پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخی، جغرافیائی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک طویل مشترکہ سرحد (ڈیورنڈ لائن) اور پشتون اکثریتی آبادی کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔تاہم دونوں ممالک کے مابین تعلقات اتارچڑھائو کا شکار اور مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی کے باوجود سرحدی تنازعات اور سیاسی مداخلت کے مسائل میں الجھے رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے کشیدہ تعلقات کی جڑیں 1893ء میں شروع ہونے والے مسئلہ پختونستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس وقت برطانوی راج کے نمائندے سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ نے برطانوی ہندوستان اور افغانستان کو الگ کرنے کے لیے ڈیورنڈ لائن کی بنیاد رکھتے ہوئے ایک سرحد قائم کی جس سے پختون قبائل دو حصوں میں تقسیم ہوئے لیکن انہوں نے اس تقسیم کو ماننے سے انکار کر دیا ۔ یہ جمود 1947ء میں تقسیم ہندتک جاری رہا۔ 30 ستمبر 1947ء کو افغانستان دنیا کا وہ واحد ملک تھا جس نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔ افغانستان نے برطانوی دور کی طے شدہ سرحد (ڈیورنڈ لائن) کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس کشیدگی کے باوجود افغانستان نے 29 فروری 1948ء کو پاکستان کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔1960ء اور 1961ء میں افغان وزیراعظم دائود نے دو مرتبہ اپنے فوجیوں کو صوبہ خیبرپختونخوا میں بھیجا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ستمبر 1961ء میں کابل اور اسلام آباد کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے۔ سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان افغان مزاحمت کاروں کا اہم ترین حامی بن کر ابھرا۔ اس دوران لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی۔ روس کو افغانستان میں شکست ہوئی اور اسے ناکام یہاں سے لوٹنا پڑا تو افغان قبائل میں اقتدار کی لڑائی شروع ہو گئی۔ ملک بدامنی کی لپیٹ میں تھا کہ تحریک طالبان کے نام سے ایک گروہ ابھر کر سامنے آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے افغانستان کے ایک بڑے حصہ پر اقتدار جما لیا۔ پاکستان ان تین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے افغانستان میں طالبان کی پہلی حکومت (اسلامی امارت) کو تسلیم کیا تھا۔طالبان نے 1996ء سے 2001ء تک افغانستان کے بڑے حصہ پر حکومت کی ‘ امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا۔اس کے بعد حامد کرزئی کی قیادت میں ایک حکومت تشکیل دی گئی ۔ طالبان حکومت کے بعد پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات بھی سردمہری کا شکار رہے۔ 2021ء میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد طالبان نے یکے بعد دیگرے افغانستان کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا اور اگست 2021ء میں کابل پر بھی قبضہ کر لیا۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد تعلقات میں بہتری کی امید تھی لیکن مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان کے افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں اور ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے تنازع نے دوبارہ تلخی پیدا کر دی ۔ اکتوبر 2025ء کے دوران طورخم اور چمن کے مقامات پر شدید سرحدی جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد فریقین نے دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
اب ایک بار پھر پاک افغان سرحد پر امن کی فاختہ بارود کے دھوئیں میں کہیں کھو گئی ہے۔ خوست، پکتیکا اور ننگرہار کی فضاؤں میں گونجنے والے دھماکوں نے نہ صرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو لرزا دیا بلکہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی برف کو مزید سخت کر دیا ہے۔ پاکستان کا یہ اقدام جسے ’صبر کے پیمانے کے لبریز ہونے‘سے تعبیر کیا جا رہا ہے درحقیقت ایک ریاست کی اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے آخری آپشن ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنزمیں 80 سے 100 کے قریب دہشت گرد ٹھکانے لگائے گئے جن میں ’فتنہ الخوارج‘ کے اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے سکیورٹی خدشات ہیں کہ ’فتنہ الخوارج‘ کو افغان سر زمین پر محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں،تو دوسری طرف طالبان انتظامیہ اسے اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دے رہی ہے۔ آپ اس بات پر بحث کر سکتے ہیں کہ عالمی قانون کے تحت اگر کوئی ریاست اپنی زمین کو دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روک سکے، تو متاثرہ ریاست کو دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے یا نہیں۔میرے خیال میں ریاست کا دفاع کا حق حاصل ہے۔ اس کشیدگی میں بھارت کی جانب سے افغان موقف کی فوری حمایت ایک اہم پہلو ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ پاک افغان دوری کا سب سے زیادہ فائدہ خطے کے ان عناصر کو ہوگا جو پاکستان کو دو محاذوں پر الجھا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کابل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشتگردوں کی پشت پناہی خود اس کے اپنے مستقبل کیلئے خطرہ ہے جبکہ اسلام آباد کو اپنی افغان پالیسی میں اعتماد کی بحالی کیلئے نئے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان میں جب بھی بدامنی ہوئی اس کا پہلا اور سب سے بڑا اثر پاکستان پر پڑا۔ پاکستان نے 40 سال تک لاکھوں افغان بھائیوں کی میزبانی کی لیکن بدلے میں وہاں سے دہشت گردی کا تحفہ ملنا کسی المیے سے کم نہیں۔ اس سنگین صورتحال پر جہاں عالمی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے وہیں بھارت کی جانب سے کابل کے موقف کی فوری تائید یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ صرف دو ممالک کا سرحدی تنازع نہیںبلکہ اس کے پیچھے علاقائی سیاست کے گہرے مہرے کارفرما ہیں۔
پاکستان اور افغانستان ہر دو کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تاریخ اور جغرافیہ بدلے نہیں جا سکتے۔ یہ محض دو پڑوسی ممالک نہیں بلکہ عقیدے، ثقافت اور خون کے رشتوں میں بندھے ہوئے دو ایسے وجود ہیں جن کا سکون ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ حالیہ فضائی کارروائیاں کسی ملک کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں بلکہ ایک ریاست کا اپنے دفاع میں اٹھایا گیا وہ قدم ہے جس کی نوبت برسوں کی خاموشی کے بعد آئی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ کابل کی عبوری حکومت ’خارجی فتنہ پروروں‘ کی ڈھال بننے کے بجائے ایک ذمہ دار ریاست کا ثبوت دے کیونکہ بارود کی یہ بو اگر ایک بار سرحدوں کے پار پھیل گئی تو اس کی لپیٹ سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔ پاکستان کو بھی ایک ایسی مربوط گرینڈ سٹرٹیجی وضع کرنا ہو گی جس میں فوجی ایکشن کے ساتھ ساتھ موثر سفارت کاری اور انٹیلی جنس تعاون کا راستہ کھلا رہے۔ امن کی راہ مشکل ضرور ہے مگر یہ بندوق کی گولی سے نہیں بلکہ میز پر بیٹھ کر دیانتداری سے کیے گئے فیصلوں سے ہی نکلے گی۔ اب گیند کابل کے کورٹ میں ہے کہ وہ برادر پڑوسی کے ہاتھ کو تھامتا ہے یا ان قوتوں کے ایجنڈے کا حصہ بنتا ہے جو اس خطے کو دائمی آگ میں جلتا دیکھنا چاہتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کے لیے سرحدی احترام اور ایک دوسرے کی ریاستی خود مختاری کا اعتراف ناگزیر ہے۔
پاک افغان کشیدگی:اصل دشمن سے محتاط رہیں!
09:00 AM, 25 Feb, 2026