پاکستان میں جب بھی شادی، مذہب اور قانون کی بات اکٹھی آ جائے تو معاملہ اتنا سیدھا نہیں رہتا، اسی وجہ سے مولانا فضل الرحمٰن کے شادی کے لیے اٹھارہ سال کی شرط کو غیر اسلامی قرار دینے کے بیان نے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مولانا صاحب بالکل درست کہہ رہے ہیں، جبکہ کچھ نے اس بیان کی سخت مخالفت شروع کر دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ نہ تو اتنا آسان ہے جتنا حمایت کرنے والے سمجھتے ہیں اور نہ اتنا سادہ جتنا مخالفت کرنے والے دکھاتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آزادی کے تقریباً اسی سال بعد بھی ہم واضح طور پر یہ طے نہیں کر پائے کہ پاکستان کا معاشرہ کس قسم کے قوانین کے تحت چلایا جائے گا۔اس معاملے میں کچھ لوگ مذہب کی طرف دیکھتے ہیں اورکچھ مغرب کی طرف۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ ہم پوری طرح مذہبی رہ پاتے ہیں اور نہ ہی مغرب زدہ۔ ملک میں شادی کی عمر کی حد کے حوالہ سے مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیان نے اس الجھن کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ ان کے ایک جملے نے پورے معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ مولانا صاحب نے بالکل ٹھیک بات کی ہے، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اسے بچوں کے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کا موقف سادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام نے شادی کے لیے اٹھارہ سال کی کوئی شرط مقرر نہیں کی۔ اسلام بلوغت، عقل اور ذمہ داری کو دیکھتا ہے، نہ کہ شناختی کارڈ پر لکھی عمر کو۔ ان کے مطابق نکاح ایک عبادت ہے، اسے مشکل بنانا معاشرتی بگاڑ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب نوجوانوں کو جائز اور حلال راستہ نہیں ملتا تو وہ غلط راستوں کی طرف چلے جاتے ہیں اور اس کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتاہے۔
یہ بات بہت سے لوگوں کے دل کو لگتی ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو خود کو مذہب کے قریب سمجھتے ہیں یا دیہی یا قبائلی پس منظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے گاو¿ں دیہات اور قبائل میں آج بھی کم عمری کی شادیاں ہوتی ہیں، اور سب خراب نہیں ہوتیں۔ بہت سی لڑکیاں خوش ہیں، گھر بسا رہی ہیں، بچے پال رہی ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ عمر نہیں بلکہ نیت اور تربیت ہے۔ اگر خاندان ساتھ دے، شوہر ذمہ دار ہو اور ماحول سازگار ہو تو کم عمری کی شادی بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے موقف کے حامی یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ آج کے دور میں فحاشی عام ہو چکی ہے۔ موبائل فون ہر بچے کے ہاتھ میں ہے۔ سوشل میڈیا پر وہ سب کچھ موجود ہے جو پہلے بڑے شہروں کے مخصوص علاقوں تک محدود تھا۔ ایسے ماحول میں نوجوانوں کو صرف نصیحتیں کرنا کافی نہیں۔ اگر ان کے جذبات کا کوئی حلال راستہ نہ دیا گیا تو وہ گناہ کی طرف جائیں گے۔ اسلام اسی لیے نکاح کو آسان بنانے کا حکم دیتا ہے، تاکہ معاشرہ پاکیزہ رہ سکے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ آج لوگوں کے وہ مسائل نہیں جو پچاس یا سو سال پہلے تھے۔ زندگی بہت مشکل ہو چکی ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، تعلیم کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ ایک بچہ یا بچی جب تک پڑھ لکھ کر کچھ نہ بن جائے، وہ خود اپنے فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ کم عمری کی شادی خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے خاتمہ کا سبب بن جاتی ہے۔اس کے علاوہ کوئی نوجوان جب تک اپنا روزگار کمانے کے قابل نہیں ہوتا اس کی شادی نہیں کی جانی چاہیے۔
مخالفین یہ بھی کہتے ہیں کہ کم عمر لڑکیاں جسمانی اور ذہنی طور پر شادی اور ماں بننے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ کم عمری میں شادی کے بعد صحت کے مسائل، زچگی کے خطرات، ذہنی دباو¿ اور گھریلو جھگڑے عام ہو جاتے ہیں۔ بہت سی لڑکیاں خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتی ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں لڑکی کا بولنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ان کے مطابق اسلام کسی انسان پر ظلم یا نقصان کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے ہر وہ عمل جو نقصان دہ ثابت ہو سکے، چاہے نیت اچھی ہی کیوں نہ ہو، پر جدید تقاضوں کی روشنی میں غور کیا جانا چاہیے۔
اس سلسلہ میں دلائل دینے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں شادی کے لیے کم عمر لڑکیوں کی اجازت اکثر صرف رسمی ہوتی ہے۔ ان سے پوچھا تو جاتا ہے، مگر انہیں سمجھایا نہیں جاتا۔ کم عمری میں یقینا وہ اس بات کا اندازہ نہیں کر پاتیں کہ شادی کے بعد ان کی زندگی میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہو جائیں گی۔
اس قسم کی صورتحال میں ایک عام آدمی کنفیوژن کا شکار ہے کہ آخر وہ کس موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہو؟ مولانا فضل الرحمٰن کی باتیں بھی مکمل غلط نہیں لگتیں، اور مخالفت کرنے والوں کی باتوں میں بھی وزن ہے۔ شاید اصل مسئلہ عمر کی حد نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کی کمزوری ہے۔ ہم شادی کو صرف ایک رسم بنا چکے ہیں، ذمہ داری نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچی گھر سنبھالے، مگر یہ نہیں چاہتے کہ وہ پڑھے لکھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لڑکا شوہر بنے، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کمانے کے قابل ہے یا نہیں۔ اسلام نے نکاح کو آسان ضرور بنایا ہے، مگر لاپرواہ نہیں بنایا۔ اسلام نے ذمہ داری، عدل اور حسن سلوک کا بھی حکم دیا ہے۔ اگر کم عمر شادی ہو بھی رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ اگر چاہے تو کیالڑکی کی تعلیم جاری رکھ سکے گی؟ کیا ہم اچھے طریقے سے اس کی صحت کا خیال رکھ پائیں گے؟ کیا شوہر واقعی ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہے؟ اگر ان سوالوں کا جواب نہیں میں ہے تو پھر مسئلہ عمر کا نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ یہاںریاست کا کردار بھی بہت اہم ہو جاتا ہے۔ قانون کا مقصد مذہب سے لڑنا نہیں بلکہ کمزور کو تحفظ دینا ہونا چاہیے۔ اگر قانون نہ ہو تو طاقتور کمزور کو کچل دیتا ہے۔ اور اگر قانون حد سے زیادہ سخت ہو تو مسائل چھپنے لگتے ہیں۔ بہتر راستہ وہی ہے جو بیچ کا ہو، جہاں قانون بھی انسان کو دیکھے اور مذہب بھی انسانیت کے خلاف استعمال نہ ہو۔
مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ ہم ایک بار پھر سوچنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ہم انتہاو¿ں سے نکل کر حقیقت کی طرف آئیں۔ نہ ہر مخالفت کرنے والا مغرب کا ایجنٹ ہے اور نہ ہر حمایت کرنے والا عورت دشمن۔ اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بس ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں۔
شادی کوئی کھیل نہیں، چاہے عمر سولہ ہو یا چھبیس۔ اگر ہم شادی کو سمجھداری، رضامندی اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑ دیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ اسلام بھی یہی سکھاتا ہے اور ایک صحت مند معاشرہ بھی یہی چاہتا ہے۔ ہمیں فیصلے غصے یا جذبات میں نہیں بلکہ ہوش، حقیقت پسندی اور انصاف کے ساتھ کرنے ہوں گے، کیونکہ اس کا اثر صرف ایک خاندان پر نہیں بلکہ پوری نسل پر پڑتا ہے۔
مذہب اور قانون کو علیحدہ نہ کریں
09:31 AM, 25 Jan, 2026