امریکہ آج دنیا کا طاقتور ملک ہے، اسی مناسبت سے امریکی صدر کو دنیا کا طاقتور ترین صدر کہا جاتا ہے۔ کیا دنیا کے کسی ملک کا صدر امریکی صدر کے منہ پر محاورتاً ’’نہیں حقیقتاً‘‘ ایک چپت رسید کر سکتا ہے؟ یقینا نہیں لیکن دنیا میں ایک ملک اور اس کا صدر ایسا ہے جس نے امریکی صدر کے منہ پر چپت لگائی جواب میں وہ مسکراتا رہا۔ یہ ملک پاکستان ہے اور چپت لگانے والے صدر پاکستان کا نام فیلڈ مارشل ایوب خان ہے۔ اندازہ کر لیجئے ایسے بھی ہوتے ہیں فیلڈ مارشل، واقعہ ساٹھ کی دہائی کا ہے جان ایف کینیڈی امریکہ کے صدر تھے، امریکہ پر پاکستان کی محبت کا دورہ پڑا تھا۔ دل کا دورہ سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے، کبھی جان لے جاتا ہے، جان نہ بھی لے تو جسم کو کسی نہ کسی حد تک کمزور ضرور کرتا ہے۔ اگر یہ دورہ بار بار پڑے تو بالآخر ایک دن جان لے جاتا ہے۔ امریکیوں کی پاکستان سے محبت اور اس محبت میں پڑنے والے دورے بھی ایسے ہی ہیں، ان دوروں کے بعد پاکستان کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے قرضے حد سے زیادہ بڑھے ہیں۔ یہ قرضے ملک میں ڈویلپمنٹ کے نام پر دیئے جاتے ہیں لیکن بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم امریکہ سے اس کا بنایا مال خریدیں اور مال بھی وہ جو ہماری ضرورت کاشاید نہ ہو لیکن امریکہ اسے فروخت کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہو۔
جان ایف کینیڈی پاکستان کے دورے پر آئے تو بہت خوش تھے، ان کے ہمراہ ان کی بیگم جیکولین کینیڈی بھی تھیں۔ دونوں اپنی اپنی جگہ مردانہ اور زنانہ وجاہت کا خوبصورت نمونہ تھے۔ ہمارے صدر مملکت بھی کسی سے کم نہ تھے۔ چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد بھرا بھرا جسم ، چوڑے شانے، سرخ و سپید رنگ، وہ امریکیوں سے اچھی انگریزی بولتے تھے اور گرجدار آواز میں مجموعی طور پر ایوب خان متاثر کن شخصیت کے مالک تھے۔ مختلف تقریبات اور سفارتی میٹنگز کے بعد صدر امریکہ کے اعزاز میں صدر ایوب خان کی طرف سے الوداعی عشائیہ دیا گیا۔ عشائیے میں امریکی مہمانوں کو ان کے پسندیدہ مشروب پیش کئے گئے۔ امریکی صدر نے ایوب خان کے ساتھ ’’ٹوسٹ‘‘ کیا اور ان کے قریب ہی کھڑے ہو گئے جیکولین کینیڈی بھی ان کے ساتھ چمٹی ہوئی تھیں بالکل ایسے جیسے پاکستانی
بیویاں کسی تقریب میں شریک ہوں تو اپنے خاوند پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ چمٹے رہنا بھی اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ یہ اس دور کا فیشن تھا اب نہیں رہا اب تو میاں کہیں اور بیگم کہیں۔
جان ایف کینیڈی نے اپنے جام سے ایک چسکی لی اور صدر پاکستان کے مزید قریب آکر ان سے ایک بات کہی جس پر صدر پاکستان نے ان کی طرف غور سے دیکھا پھر جیکولین کینیڈی کو دیکھا اور جان ایف کینیڈی کے چہرے پر ایک چپت لگائی۔ پیار ہی پیار میں لگائی گئی اس چپت کے بعد صدر ایوب خان نے کہا ’’چل پرے ہٹ‘‘ اس پر تینوں کھلکھلا کر ہنس دیئے۔ جان ایف کینیڈی نے چلتے چلتے اس دورہ پاکستان کو کامیاب قرار دیا۔ ایسے ہی تاثرات کا اظہار پاکستانی صدر کی طرف سے کیا گیا۔ اسی روز ایک پاکستانی اخبار نے صفحہ اول پر ایک تصویر شائع کرتے ہوئے اس کے نیچے کیپشن دیا۔ صدر پاکستان امریکی صدر کو چپت رسید کرتے ہوئے۔ امریکیوں نے اس کا برا نہیں منایا بلکہ خوشی کا اظہار کیا کیونکہ ان پر پاکستان کی محبت کا دورہ پڑ چکا تھا۔
جان ایف کینیڈی امریکہ میں اوسولڈ کے ہاتھوں قتل ہو گئے تو ان کے نائب صدر مسٹر لنڈن بی جانسن صدر امریکہ بن گئے پھر انہیں پاکستان کی محبت کا دورہ پڑا تو وہ پاکستان تشریف لائے، دنیا کے ساتھ ساتھ اہل وطن نے محبت وارفتگی کے وہی مظاہرے ایک مرتبہ پھر دیکھے جو جان ایف کینیڈی کے دورہ پاکستان کے موقع پر دیکھ چکے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا لنڈن بی جانسن کے ساتھ کوئی جیکولین نہ تھی۔ لنڈن بی جانسن دراز قد، خوش مزاج حس مزاح رکھنے والے لیکن ’’فارغ البال‘‘ تھے، انہیں بھی پاکستان میں خوب پذیرائی ملی، اس وقت محبت کی آگ دونوں طرف پوری طرح بھڑک چکی تھی۔ پھر چین کی طرف متوجہ ہوئے تو امریکی محبت میں کچھ کمی آگئی۔ امریکہ پر پاکستان کی محبت کا تیسرا دورہ اس وقت پڑا جب جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان بنے، وقت آچکا تھا، امریکہ نے پاکستان سے اپنی محبت کا خراج لینے کا فیصلہ کر لیا، اس نے اپنے سب سے بڑے حریف روس کا راستہ روکنے کے لئے پاکستان کو روس کے خلاف جنگ میں جھونک دیا، ہم افغانوں کو ٹرینڈ کر کے ان کی پشت پر کھڑے رہے اور روس کی شکست و ریخت میں شریک رہے۔ ہمسائے سے تعلقات خراب کر لئے گئے لیکن اسی جنگ کی آڑ میں ہم نے امریکہ کو چکر دے کر نہیں اس کی صلاح سے ایٹم بم بنا لیا۔ ہم نے جو چکر امریکہ کو دیا وہ یہ تھا کہ روس بہت بڑا اور طاقتور ملک ہے پھر ایٹمی طاقت بھی ہے ہو سکتا ہے لڑائی لمبی ہو جائے اور روس پر ایٹم بم گرانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے۔ امریکہ اس بات پر بہت خوش ہوا کہ اسے روس پر ایٹم بم نہیں گرانا پڑے گا اور وہ جاپان پر ایٹم بم گرا کر جتنا ذلیل ہوا ہے اس سے بچ جائے گا اور اس ذلت میں اب ایک اور ملک شامل ہو جائے گا جس کی وہ اور یورپ بعدازاں عمر بھر مذمت کرتے رہیں گے پھر بھارتی ایٹم بم سے پاکستان کو تباہ کرا کے کہیں گے ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘۔
جنرل ضیاء الحق سمجھدار تھے، انہوں نے ایٹم بم بنا لیا اور اس کا کولڈ ٹیسٹ بھی کر لیا، ایٹم بم ٹیسٹ کرنے کیلئے تمام انتظامات اسی زمانے میں کئے گئے بعدازاں ان انتظامات کو ’’نکل پالش‘‘ کر لیا گیا۔ امریکہ نے جنرل ضیاء الحق سے ایک موقع پر فرمائش کی کہ اب روس پر ایٹم بم گرا دیا جائے۔ جنرل ضیاء الحق نے کہا ٹھیک ہے مگر وہ دل سے ایسا نہ کرنا چاہتے تھے، لہٰذا ٹال مٹول کرتے رہے اور وقت حاصل کرتے رہے، جب امریکہ کو یقین ہو گیا کہ جنرل ضیاء روس پر ایٹم بم نہیں چلائیں گے تو پھر جنرل ضیاء اور ان کی پوری ٹیم یعنی ایٹم بم بنانے والوں اور اس کی حفاظت کرنے والوں کی پوری ٹیم کی اڑا دیا گیا۔ امریکہ پر پاکستان کی محبت کا چوتھا دورہ جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں پڑا، ہم دہشت گردی کی نام نہاد جنگ میں آلہ کار بنے اور قریباً دس برس تک استعمال ہوتے رہے۔ محبت کا پانچواں دورہ امریکہ پر آج سے تین برس قبل پڑا ہے۔ امریکہ اپنی پہلی محبت یعنی بھارت کو بھول کر ہم سے کیا چاہتا ہے۔ وہ یقینا نکاح نہیں چاہتا بلکہ نکاح کے بغیر ہی سب کچھ کرنا چاہتا ہے۔ بھارت بڑی اکانومی، امریکہ کیلئے ایک بڑی مارکیٹ، اس کی مصنوعات کا بڑا خریدار اور خطے میں اس کا بڑا سہولت کار ہے، اس کی بھارت سے ناراضی محض ڈھونگ ہے۔ وہ پاکستان کو پھنسا کر استعمال کرے گا اور پھر آنکھیں پھیرلے گا۔ ہمارے لئے ضروری ہے ہم گھر اور گھاٹ میں سے ایک ٹھکانے کا انتخاب کر لیں۔ دو کشتیوں کے سوار ڈوبتے ہی دیکھے ہیں پار نہیں پہنچتے۔ ہمارے فیلڈ مارشل تو ہیں لیکن چپت لگانے کے حالات نہیں ہیں۔ قرضوں میں جکڑے جا چکے ہیں، پہیہ نہیں چل رہا۔
گھر اور گھاٹ سے ایک کا انتخاب
09:12 AM, 25 Jul, 2025