آج کی تحریر مسلم لیگ نواز کے قائد محترم میاں نواز شریف کی 75ویں سالگرہ کے حوالے سے ہے۔ اس لئے کوشش تو ہو گی کہ اس میں بلا وجہ کسی سیاسی مخالفت اور حمایت کے ان کی زندگی کے نشیب و فراز کے حوالے سے چند گذارشات قارئین کی نذر کر دی جائیں۔ 25دسمبر 1949کو لاہور میں میاں شریف صاحب کے گھر پیدا ہوئے ۔ 1981میں میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے سیاست میں قدم کھتے ہیں ۔ یہاں سیاست سے مراد امور سلطنت میں قدم رکھنے سے ہیں ورنہ علامتی طور پر وہ ستر کی دہائی میں سیاست میں قدم رکھ چکے تھے لیکن وزارت خزانہ کی حیثیت سے عملی سیاست کے آغاز کے بعد 1985میں ملک کے سب سے بڑے صوبہ کی وزارت اعلیٰ اورپھر1990میں انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ سیاسی سفر کی منازل طے کرتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے انتظامی منصب وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچ گئے ۔ اس وقت آئین میںآرٹیکل58ٹوبی کی ایک شق موجود تھی جس کے تحت صدر مملکت قومی اسمبلی کو تحلیل کر کے حکومت کو گھر بھیج سکتے تھے ۔1993میں اس شق کے تحت نواز لیگ کی حکومت کو ختم کر دیا گیا لیکن1996میں میاں صاحب دو تہائی اکثریت کے ساتھ دوسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے لیکن پھریہ ہوا کہ ایک وزیر اعظم نے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے جنرل مشرف کی جگہ جنرل ضیاء الدین کو آرمی چیف بنایا لیکن جنرل مشرف نے وزیر اعظم کے اس آئینی اقدام کے نتیجہ میں غیر آئینی قدم اٹھاتے ہوئے ملک میں مارشل لاء لگا دیا اور میاں نواز شریف کو گرفتار کر کے ان پر طیارہ سازش کیس بنا کر انھیں جیل بھیج دیا لیکن پھر سفارتی کوشش سے میاں صاحب کو ان کی فیملی سمیت جلا وطن کر کے سعودی عرب کے شہر جدہ بھیج دیا گیا ۔
میاں نواز شریف سات سال کی جبری جلا وطنی کے بعد 2007میں وطن واپس آ جاتے ہیں اور 2008میں ہونے والے الیکشن میں مسلم لیگ نواز تو الیکشن میں حصہ لیتی ہے لیکن میاں نواز شریف جنرل مشرف کے دور میں بنائے گئے کیسز کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہیں لیتے لیکن2013کے الیکشن میں کامیابی کے نتیجہ میں ان کی پارلیمانی سیاست میں زبردست طریقے سے واپسی ہوتی ہے اور وہ تیسری بار ملک کے وزیر اعظم بن جاتے ہیں لیکن اس بار ملکی سیاست کے منظر نامہ پر عمران خان کی شکل میں ایک تیسری قوت کو لانچ کر دیا جاتا ہے جو اس ملک میں منفی سیاست کی علامت بن چکے ہیں ۔ ان کا طرز سیاست یہ ہے کہ ایک ایسی بات کہ جو حقیقت نہیں ہے اس کا پروپیگنڈا کئے جائو اور پھر اسی پروپیگنڈا کی بنیاد پر ملک میں انتشاری سیاست کرتے رہو ۔ یہ طرز سیاست ویسے ہی نقصان دہ ہے لیکن خاص طور پر ملکی معیشت کے لئے تو زہر قاتل ہے ۔ 2013کے الیکشن کے فوری بعد عمران خان نے دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیا اورپھر2014میں انھوں نے اور طاہر القادری نے ایک دن لاہور سے اسلام آباد کے لئے دو لانگ مارچ شروع کئے اور پھر ڈی چوک میں126دن کا دھرنا دیا ۔ اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود بھی جب حکومت گرانے میں ناکامی ہوئی تو پھر اس وقت کی عدلیہ سے کام لینے کا فیصلہ ہوا اور پاناما لیکس میں بیٹے سے تنخوا نہ لینے کی پاداش میں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم بینچ نے انھیں دس سال قید کی سزا کے ساتھ تا حیات نا اہل قرار دے دیا ۔
جس کیس میں سزا دی گئی تھی اس کی چونکہ بنیاد ہی کچھ نہیں تھی اس لئے بعد میں عدالتوں کے ذریعے میاں صاحب اپنی بے گناہی ثابت کر کے دس سال کی قید اور تا حیات نا اہلی دونوں سے بری ہو گئے ۔ اس کے بعد 2024کے انتخابات میں وہ ایک بار پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے ۔ اس بار میاں صاحب نے میاں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کے لئے نامزد کر دیا ۔ اس وقت گو کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف ہیں لیکن مسلم لیگ نواز کے فیصلے اور اہم ملکی فیصلے ان کی مشاورت کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ میاں صاحب کی سیاسی جانشین کے طور پر مریم نواز صاحبہ ویسے تو ایک عرصہ سے میدان سیاست میں متحرک تھیں اور عملی کردار ادا کر رہی تھیں لیکن اس بار انھیں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز کرنے کا میاں نواز شریف کا فیصلہ وقت نے ان کی زندگی کے بہترین فیصلوں میں سے ایک ثابت کر دیا ہے اس لئے کہ جس بہترین انداز میں وہ صوبے کو چلا رہی ہیں اور پھر ان کا انتہائی فعال اور متحرک طرز حکمرانی اور سب سے بڑھ کر ڈیڑھ سال کے قلیل عرصہ میں سیکڑوں ترقیاتی منصوبے لیکن تحریک انصاف کے موثر ترین سوشل میڈیا کی موجودگی کے باوجود بھی کوئی ایک کرپشن کا سکینڈل اب تک سامنے نہیں آیا اور جس شفاف انداز میں پنجاب میں کاروبار مملکت کو چلایا جا رہا ہے تو مستقبل میں بھی کسی قسم کے مالیاتی سکینڈل کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ آخر میں صرف یہ کہیں گے کہ پاکستان کی سیاست میں یہ قید اور نا اہلیاں تو اب سیاست کا حصہ بن چکی ہیں لیکن تحریک انصاف کے دور میں ایک دکھ جس کا مداوا اب قیامت تک ممکن نہیں کہ جب میاں صاحب کی شریک حیات محترمہ کلثوم نواز صاحبہ بستر علالت پر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی اور یہ وہ وقت تھا کہ جب میاں صاحب کا ان کے پاس ہونا ضروری تھی لیکن پتھر دل سیاست کرنے والوں نے ان سے ان کا یہ حق بھی چھین لیا ۔ سنا کرتے تھے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن خدارا ایسے بھی تو نہیں ہوتا۔
قائد مسلم لیگ
09:09 AM, 25 Dec, 2025