قائداعظمؒ کا فکرو کردار اور مستحکم پاکستان

09:13 AM, 25 Dec, 2025

نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کاررواں کے لیے
25 دسمبر کا دن پاکستانی قوم کے لیے محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید ہے۔ یہ وہ دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسے رہبر کو جنم لیتے دیکھا جس کی بصیرت، عزم اور اصول پسندی نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر ایک آزاد ریاست کی بنیاد رکھی۔ بانیٔ پاکستان، پاسبانِ ملت محترم قائد اعظم محمد علی جناح کی ولادت کا دن، 148واں یوم پیدائش، آج بھی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قومیں محض جغرافیے سے نہیں بنتیں، بلکہ کردار، قانون اور یقین سے وجود پاتی ہیں۔
قائد اعظم کی سیاسی جدوجہد محض اقتدار کے حصول اور شخصیت پرستی کی تحریک نہ تھی، بلکہ یہ ایک نظریے کی جنگ تھی۔ ایک ایسے پاکستان کی جدوجہد جہاں مذہب، نسل اور زبان کی بنیاد پر تفریق نہ ہو، جہاں شہریوں کو مکمل مذہبی و معاشرتی آزادی حاصل ہو، جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کی محافظ ہو۔ یہی وہ خواب تھا جسے قائد نے اپنی بے مثال قیادت سے حقیقت کا روپ دیا۔ تحریکِ پاکستان کے دوران قائد اعظم نے جس حکمت، استقلال اور آئینی جدوجہد کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے دلیل، قانون اور اصول کی طاقت سے دنیا کو قائل کیا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں اور ان کے لیے ایک علیحدہ ریاست ناگزیر ہے۔ 11 اگست 1947 کی جناح کی تقریر آج بھی آئینِ پاکستان کی روح ہے۔ جہاں مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور ریاستی غیر جانبداری کا واضح پیغام ملتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر پاکستان آج بھی قائم ہے۔
قائد اعظم نے وہ پاکستان دیا جہاں عورت کا وقار محفوظ ہو، جہاں عقیدے کی بنیاد پر کسی کو خوفزدہ نہ کیا جائے، اور جہاں ہر شہری کو اپنی شناخت کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔ اس کے برعکس، خطے میں مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت کی مثالیں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ قائد کا وژن کس قدر دور اندیش اور انسان دوست تھا۔ پاکستان کی اساس ہی برداشت، رواداری اور قانون کی بالادستی ہے۔ درحقیقت قائد اعظم کا پاکستان امن و امان کا داعی ہے۔ یہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری قوت اور پیشہ ورانہ عزم کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔ افواجِ پاکستان، وہ وفادار اور باوقار محافظ ہیں جنہوں نے ہر دور میں ملکی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ دہشت گردی کے عفریت کے خلاف قربانیاں دے کر انہوں نے ثابت کیا کہ پاکستان کے امن پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ یہ سب کچھ قائد کے اس وژن کی عملی تصویر ہے جس میں مضبوط ریاست، مضبوط اداروں سے جنم لیتی ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1948 میں افواجِ پاکستان سے مختلف مواقع پر خطاب کیا اور انہیں ریاستِ پاکستان کا محافظ، نظم و ضبط کی علامت اور آئین کا پابند ادارہ قرار دیا۔ ان کے فرامین آج بھی افواجِ پاکستان کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا پاکستان دفاعی اور سفارتی محاذوں پر ایک باوقار مقام حاصل کر چکا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے دفاعی و سفارتی معاہدے اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ یہ مملکتِ خداداد ذمہ دار اور بااعتماد شراکت دار سمجھی جاتی ہے۔ حرمِ پاک کی پاسبانی سے لے کر عالمی امن کی کاوشوں تک، پاکستان کا کردار قائد اعظم کے اصولی خارجہ تصور،امن، خودداری اور باہمی احترام کا عکاس ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو چیلنجز درپیش رہے ہیں مگر قومیں مشکلات سے گھبرا کر نہیں، ان کا مقابلہ کر کے نکھرتی ہیں۔ دہشت گرد عناصر اور ملی منافرت پھیلانے والوں نے گو آج بھی اس سرزمین اور اس کے تشخص کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ہے مگر آج کی حکومت اور ریاستی ادارے ملک کو درست سمت میں لے جانے کے لیے کوشاں ہیں۔ معاشی استحکام، سفارتی توازن اور داخلی سلامتی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ قائد کا دیا ہوا پاکستان مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کوئی ادارہ اپنے قائد کے سامنے شرمندہ نہیں، کیونکہ قومی مفاد، آئین اور قانون کی بالادستی کو رہنما اصول بنایا جا رہا ہے۔
 قومی ترقی کی بات کی جائے تو قیامِ پاکستان کے بعد سے آج تک یہ مملکتِ خداداد جن مشکل اور نازک حالات سے نکل کر ترقی، خودانحصاری اور وقار کے سفر پر گامزن ہوئی ہے، وہ بلاشبہ ایک قومی معجزہ ہے۔ ابتدائی وسائل کی کمی، معاشی دبائو اور سکیورٹی چیلنجز کے باوجود پاکستان نے زراعت، صنعت، تعلیم، طب، ایٹمی سائنس، دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، ڈیجیٹل معیشت اور جدید مواصلات جیسے شعبوں میں قابلِ ذکر ترقی کی ہے۔ آج پاکستان ایٹمی طاقت ہے، جدید دفاعی ٹیکنالوجی رکھتا ہے، سیٹلائٹس خلا میں بھیج چکا ہے، آئی ٹی اور فری لانسنگ کے میدانوں میں دنیا میں اپنی شناخت بنا رہا ہے اور نوجوانوں کی صلاحیتیں عالمی سطح پر مانی جا رہی ہیں۔ یہ تمام تر ترقی اس وژن کی عملی تعبیر ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک مضبوط، خوددار، ترقی پسند اور قانون پر مبنی ریاست کی صورت میں پیش کیا تھا۔ پاکستان کی ہر کامیابی، ہر سنگِ میل اور ہر آگے بڑھتا قدم روحِ قائد کو خراجِ عقیدت ہے، کیونکہ یہ قوم آج بھی اسی فکر، اسی عزم اور اسی یقین کے سہارے آگے بڑھ رہی ہے جس کی بنیاد محمد علی جناح نے رکھی تھی اور یہی ان کی دائمی کامیابی ہے۔
قائد اعظم نے ہمیں صرف ایک ملک نہیں دیا بلکہ ایک راستہ دیا اور وہ راستہ اصولوں کا راستہ ہے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ ایمان، اتحاد اور تنظیم محض نعرے نہیں، بلکہ ریاست سازی کے ستون ہیں۔ آج جب دنیا ترقی پسند نگاہوں سے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے تو یہ قائد کی فکر کی فتح ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جو امید کا استعارہ ہے، جو امن کی بات کرتا ہے اور جو خودداری کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ الغرض 25 دسمبر ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ قائد اعظم کا پاکستان ابھی مکمل نہیں ہوا بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ اپنے قول و فعل سے اس خواب کو حقیقت بنائیں، قانون کی پاسداری کریں، برداشت کو فروغ دیں اور قومی وحدت کو مضبوط کریں۔ یہی قائد سے سچی عقیدت ہے، اور یہی پاکستان کی روشن کل کی ضمانت بھی ہے۔ قائد اعظم زندہ قوموں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں اور پاکستان جو ان کے خواب کی روشن تعبیر ہے ان شاء اللہ ہمیشہ سربلند رہے گا۔

مزیدخبریں