لاہور: لاہور رنگ روڈ اتھارٹی نے شہریوں پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نادرن اور سدرن لوپس کے ساتھ ساتھ ایسٹرن بائی پاس پر ٹول ٹیکس میں 16.67 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ نئی ٹول شرحیں رواں ہفتے کے آغاز سے نافذ ہو چکی ہیں اور یہ نئی شرحیں مختلف اقسام کی گاڑیوں پر لاگو ہوں گی۔
پرو پاکستانی کے مطابق، نئی ٹول شرحوں کے تحت کاروں اور جیپوں کے لیے ٹول ٹیکس 60 روپے سے بڑھا کر 70 روپے کر دیا گیا ہے، جب کہ ہائی ایس اور ویگن مالکان کو اب 120 کے بجائے 140 روپے ادا کرنا ہوں گے۔ اسی طرح منی بسوں اور کوسٹرز کے لیے بھی ٹول 120 روپے سے بڑھا کر 140 روپے کر دیا گیا ہے۔
بسوں کے ٹول ٹیکس میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 300 روپے سے بڑھ کر 350 روپے ہو گیا ہے۔ بھاری گاڑیوں کے لیے بھی نئی شرحیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ دو سے تین ایکسل والے لوڈر ٹرک، ڈمپرز اور پک اپس کے لیے ٹول 360 روپے سے بڑھا کر 420 روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ تین یا اس سے زائد ایکسل والے ٹرکوں اور ٹریلرز کو اب 600 روپے کے بجائے 700 روپے ٹول ادا کرنا پڑے گا۔
لاہور رنگ روڈ اتھارٹی کے مطابق، ٹول ٹیکس میں اضافے کا مقصد سڑکوں کی دیکھ بھال، آپریشنل اخراجات کی تکمیل اور سہولیات میں بہتری لانا ہے۔ تاہم، شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آیا ہے، اور کئی حلقوں نے اسے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پر اضافی بوجھ قرار دیا ہے۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ کچھ مخصوص گاڑیاں ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی، جن میں ایمبولینسز، دفاعی گاڑیاں، فائر فائٹنگ وہیکلز، جنازہ گاڑیاں، پولیس گاڑیاں، فلیگ کارز اور ضروری خدمات کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ایوانِ صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ، گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے غیر ملکی معززین کی گاڑیاں بھی ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔