ایک نجی ائیر لائن کی فضائی میزبان فاطمہ علی ہمارے گھر کے قریب رہتی ہیں۔ چند روز قبل ان سے شادی کی تقریب میں ملاقات ہوئی۔ تقریب مخلوط ہونے کے باعث وہ عبایا پہنے ہوئے تھیں، چہرے پر نقاب تھا۔ انہیں حجاب میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ وہ کچھ فاصلے پر اپنی والدہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ حج پر جانے سے پہلے وہ ملنے آئی تھیں۔ فاطمہ سے میری اچھی سلام دعا ہے۔ وہ اکثر غیر ملکی پروازوں پر بھی جاتی ہیں۔ وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔ والد کی وفات کے بعد بہن بھائیوں کی کفالت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے انہوں نے ایک نجی ائیر لائن میں ملازمت کر لی تھی۔ اچھی تنخواہ ملنے کے باعث رفتہ رفتہ ان کے گھر کے حالات بدلنے لگے۔ شادی کی اس تقریب میں ان کے ساتھ تفصیلی گفتگو کرنے کا موقع نہیں تھا۔ بس انہوں نے اتنا بتایا کہ میں اب بھی اسی ائیر لائن میں ہوں لیکن اب فضائی میزبانی کرنے کی بجائے ہیڈ آفس کے ایک انتظامی شعبے میں انچارج کے فرائض الحمدللہ حجاب میں ادا کر رہی ہوں۔ انہوں نے گھر آنے کی دعوت دی۔
چھٹی والے دن انہیں حج کی مبارک دینے کے لیے ان کے گھر گئے۔ گھر کے درو دیوار اور ڈرائنگ روم کی تزین و آرائش میں کافی تبدیلی محسوس ہوئی۔ مرحوم والد، والدہ اور بہن بھائیوں کی تصویریں اتری ہوئی تھیں۔ ان کی جگہ خانہ کعبہ، مسجد نبوی ؐ اور دیگر مقدس مقامات کی تصاویر، آیت الکرسی اور چاروں قل خوبصورت فریموں میں آویزاںنظر آئے۔ فاطمہ اور ان کی والدہ کو حج کی مبارکباد دی۔ دونوں نے سکارف اوڑھ رکھا تھا، لباس بھی ساتر تھا۔ یہ یقینا سچے دل سے حج کرنے کے اثرات تھے۔ فاطمہ بتانے لگیں کہ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اپنی رحمت سے ہمیں حج ادا کرنے کی سعادت نصیب کی، اللہ تعالیٰ ہمارے حج کو قبول فرمائے۔
فاطمہ اور ان کی والدہ نے حج کے سفر کے آغاز سے واپسی تک اراکین حج کی ادائیگی اور مقدس مقامات کی زیارت کے دوران اپنے ایمان افروز تجربات کا ذکر کیا۔ فاطمہ بتا رہی تھیں کہ سعودی عرب کی حدود میں داخل ہونے کے بعد جہاز سے ہرطرف سنگلاخ پہاڑ نظر آتے ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰؐ نے کتنے مشکل علاقے اور حالات میں یہاں سے اسلام کی شمع روشن کی۔ خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑنے کا ذکر کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئیں۔ سنا تھا کہ خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگی جائے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگا ہ میںضرور قبول ہوتی ہے۔ ہم نے آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ دنیا کی زندگی تو چند روز ہ ہے۔ آج نہیں تو کل ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ گفتگو کے دوران فاطمہ نے آب زم زم اور کھجوریں پیش کیں۔ وہ کہنے لگیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اہلیہ حضرت ہاجرہ ؑ کا اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو لے کر بے آب و گیاہ وادی میں رہنا، کھانے اورپانی کی تلاش میں صفا و مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات چکر لگانا، آب زم زم کا جاری ہونا اور عمرہ اور حج میںحضرت ہاجرہؑ کی سنت کو تازہ کرتے ہوئے صفا اور مروہ کی سعی کرنے کے بارے میں سوچتی ہوں کہ روزانہ لاکھوں مسلمان حضرت ہاجرہؑ کی اس سنت کو تازہ کرتے ہیں۔ یہ اعزاز دنیا کی تاریخ میں کسی اور خاتون کو حاصل نہیں ہوا تو کیوں نہ ہم خواتین کا عالمی دن حضرت ہاجرہ ؑ سے منسوب کر دیں۔ فاطمہ کی والدہ بتانے لگیں کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف اور نیک زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ حج پر جانے سے پہلے ہم اپنے تمام عزیز و اقارب سے اپنی غلطیوں اور اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگ کر گئے تھے اور اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ حج سے بخیریت واپسی ہو گئی تو قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھ کر قرآن اور سنت رسول ؐ پر چلنے اورگناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کریں گے۔
فاطمہ کے حجاب اوڑھنے اور فضائی میزبان کی پُر کشش اور پُر تعیش ملازمت چھوڑنے کے بارے میں تجسس برقرار تھا۔ استفسار پر وہ بتانے لگیںکہ جب ہم نے پہلی بار عمرے اور حج کے لیے احرام پہنا تو خود کو بہت محفوظ محسوس کیا اور اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ حج کے لیے اپنا سر اور جسم ڈھانپا ہے تو اسے ہمیشہ کے لیے برقرار رکھنا ہے۔ حج سے آنے کے بعد میں نے قرآن پاک میں سورۃ النور اور الاحزاب میں پردے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پڑھے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو پردے میں رکھ کر محفوظ کر دیا ہے۔ فضائی میزبان کی ملازمت تو مجبوراً کی تھی لیکن اپنی حدود اور اس ملازمت کے لیے اپنی ناپسندیدگی کو ہمیشہ برقرار رکھا۔ میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتی تھی میرے لیے اس کا متبادل کوئی انتظام کر دے۔ اللہ نے دعائیں قبول کیں۔ حجاب کرنے کے بعد میرے لیے فضائی میزبان کی ملازمت کرنا ممکن نہیں تھا۔ ہیڈ آفس میں متعلقہ حکام سے بات کی تو وہ اس پر راضی نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں نرمی ڈالی۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں ایک انتظامی شعبے میں حجاب کے ساتھ ملازمت کر رہی ہوں۔ تنخواہ کے الاؤنسز بلا شبہ کم ہوئے ہیں لیکن مجھے اس کی فکر نہیں۔ حج کر کے ظاہر اور باطن نہ بدلے تو حج کرنے کا فائدہ کیا۔
حج کے بارے میں ان کی باتیں سن کر اندازہ ہوا کہ انہوں نے واقعی سچے دل سے حج ادا کیا ہے اور باقی زندگی وہ قرآن و سنت کے مطابق گزارنا چاہتی ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر سے روزانہ لاکھوں مسلمان عمرہ اور ذوالحج کے مہینے میں اسلام کا پانچواں رکن حج ادا کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ بعض مسلمان اللہ تعالیٰ سے محبت اور خلوص نیت سے کئی عمرے اور ہر سال حج کرتے ہیں اگر ان کی سوچیں اور اعمال بھی بدل جائیں تو ہمارا معاشرہ سدھر جائے گا لیکن اپنی اصلاح کرنے سے بے فکری، حب الٰہی میںکمی اور فکر آخرت سے بے فکری کے باعث عمل نہیں بدلتے۔ حج ہر صاحب حیثیت مسلمان پر ایک بارفرض ہے۔ چند روز قبل ایک قریبی سہیلی سے ملاقات ہوئی تو وہ بتانے لگیں کہ ایک بار وہ حج کی سعادت حاصل کر چکی ہیں۔ ان کا ارادہ اس سال بھی حج کرنے کا تھا لیکن حج چونکہ ایک بار فرض ہے اور پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ؐ نے بھی ایک ہی حج کیا تھا اس لیے دوبارہ حج کرنے کا ارادہ ملتوی کر کے حج کی رقم غزہ کے مسلمانوں کی مدد کے لیے بھیج دی ہے۔
حج کے بعد اپنا محاسبہ کرنا ضروری ہے کہ زندگی میں کتنی تبدیلی آئی، کتنے خشوع و خضوع سے نمازیں ادا کر رہے ہیں، جن رشتے داروں سے تعلقات کشیدہ تھے ان کے قصور درگزر کر کے ان کے ساتھ تعلقات کتنے مضبوط کیے۔ کیا ہم نے ذات پات، قبیلوں، برادریوں، علاقوں اور زبانوں کے تعصبات سے بالا تر ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں سے محبت کرنا شروع کر دی ہے۔ کیا اپنے بچوں کی تربیت قرآن و سنت کے مطابق کر رہے ہیں، کیا بچوںکے رشتے کرنے میں ہم حسن، دولت اور ذات برادری کی بجائے سیرت کو ترجیح دے رہے ہیں، کیا اب بھی ہمارے گھروں کی تقریبات مخلوط ہو رہی ہیں، کیا ہمارے دستر خوان بھرے ہوئے اور ہمارے محلے میں رہنے والے غربا کے گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں، کیا سود سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حج کی اصل روح تو یہی ہے کہ زندگی نیکیوں میں بدل جائے۔
حج مسلمانوں کا عالمگیر اجتماع ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان حج کی ادائیگی کے دوران اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہوتے ہیں۔ اس وقت غزہ اور مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر سمیت کئی اسلامی ممالک میں مسلمان دہشت گردی کا شکار ہیں جن کے لیے اس سال حج کے خطبے کے بعد خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ حج ادا کرنے والے تمام مسلمان اللہ کے حضور گڑ گڑا کر ان کے لیے صدق دل سے دعائیں کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی دعائیں قبول فرمائے آمین۔ دعائوں کے ساتھ اس وقت خصوصاً غزہ کے قحط زدہ مسلمان ہماری مالی مدد کے منتظر بھی ہیں۔
حج نے زندگی بدل دی
09:14 AM, 25 Jul, 2025