افغانستان اور بھارت کی خوش فہمیوں کا یہ عالم ہے کہ فرمایا گیا افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ کرے گا مگر فوری طور پر ہمارے منہ میں جو جواب آتا ہے وہ بعینہٖ ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چودھری دے دیتے ہیں۔ فرمایا تم دائیں سے بائیں سے آگے سے پیچھے سے آئو ایک بار مزہ نہ کروا دیا تو کہنا وطن عزیز کے مشترکہ دل میں جو جواب ہوتا ہے وہ ڈی صاحب دے دیتے ہیں ایسے کہ دل میں ’’ٹھنڈ‘‘ پڑ جاتی ہے…
فوج کو اس وقت بیرونی اور اندرونی دشمنوں سے بیک وقت نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔ باہر اگر بھارت اور افغانستان سر اٹھانے کی جرأت کرتا ہے تو قوم کا سر جہاں فخر سے بلند ہوتا ہے اسی قوم کے اندر یہودی ایجنڈے کے مآخذ خان نے ایک ایسا تخریب کار ٹولہ جمع کر دیا ہے جو بھارت اور افغانستان سے بھی زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ کھلے اور غیر دشمن کا مقابلہ کرنا آسان ہے مگر اپنے ہی گھر کے کونوں کھدروں میں چھپے دشمن کو پہچاننا مشکل بھی ہے اور شریف لوگوں کے درمیان ایسے منفی لوگوں کی سرکوبی کرنا بھی نہایت دانش کا متقاضی ہے۔
پاکستان کی قومی سیاست پر الحمدللہ اس وقت اللہ نے وہ عروج دیا ہے کہ بیک وقت چائنہ، امریکہ، روس اور اسلامی ممالک سے تعلقات یکساں نہج پر عمدہ ترین ہیں۔ امریکہ جیسے طاقتور ملک کے صدر ٹرمپ ہمارے سپہ سالار اور وزیراعظم کو ایک با عزت اور پروقار ملک کے سربراہان کی مانند عزت دیتے ہیں۔ گزشتہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی عمدہ جنگی حکمت عملی اور بھارتی چوہوں کی مانند کئے جانے والے حملوں کا بھرپور جواب جہاں ملک کو باوقار ملکوں کی صف میں جاکھڑا کرتا ہے وہیں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بہادری کے ساتھ اعلان کر کے جوابی حملہ مزید اوج ثریا پر پہنچا دیتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’اب ہمارے جواب کا انتظار کرو‘‘ دلیری، شجاعت، بہادر بھی ہمارے بری، بحری اور فضائی جوانوں پر ناز کرتی ہے۔
اندرونی دشمنوں کی طرح افغانستان اور اس کے ملحقہ طالبان، کلعدم جماعتیں، خوارج الہند، بی ایل اے اور کشمیر دشمن دجماعتوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے انتقامی گروپ ایک پیج پر ہیں مقام حیرت یہ کہ اول تو قوم یوتھ پاک بھارت جنگ ہی سے منکر رہی مگر جب پورے عالم میں ہماری افواج کے نام کا ڈنکا بجا تو بجائے شرمندہ ہونے کے پاکستانی موقف کی بجائے بھارتی میڈیا کے ساتھ جاکھڑے ہوئے خان کی ایک بہن نورین نے تو بھارتی میڈیا کو پاک مخالف بیان تک دے دیا ایسے میں کیا فرق رہ جاتا ہے الطاف حسین میں اور ان لوگوں میں ابتداء میں ہم سمجھتے تھے کہ خان عبدالولی خان (جسے سرحدی گاندھی بھی بھی کہا جاتا تھا) اور اس جیسی سرحدی پارٹیوں کے لوگ اور چند مذہبی جماعتوں کے سربراہ نظریہ پاکستان کے خلاف ہیں مگر پاکستان بننے کے اتنے برس بعد بھی ہمارے نوجوانوں کو اس حد تک گمراہ کیا گیا کہ وہ بھارت کے ساتھ جنگ میں کھڑے نظر آئے ایسے میں جب ہمارے بری فوج کے سپاہی سینے پر شجاعت سجائے محاذوں پر سینہ تانے جان دینے کے لئے کھڑے تھے کہ ہم محفوظ رہیں۔
فضائیہ نے تو آسمانوں پر اللہ کی مدد سے بھارت کو دن میں تارے اور رات میں حملوں کا انجام دکھا دیا پوری دنیا میں پاکستانی پائلٹ پہلے ہی بہترین سمجھتے جاتے ہیں مگر اس بار تو ’’اسرار خودی‘‘ سے سجے اقبال کے شاہین ہی بنے نظر آئے…
بحری افواج اور ہمارے سمندروں کی جانب کسی کی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ ہو سکی…
بات ہو رہی تھی خفیہ دشمنوں کی جو کبھی مساجد میں بم پھوڑ دیتے ہیں، کبھی چوراہوں میں انسانوں کی جان لیتے ہیں۔ کھل کر لڑنے کی نہ ان کی پوزیشن ہے نہ اوقات جبکہ پاکستان کی افواج کو دوبدو لڑنا اور فتح یاب ہونا آتا ہے…
نوجوان کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں اور ان کو اپنے ہی وطن کے خلاف بہکانا اپنے قومی دن منانے سے منع کرنا اپنے پرچم کی عزت نہ کرنا بلکہ ایک مخصوص جماعت کے سربراہ ہی کو حتمی و آخری سمجھنا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ سچ رہ جاتا ہے اور جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے، تاریخ بتاتی ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن (مشرقی پاکستان) ایم کیو ایم کا الطاف حسین پوری فورس سے آئے پاکستان کو منتشر کیا اور دگنی فورس سے پاکستان سے فارغ ہو گئے اور الحمدللہ پاکستان اپنی جگہ پر قائم دائم رہا اور بقول ہمارے سپہ سالار سید عاصم منیر ہمیشہ قائم دائم رہے گا ختم ہوں گی یہ منفی قوتیں جو بھارت اور اس کے اتحادیوں کے ہمراہی کھڑی ہیں کیونکہ پاکستان اللہ کا تحفہ ہے جس کے لئے صحیح سپہ سالار نے کہا… پاکستان ہمیشہ زندہ باد…
پاکستان ہمیشہ زندہ باد…
09:04 AM, 25 Feb, 2026