظر آنے والے کام کر رہی ہیں۔ مریم نواز کی حکومت کا کوئی بھی ایسا منصوبہ نہیں ہے جو صرف کاغذوں اور فائلوں کی نذر ہوتا ہے۔ مریم نواز ہمیشہ کسی بھی منصوبے کا افتتاع تب کرتی ہیں جب وہ عوام کو ریلیف دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ پنجاب کے عوام خوش قسمت ہیں کہ ان کو مریم نواز جیسی ویژن رکھنے والی لیڈر اور وزیراعلیٰ ملی ہیں۔ ماضی میں پنجاب کو ایک ایسا وزیراعلیٰ بھی ملا تھا جس نے ایک سال صرف سیکھتے ہوئے ہی گزارا تھا جبکہ مریم نواز ایک سال میں 80 سے زائد عوامی فلاح اور ریلیف کے منصوبے لانچ کر چکی ہے۔ کسی بھی حکمران کے طرز حکومت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی ترجیحات کیا ہیں۔ وہ عام آدمی کی زیادہ فکر کرتا ہے یا اپنے اقتدار کو طول دینے کی جدوجہد میں مصروف رہتا ہے۔ مریم نواز کی ترجیح پنجاب کے 14 کروڑ عوام ہے یہ ان کے طرز حکومت سے واضح نظر آ رہا ہے۔ مریم نواز کی سب سے بڑی یہ خوبی ہے کہ وہ اچھا کام کرنے والوں کی تعریف کرتی ہیں اور جو اپنے کام میں کوتاہی برتے اس کی سرزنش بھی کرتی ہیں۔ مریم نواز نے باقاعدہ جزا اور سزا کا معیار رکھا ہے۔ جب چیف ایگزیکٹو محنت اور لگن سے کام کرنے والا ہو تو یقینی طور پر اس کی ٹیم میں بھی حوصلہ بڑھتا ہے اور وہ بھی پوری ذمہ داری سے ہر ٹاسک کو مکمل کرتے ہیں۔ اسی لیے مریم نواز کی عوامی سطح پر مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور پنجاب میں مریم نواز لوگوں کی پہلی ترجیح بن چکی ہے۔ یہ بات مختلف نجی محفلوں میں انکے مخالفین بھی تسلیم کرتے نظر آتے اور حالیہ سروے بھی اسکی دلیل ہیں۔ مریم نواز کے اچھے اقدامات کی وجہ سے ہی باقی صوبوں کے لوگ بھی یہ خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ کاش ان کی وزیر اعلیٰ مریم نواز ہوتی۔

مزیدخبریں