ڈاکٹر احسان بھٹہ کا پنجاب حکومت کے بہترین افسروں میں شمار ہوتا ہے ، آپ ایک سینئر سرکاری افسر ہیں، جو مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں، جیسے سیکرٹری خوراک، سیکرٹری صنعت و تجارت اور سیاحت، آرکیالوجی اینڈ میوزیم، سیکرٹری آئی اینڈ سی، سیکرٹری کھیل ثقافت ٹور ازم اینڈ آرکیالوجی اور صوبائی سکاؤٹس کمشنر کے طور پر بھی کام کیا ہے آپ انتہائی محنتی اور متحرک آفیسر ہیں، آپ کا شمار ایسے آفیسرز میں ہوتا ہے جو محکموں کے دورے، منصوبوں کا جائزہ لینے اور محکموں میں بہتری لانے کے حوالے سے سرگرم رہتے ہیں جس محکمے میں بھی جاتے ہیں داستان چھوڑ آتے ہیں۔ جہاں جہاں خرابی بڑھتی ہے حکومت پنجاب انہیں اس کی درستی کے لئے وہاں کی ذمہ داری سونپ دیتی ہے۔ آپ جہاں اپنے ساتھیوں دوستوں اور کام کے ساتھ مخلص ہیں وہیں محکمانہ بہتری کے لئے مشہور ہیں ،ہنس مکھ اور باصلاحیت آفیسر ہونے کے ساتھ اپنے کام سے عشق کرتے پائے جاتے ہیں۔آ پ آج کل آپ سیکرٹری سیاحت و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاحت کے شعبے کو وسعت دینے اور تاریخی ورثے کی حفاظت کو اولین ترجیح دے رہی ہے تاکہ پنجاب سیاحت کے حوالے سے ملک میں نمایاں مقام حاصل کرے۔ قوموں کی اصل پہچان ان کی ثقافت، مذہبی ہم آہنگی اور تاریخی ورثے سے ہوتی ہے۔ یہ بات انہوں نے سول سروسز اکیڈمی لاہور میں زیر تربیت افسران کو ثقافت کی اہمیت، مذہبی ہم آہنگی اور قومی تاریخ و ورثے کے تحفظ کے موضوع پر جامع لیکچر دیتے ہوئے کہی ۔سیکرٹری/چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام (CTP) کے زیرِ تربیت افسران سے سول سروسز اکیڈمی، والٹن لاہور میں ثقافت کی اہمیت، مذہبی ہم آہنگی اور قومی تاریخ و ورثے کے تحفظ، بقا اور فروغ کے موضوع پر جامع لیکچر دیا۔ ڈاکٹر احسان بھٹہ نے اپنے خطاب میں مقامی ثقافت، بین المذاہب ہم آہنگی اور تاریخی و ثقافتی عمارات کے تحفظ اور فروغ کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو نہ صرف اپنے شاندار ماضی، ثقافت اور ورثے کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے اس کا فروغ بھی یقینی بناتی ہیں۔ انہوں نے صوفیائے کرام کی تعلیمات کی اہمیت پر بھی تفصیل سے گفتگو کی اور مقامی لوک ادب اور عظیم شعرا و صوفی بزرگوں جیسے وارث شاہ، بلھے شاہ، شاہ حسین اور بابا فریدؒ کے افکار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیمات معاشرے میں رواداری، محبت اور امن کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔
پاکستان کو شمال میں ایک تنگ واخان راہداری تاجکستان سے جدا کرتی ہے جبکہ اس ملک کی سمندری سرحدی حدود عمان کے سمندری حدود سے بھی ملتی ہیں۔پاکستان کا جغرافیہ اور آب و ہوا انتہائی متنوع ہے، پاکستان بے شمار جانداروں کا گھر ہے، بلکہ کہیں جانور اور پرندے ایسے بھی ہیں جو صرف پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ ۔پاکستان کے مشرقی، وسطی اور جنوبی علاقے میدانی ہیں جبکہ مغربی اور شمالی علاقے پہاڑی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے مغربی علاقوں میں نیچے پہاڑ ہیں جبکہ شمالی خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں دنیا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ پاکستان اپنے نظاروں، لوگوں اور تہذیبوں کے حوالے سے ایک وسیع ملک ہے اور اسی وجہ سے سال 2012ء میں یہاں دس (10) لاکھ سیاح آئے تھے۔ پاکستان کی سیاحت کی صنعت 1970ء کے عشرے کے دوران میں عروج پر تھی جب یہاں ایک بہت بڑی تعداد میں سیاح آتے تھے۔ ان سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ قابل دلچسپی جگہیں خیبر پاس، پشاور، کراچی، لاہور، سوات اور راولپنڈی تھیں۔ اس ملک کی حامل پرکشش جگہوں میں موہنجو داڑو، ٹیکسلا اور ہڑپہ جیسی تہذیبوں کے کھنڈر سے لیکر کوہ ہمالیہ کے پہاڑی مقامات تک ہیں۔ پاکستان 7000 میٹر سے زیادہ بلند کئی چوٹیوں کا مسکن ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کئی پرانے قلعے ہیں، پرانے زمانے کی فن تعمیر، ہنزہ اور چترال کی وادیاں جو ایک چھوٹی سی خوبصورت اقلیت سماجی گروہ کیلاش کا مسکن ہے جو خود کو سکندر اعظم کی اولاد سے بتاتے ہیں۔پاکستان کے ثقافتی مرکز و صدر مقام لاہور میں مغل فن تعمیر کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جیسے بادشاہی مسجد، شالیمار باغ، مقبرہ جھانگیر، اور قلعہ لاہور کے علاوہ بھی کئی قابل دید مقام شامل ہیں جو سارے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ عالمی معاشی فورم کے سفر اور سیاحت کے مقابلے کی رپورٹ نے پاکستان کو مقبول ترین 25 فیصد سیاحتی مقامات میں شامل کیا۔ سیاحتی مقامات کی پہنچ جنوب میں مینگروو جنگلات سے وادء سندھ کی تہذیب کے موہنجو داڑو اور ہڑپہ جیسے 5000 سال پرانے شہروں تک ہے۔
دنیا کے متعدد ممالک ہیں جو سمندر سے محروم ہیں، کئی صحرا ہی صحرا پر مشتمل ہیں، کئی ہیں جو سال بھر برف سے ڈھکے ہوتے ہیں، لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو کراچی سے کشمیر اور گوادر سے خنجراب تک مختلف جغرافیائی اور موسمی خطوں پر مشتمل ہے۔ شمال میں دنیا کے تین عظیم ترین سلسلہ ہائے کوہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش ایک دوسرے سے ملتے ہیں جن میں دنیا کی بلند ترین 14 چوٹیوں میں سے پانچ بشمول ’’کے ۔ٹو’’ جو دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے، پاکستان میں موجود ہیں۔ پہاڑوں سے قدموں میں قطبین کے بعد دنیا میں سب سے بڑا برفانی خزانہ 5000 سے زائد گلیشئرز کی صورت پاکستان میں محفوظ ہے۔ پھر پاکستان کے بلند و بالا سرسبز جنگلات، چراگاہیں اور جھیلیں ہیں جن میں سطح سمندر سے 4000 میٹر بلند الپائن جنگلات، سطح مرتفع دیوسائی اور تین ہزار میٹر بلند فیری میڈوز مشہور ہیں۔ جنگلات اور چراگاہوں سے نیچے نظر ڈالیں تو دریائے سندھ کے میدانی علاقے جو اپنی زرخیزی کے باعث بریڈ باسکٹ آف پاکستان کہلاتے ہیں۔ پھر شمالی لینڈ سکیپ سے بالکل مختلف سندھ اور بلوچستان کے خطے ہیں۔ جن کا اپنا انفرادی جغرافیہ ہے۔ ایک طرف سندھ کے گرم میدانی علاقے جو کھجور اور آم کی فصلوں کے لیے مشہور ہیں رفتہ رفتہ تھر پارکر کے عظیم صحرا میں تبدیل ہوجاتے ہیں جو بالآخر سندھ کے ساحلوں سے جا ملتے ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان کا پتھریلا مگر خوبصورت لینڈ سکیپ ہے جسے مائونٹین سکیپ یا راک سکیپ کہنا زیادہ مناسب ہے، جس کے ساتھ بلوچستان کے ان چھوئے، خوبصورت اور شفاف پانیوں والے ساحل بچھے ہیں، پر پاکستان ان ساحلوں پر ختم نہیں ہوجاتا، سمندروں میں پاکستانی حدود میں متعدد جزائر ہیں جو سرزمین پاکستان کا حصہ ہیں۔ ان میں استولا، چرنا اور منوڑا مشہور ہیں۔ غرض پاکستان میں وہ سب کچھ ہے جس کے لیے کسی سیاح کو شاید کئی ملکوں جانا پڑے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاحت کو وہ مقام نہیں ملا جو اس کا حق ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2010 میں بین الاقوامی سیاحت کا حجم تقریباً ساڑھے نو لاکھ سیاح تھا۔ جو کم ہو کر 2013 میں ساڑھے پانچ لاکھ رہ گیا تھا اور 2014 میں مزید کم ہوکرابتدائی چھ ماہ میں دولاکھ سیاحوں سے بھی کم رہ گیا تھا یعنی سال بھر میں کوئی چار لاکھ۔ (جاری ہے)
سیاحت کی ترقی کیسے؟
09:11 AM, 25 Dec, 2025