طالبان رجیم "صنفی تفریق" کا مرتکب: اقوام متحدہ میں افغان خواتین پر مظالم کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ

03:42 PM, 25 Feb, 2026

نیویارک : افغانستان میں خواتین کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے پر عالمی سطح پر شدید احتجاج جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کی صدر اور سابق جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے افغان خواتین کی صورتحال کو دنیا کے لیے ایک تازیانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان رجیم خواتین پر ظلم و ستم کی عالمی علامت بن چکا ہے۔انالینا بیئربوک نے انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ طالبان کی پالیسیاں محض اندرونی معاملہ نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔ ان کے خطاب کے اہم پہلو یہ تھے بچیوں کے سکولوں کی بندش اور خواتین کے کام کرنے پر پابندی نے پورے ملک کو انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔
 خواتین ورکرز پر پابندی لگا کر طالبان نے بین الاقوامی امداد کی تقسیم کو ناممکن بنا دیا ہے، جس کا نقصان براہِ راست افغان عوام کو ہو رہا ہے۔عالمی ماہرینِ قانون نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے خلاف برتاؤ کو "صنفی تفریق" قرار دے کر اسے بین الاقوامی سطح پر ایک باقاعدہ جرم کے طور پر ڈیل کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق   طالبان کی جانب سے خواتین کو سماجی زندگی سے مکمل طور پر بے دخل کرنا انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کی بدترین مثال ہے، جس کا نوٹس لینا اب پوری دنیا پر فرض ہے۔
رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں خواتین کی نقل و حرکت، لباس اور سماجی زندگی پر عائد سخت پابندیوں نے ان کے حقوق کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک طالبان خواتین کو ان کے حقوق فراہم نہیں کرتے، وہ عالمی برادری کا حصہ بننے کے لیے نااہل رہیں گے۔

مزیدخبریں