اٹھہتر سال۔اڑسٹھ سال اور پچاس سال۔
یہ محض ایک عدد نہیں، یہ اس ریاست کے نظامِ انصاف کی عملی عمر ہے جو وہ ایک کمزور شہری کو انصاف دینے میں لگا دیتا ہے۔ فیصلہ تب آتا ہے جب اصل حق دار خود فائل کے نیچے دفن ہو چکا ہوتا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اس قانون کو معطل کردیا ہے جس سے قبضہ ہوئی املاک واگزار کرائی جا رہی تھیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس فیصلے کو عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق نہ ہونے کا بتایا ہے۔عدالتِ عالیہ میں پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کے خلاف سماعت کے دوران دیئے گئے ریمارکس نے سوال اٹھا دیا ہے کہ اس ملک میں کمزور آدمی کے پاس عدالتوں میں عمر بھر دھکے کھانے کاوقت کہاں سے آئے؟۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف پنجاب میں دیوانی نوعیت کے مقدمات کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہے، جن میں ایک بڑا حصہ زمین، جائیداد، وراثت اور قبضہ سے متعلق ہے۔ بورڈ آف ریونیو اور ضلعی ریونیو دفاتر میں لاکھوں’’ انتقالات اور ریکارڈ تنازعات‘‘ برسوں سے زیرِ التوا ہیں۔ اندازہ یہ ہے کہ زمین سے متعلق ایک عام دیوانی مقدمہ اوسطاً دس سے پندرہ سال صرف ٹرائل کورٹ میں گزار دیتا ہے، جبکہ اپیلوں کے مراحل اسے مزید دہائیوں تک گھسیٹتے ہیں۔قبضہ والے روپے خرچ کرتے ہیں، اصل مالک عدالتی عملے اور پولیس کے ہاتھوں خواری اٹھاتے ہیں، ان کی چوکھٹوں پر چادریں بچھائے پڑے رہتے ہیں۔ان کی درخواستیں محض فائلوں کا بوجھ نہیں، یہ انسانی زندگیاں ہیں۔وہ بیوہ جس کے پاس وکیل کی فیس نہیں، وہ کسان جس کی زمین پر بااثر شخص نے قبضہ کر لیا، وہ بہن جسے بھائیوں نے ’’خاندانی روایت‘‘ کے نام پر وراثت سے محروم کر دیا۔یہ سب اس نظام کے خاموش متاثرین ہیں۔ عدالتوں کی زبان میں یہ مقدمات ہیں، مگر زمین پر یہ ’’بقا کی جنگ‘‘ ہے۔اسی پس منظر میں پنجاب حکومت نے قبضہ کے خلاف فوری کارروائی کے لیے آرڈیننس متعارف کرایا۔ ارادہ یہ تھا کہ اب زمین کے اصل مالکان کو فوری تحفظ ملے گا اور انصاف عدالتوں کے طویل چکروں سے نکل کر انتظامیہ کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ کمزور طبقات کے لیے یہ ایک امید تھی۔ایک مختصر سی روشنی کہ شاید اب فائلوں کے بجائے فیصلے ہوں گے۔مگر عدالتِ عالیہ میں اٹھنے والے سوالات نے اس امید کو پھر معلق کر دیا۔غریب آدمی کو کہاں سے انصاف ملے گا؟۔
عدالت کا خدشہ اپنی جگہ درست ہے۔ یہ کہا گیا کہ اگر انتظامیہ کو غیر معمولی اختیارات دیئے گئے تو شہری آزادیوں کو خطرہ ہو سکتا ہے، عدالتی نگرانی کمزور پڑ سکتی ہے اور جعلی دستاویزات کے ذریعے بے گناہ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ سوالات آئینی بھی ہیں اور ضروری بھی۔لیکن یہاں ایک اور سوال بھی ہے: جب اختیارات استعمال ہی نہ ہوں تو جو ظلم روز ہو رہا ہے، اس کا حساب کون دے گا؟۔
پنجاب میں قبضہ کوئی انفرادی جرم نہیں، یہ ایک ’’منظم معیشت‘‘ ہے۔ اس کے پاس وکیل ہیں، پٹواری ہیں، تھانے ہیں اور بعض اوقات خاموش سرپرستی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ کمزور آدمی اگر کچہری کے باہر کھڑا ہو کر بھی اپنی زمین کا مقدمہ لڑ رہا ہو تو خود کو خوش نصیب سمجھتا ہے کہ کم از کم اس کا کیس چل تو رہا ہے۔ مگر چلنے اور پہنچنے میں فرق ہے اور ہمارا انصاف چلتے چلتے اکثر قبرستان پہنچ جاتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پنجاب میں ’’قبضہ اور زمین سے متعلق فوجداری و دیوانی مقدمات کی تعداد لاکھوں میں ہے‘‘۔ غالبا 1995, 96 کی بات ہے میرے دوست زاہد شیخ کی اہلیہ کا وراثتی مکان بلال گنج میں تھا۔ ان کا خاندان ڈی ایچ اے منتقل ہوا تو بلال گنج والا مکان ایک چوکیدار کے سپرد کیا گیا، اس نے قبضہ کرلیا۔ غنڈے اور اوباش آکر بیٹھ گئے ، چھ سال تک زاہد شیخ کا خاندان خوار تھا۔ میں ان کے ساتھ عدالت گیا۔ نعیم شیخ جج تھے ۔ان کے سامنے زاہد کے اہل خانہ کی حالت، بیماری اور تکلیف رکھی، قانونی پوزیشن رکھی۔ خیر کچھ عرصہ بعد کسی کا فیصلہ ہو گیا ۔عدالتی بیلف قبضہ دلانے موقع پر پہنچا تو لاہور کا ایک مشہور ایس ایچ او جس کا نام ایک بڑے شہر والا تھا، جیسے فیصل آباد ، قابضین کی جانب سے موجود تھا، قبضہ کرنے والے زاہد شیخ کے اکلوتے بیٹے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے تھے ۔آخر موقع پر قبضہ مافیا سے ڈیل کرنا پڑی۔قبضے کے واقعات کے بعد مظلوم افراد پولیس، عدالتی عملے اور نظام کے ہاتھوں پریشان ہوتے ہیں۔ان حالات میں اگر ایک ڈی سی ناجائز قبضے کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو کیا وہ دباؤ سے محفوظ رہے گا؟ یا وہ بھی اسی سسٹم کا حصہ بن جائے گا جہاں فائل کو روک لینا دانش مندی اور آگے بڑھانا خطرہ سمجھا جاتا ہے؟یہاں عدالت کا خدشہ سمجھ میں آتا ہے، مگر ریاست کی مجبوری بھی۔ جب عدالت کہتی ہے کہ اختیارات کا غلط استعمال ہو سکتا ہے تو یہ درست ہے، مگر جب اختیارات استعمال ہی نہ ہوں تو کمزور آدمی کے لیے دروازہ کہاں کھلے گا؟۔
بورڈ آف ریونیو آج فائلوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ ہر فائل ایک کہانی ہے، ہر کہانی ایک خاندان اور ہر خاندان ایک ناانصافی۔ یہاں فیصلے نہیں ہوتے، یہاں فیصلے لٹکائے جاتے ہیں۔ یہاں انصاف ایک دن میں نہیں مرتا، اسے آہستہ آہستہ مارا جاتا ہے تاکہ شور نہ ہو۔ یہی خاموشی قبضہ مافیا کی اصل طاقت ہے۔والد صاحب کہا کرتے تھے انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر بندھی پٹی غیر جانبداری کی علامت ہے۔ہمارا زمانہ آیا تو آج یہ پٹی کچھ اور معنی دیتی ہے۔ اب لگتا ہے یہ پٹی طاقتور کو نہ دیکھنے کے لیے نہیں، بلکہ کمزور کے دکھ سے نظریں چرانے کے لیے باندھی گئی ہے۔ طاقتور کے سامنے آنکھیں کھل جاتی ہیں، دلائل نرم ہو جاتے ہیں اور ترازو کا پلڑا خود بخود جھک جاتا ہے۔
عدالتِ عالیہ کے حالیہ فیصلے کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک آرڈیننس پر رائے نہیں، بلکہ اس پورے عدالتی اور انتظامی ماڈل پر سوال ہے جو انصاف کو تاخیر کا دوسرا نام بنا چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ قانون درست تھا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس ملک میں کمزور آدمی کو فوری انصاف دینے کے لیے تیار ہیں؟۔
پنجاب حکومت شاید پیچھے ہٹ گئی ہے اور ہر پیچھے ہٹنے کا فائدہ مافیا کو جاتا ہے۔ آرڈیننس تب معنی رکھتا ہے جب اس پر عمل ہو،بہت سے لوگ حکومت کو دعا دے رہے تھے کہ اس نے قبضہ مافیا سے بچا لیا،اب یہ مایوس ہیں۔ عدالت تب مضبوط ہوتی ہے جب اس کے فیصلوں سے زمین پر فرق پڑے۔ اس ملک میں کاغذ بہت ہے، مقدمات بہت ہیں، ریمارکس بہت ہیں، مگر کمزور آدمی کے لیے انصاف کا حصول اب بھی دشوار ہے،جو اکثر کسی کی پوری عمر کھا جانے کے بعد بھی نہیں ملتا ۔
پنجاب حکومت ہار گئی، مافیا جیت گیا
09:09 AM, 25 Dec, 2025