تحریک انصاف پنجاب کی قیادت کو انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سزائیں سنا دیں ۔ دوستو ں کا خیال ہے کہ اپنے ہاںسزائیں ’’ چائنہ میڈ‘‘ ہوتی ہے چلیں تورات تک ورنہ اگلی بات تک ۔۔۔ یقینا دوستوں کو یہ خیال ماضی قریب میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے’’ نیلسن مینڈیلا ‘‘مسٹر آصف علی زرداری کی سزائیں دیکھ کر ہی آیا ہو گا ۔ سو اِس بار بھی وہ سمجھتے ہیں کہ قید و بنداِن ’’ لیڈرو ں‘‘ کی عنقریب رہائی کا پروانہ ہے ۔یقینا میں ایسا نہیں سمجھتا اور 9مئی کے بعد میں تواتر اور تسلسل سے اس انجام کے بارے میں تحریر کر رہا تھا جس کا آغاز خود چیف ایگزیکٹو پاکستان تحریک انصاف مسٹر عمران احمد خان نیازی نے کیا تھا ۔ مقتول اور قیدی کے ساتھ سب کی ہمدردی ہوتی ہے مقتول خواہ ڈکیت اورزانی ہی کیوں نہ ہو او ر یہی حال سیاست میں سزا یافتہ ’’ قائدین ‘‘ کا ہوتاہے کہ وہ اپنے تمام جرائم کو ’’ عوامی خدمت ‘‘ کا صلہ قرار دے کر اُس پر ’’ مٹی پائو ‘‘ کا فریضہ سرانجام دے دیتے ہیں ۔9مئی کے بعد بھی عمران نیازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ جب عوامی لیڈرز کو گرفتار کریں گے تو یہ سب کچھ آپ کو دیکھنا پڑے گا لیکن بعد میں کسی عقل مند نے سمجھایا کہ مسٹر عمران نیازی جو کچھ آپ نے کیا ہے وہ ناقابل معافی اور ناقابل ِ رعایت جرم ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتار ی کے بعد جب اُس کے بیٹوں نے الذوالفقار بنا کر ضیاء رجیم کے خلاف عسکری جدو جہد شروع کی تو ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنے بیٹوں سے قطع تعلق کرلیا اور اُن کی ریاست مخالف کارروائیوں کو کبھی ’’اون ‘‘ نہیں کیا ۔ عمران نیازی نے وہ سب کچھ بیوقوفوں کی طرح کیا جو انقلابی لیڈر اُس وقت کرتے ہیں جب سارے سماج کی حمایت حاصل کرلیتے ہیں اور اُن کی تنظیم ریاستی تنظیم سے زیادہ طاقتور ٗ منظم اور فعال ہو جاتی ہے ۔ انسانی تاریخ میں جب بھی کوئی ریاست کے ساتھ کمزور عوامی طاقت لے کر ٹکرایا ہے ریاست نے پھر اُسے کبھی دوسرا موقع نہیں دیایہی غلطی عمران نیازی نے نہ جانے کس کے کہنے پر کردی اوراب پی ٹی آئی کے قائدین لاکھ اپنی بے گناہی کا رونا روتے رہیں لیکن یہی سچ ہے کہ 9 مئی ریاست کے خلاف ایک منظم سازش تھی جو پایہ تکمیل تک پہنچنے سے پہلے اپنے انجام کو پہنچ گئی ۔ کسی نے عمران نیازی کو یہ غلط فہمی ڈال دی تھی کہ آپ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے لیڈر ہیں اور اسی غلط فہمی کی بنیادپر وہ ’’ جنگ کے گھوڑے‘‘ اصطبل میں چھوڑ کر ’’ جنج کے گھوڑے‘‘ اپنے ساتھ لے گیا جو اب شکست کے بعد دیوانہ وار رقص کررہے ہیں۔پی ٹی آئی کے دوستوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ جتنا ظلم اُن کے ساتھ ہوا ہے اُتنا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا ۔ اسی موقع پرعلمائے بشریات لکھتے ہیں کہ ’’ لاعلمی بھی رحمت ہوتی ہے۔‘‘ اگر یہ لوگ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ پڑھ لیں تو ان کی ساری غلط فہمیاں نکل جائیں جہاں قیدیں ٗ کوڑے ٗپھانسیاں اور جلا وطنیاں عام تھیں حالانکہ انہوں نے افواج پاکستان پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا ۔ اُس وقت صرف ضیائی فوجی جنتا نے سامراجی قوتوں کے ساتھ مل کر افغانستان جنگ کو گرم کرناتھا او رروس کو وہاں گھسیٹ کر لانا تھا۔ عمران نیازی اب اُسی دن اقتدار میں آئے گا جس دن خدا نخواستہ پاکستان میں فوج نہیں ہوگی ۔ فوج سے لاکھ اختلاف سہی ٗ فوجی بغاوتوں سے نفرت بھی سہی ٗ سمری ملٹری کورٹس کی سزائیں بھی قابل نفرت اور کوڑے ٗ جلا وطنیاں بھی قابل ِ مذمت لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے درمیان اگر کوئی دیوار ہے تووہ صرف افواج ِ پاکستان ہے ۔ پاکستان کا مسئلہ کبھی فوج کانہیں رہا بلکہ نافرمان جرنیلوں کا رہا ہے کیونکہ فوج تو آپ نے کامیاب انقلاب کے بعد بھی رکھنی ہے لیکن عمران نیازی کا طرز سیاست بتا رہا تھا کہ وہ یا تو فوج کے بغیر پاکستان چلانا یا پھر طالبا ن کواپنے دفاع کی ذمہ داری دینا چاہتا تھا لیکن ایسا وقت تو قیامت کی صبح تک نہیں آئے گا ۔
انسداد دہشتگردی کی عدالت سے سزا پانے والوں میں مجھے صرف عمر سرفراز چیمہ کا دُکھ ہے کہ وہ انتہائی نفیس انسان ہے اور حقیقی پی ٹی آئی بھی۔ اُس نے 1997 ء میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر چراغ کے نشان پر الیکشن لڑا اور پھر پنجاب یوتھ کا صدر اورچیف ایگزیکٹو تحریک انصاف کا ترجمان بھی رہا ۔ فیملی اور سُسرالی بیک گرائونڈ بھی فوجی تھا۔ ہم نے اکھٹے بہت سے خواب دیکھے اور بہت سے حسین خوابوں کی خوفناک تعبیر بھی ۔ وہ جیلیں کاٹنے والا شخص نہیں تھا ٗ پُرامن ٗ تعلیم یافتہ ٗ محبت کرنے والا لیکن عمران نیازی کے جھانسے میں آگیا ۔
میری حیرت اب بھی ختم نہیں ہو رہی کہ مطلوب مراد سعید سینٹر بن رہا ہے ۔ میاں اسلم اقبال ڈھونڈے سے نہیں مل رہا ٗ زبیر نیازی نہ جانے کہاں روپوش ہو چکاہے ؟ کیا انہیں افواج پاکستان نے خود رعایت دے رکھی ہے یا پھر وہ واقعی ہماری ریاستی طاقت سے زیادہ طاقت ور ہیں ؟ میں آج اُن تمام لوگوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہوں جنہوں نے عمران نیازی کے پاگل پن کا ساتھ نہیں دیا ۔ بلاشبہ سیاسی ورکر سماج کا سب سے بہادر فرد اور زیرک انسان ہوتا ہے ۔ آج عبد العلیم خان کے سیاسی فیصلوں کی داد دینا پڑے گی کہ اُس نے اپنے ساتھیوں کو کسی ادارے پر حملہ نہیں کرنے دیا ۔ عبد العلیم خان اس حوالے سے بھی قابل ِ ستائش ہے کہ اُس نے عمران نیازی کے مجرمانہ ذہن کو بہت پہلے پڑھ کر علیحدگی اختیار کر لی ۔ کسی کی جماعت میں چھوٹا عہدہ لینے کے بجائے عبد العلیم خان نے اپنی سیاسی جماعت بنا لی اور عزت کے ساتھ پاکستان کی خدمت کر رہاہے ۔اُس کے فلاحی ادارے اور سیاسی جدوجہد ہر دو صورتوں میں قابل ستائش ہیںکہ وہ عوام کیلئے ہیں۔ وہ عمران نیازی اوراُس کے ساتھیوں کے اس انجام پر خوش ہونے والا شخص نہیں افسوس کرنے والا مرد ِ قلندر ہے ۔ عبد العلیم خان ہر حوالے سے ایک بڑا انسان ہے یہی وجہ ہے کہ اُس کی محفل میں میں بیٹھ کر کسی کو اپنے چھوٹے ہونے کا احساس نہیں ہوتا جبکہ عمران نیازی تو اقتدار میں آتے ساتھ ہی فرعون بن چکا تھا ۔عمرا ن نیازی اپنے دوست اور دشمن دونوں کیلئے یکساں بے رحم تھا جبکہ عبدالعلیم خان کے ساتھ ایک طویل سفر کرنے کے بعد مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ وہ عام آدمی کی فلاح کے بارے میں سوچتا رہتا ہے اور جب بھی اُسے موقع ملتا ہے وہ عام آدمی کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ عمران نیازی اورجیل میں بند اُس کے ساتھیوںکو آج عبد العلیم خان اور اُس کے ساتھیوں کے فیصلے پر رشک تو آتا ہو گا۔
’’چائنہ میڈسزائیں ‘‘اور پی ٹی آئی کی قیادت
09:12 AM, 25 Jul, 2025