سرحد پار دہشت گردی کا فروغ طالبان کے لیے گلے کا طوق: افغان جریدے نے "سفارتی ناکامی" کا کچا چٹھا کھول دیا

03:31 PM, 25 Feb, 2026

کابل : افغان سرزمین پر قبضے کے بعد دہشت گرد عناصر کی مسلسل پشت پناہی طالبان رجیم کے لیے سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔ معروف افغان جریدے "ہشت صبح" نے اپنی حالیہ رپورٹ میں طالبان کی عسکری اور سفارتی ہزیمت کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کی سرپرستی نے افغانستان کو عالمی سطح پر تنہا اور معاشی طور پر تباہ کر دیا ہے۔
افغان جریدے کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی دہشت گرد پروری کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے اہم پہلو درج ذیل ہیں۔ ایٹمی طاقت پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کا براہِ راست عسکری ٹکراؤ طالبان کے لیے نہ صرف خطرناک بلکہ انتہائی مہنگا ثابت ہوگا۔متعدد طالبان حکام اب خود بھی بالواسطہ طور پر افغان سرزمین پر 'فتنہ الخوارج' کی موجودگی کا اعتراف کر رہے ہیں۔
 سرحدی بندشوں کے نتیجے میں افغانستان میں خوراک اور ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے، جو کہ اب عام افغان شہری کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔
جریدے نے دو ٹوک الفاظ میں لکھا ہے کہ جب تک طالبان اقتدار پر قابض ہیں اور دہشت گردوں کی سہولت کاری جاری ہے، افغانستان عالمی سیاست اور سفارت کاری میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر پیش کیے گئے ناقابلِ تردید شواہد کے بعد اب دنیا بھر میں افغان سرزمین کو دہشت گرد پناہ گاہوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان سے دنیا بھر میں ہونے والے بزدلانہ حملے اب طالبان رجیم کی اصل پہچان بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب افغان عوام اور مقامی میڈیا بھی اس سفاکانہ پالیسی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ سرحد پار دہشت گردی کا یہ فروغ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

مزیدخبریں