توقعات

09:42 AM, 26 Aug, 2026

آزاد کشمیر سے سید غلام رسول صاحب نے ایک سوال ارسال کیا ہے۔ پوچھتے ہیں: ”سر! میرا سوال یہ ہے کہ اگر توقعات نہ رکھی جائیں تو کیسے معلوم ہو گا کہ دوسرا شخص بھی ہم سے اتنا ہی مخلص ہے، اور یہ کہ اپنی توقعات پر قابو کیسے پایا جائے؟“۔ دراصل کچھ ہفتے قبل اس موضوع پر لکھا تھا کہ توقعات مدھم کر لی جائیں تا آن کہ غصہ نہ آئے، تعلقات میں رخنہ نہ آئے، یہ سوال اسی موضوع کے تسلسل میں پوچھا گیا ہے۔ میری کوتاہی کہ شاہ صاحب کو دو مرتبہ مجھے یاد دہانی کرانے کی زحمت اٹھانا پڑی۔
محترم شاہ صاحب! دراصل توقعات اپنی استحقاق کے مطابق قائم کی جاتی ہیں اور اپنے استحقاق کے متعلق ہم خود سے درست طور پر آگاہ نہیں ہوتے۔ ہم بالعموم نرگسیت کا شکار رہتے ہیں۔ ہم اپنا قد کاٹھ ہمیشہ زیادہ تصور کرتے ہیں اور کچھ زیادہ ہی بیان کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں دیکھ کر رک جائیں، ہماری دست بوسی کریں، ہمیں سب سے زیادہ دانا و بینا سمجھیں اور اپنی زندگی کے سب ہی مشاغل کی بابت ہم سے مشورہ کیا کریں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ پیغمبرِ اخلاق خاتم النبیین نے فرمایا ہے کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے احترام میں کھڑے ہو جایا کریں تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ سمجھے۔
اول تو ہم لوگوں کو اپنے نظریے اور اپنے حکم کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ ہمارا حکم ماننے کی پوزیشن میں نہیں تو ہم ان سے یہ توقع ضرور رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے مشورے پر چلیں۔ یہ خود ساختہ استحقاق ہمیں خود ساختہ توقعات قائم کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر ہم اپنا استحقاق کچھ دیر کے لیے بھول جائیں تو ہماری توقعات کا گراف خود ہی نیچے آ جائے گا۔ عجز و انکسار اسی کا نام ہے۔ ایک عاجز اور منکسرالمزاج انسان جو قرآن میں عباد الرحمن ہے خود کو اس کا مستحق نہیں سمجھتا کہ مخلوقِ خدا اس کی تعریف کرے، اسے سر آنکھوں پر بٹھائے اور بس اسی کی سنے اور سنتی چلی جائے۔ وہ دوسروں کو خود سے زیادہ معتبر سمجھتا ہے۔ اگر کوئی اس کا خیر مقدم نہ کر سکے، اسے due protocol نہ دے سکے، تو وہ درگزر کرتا ہے۔ اسے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بناتا۔ وہ اپنی توقع مجروح ہونے پر احتجاج نہیں کرتا۔ وہ خاموشی میں عافیت جانتا ہے اور فی الواقع وہ عافیت کا مستحق ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ایک مغرور اور متکبر آدمی اپنے استحقاق کو اس حد تک بڑھا لیتا ہے کہ فرعون کی طرح مخلوق سے اپنی عبادت کا تقاضا شروع کر دیتا ہے وہ ”انا ربکم الاعلی“ کا اعلان کر دیتا ہے۔ اب ایسے صاحبِ طغی کے لیے نیل کی طغیانی ہی روا ٹھہرتی ہے۔ ”انا ربکم الاعلی“ اور ”سبحان ربی الاعلی“ کے درمیان فرق جاننا بہت ضروری ہے یہ فرق لفظوں سے زیادہ رویوں سے واضح ہونا چاہیے۔ القصہ اگر استحقاق کی چادر بندگی کی حدود سے نکلے تو حدود اللہ پامال ہونے لگتے ہیں۔ بندہ اگر بندگی ترک کر دے تو اس کے بعد اس کا جو تشخص برآمد ہوتا ہے، اس کی تشخیص کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ پیرس کے میوزیم میں آج بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
وہ لوگ جو ہماری توقعات کو مسخ کرتے ہیں، ہم ان سے جھگڑتے ہیں، لیکن ان کی مجبوریوں سے آگاہ نہیں ہوتے۔ دنیا میں شعور کی کمی سے بڑھ کیا کوئی اور مجبوری ہو گی۔ ایک شخص کو شعور ہی نہیں کہ بڑے کا احترام کیا ہوتا ہے، بڑوں کی عزت کیسے کی جاتی ہے، چھوٹوں پر شفقت کیا چیز ہے، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت نہ کرنے والے کے بارے میں کیا وعید ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: جو شخص اپنے بڑوں کا ادب نہیں کرتا اور اپنے چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ کس قدر بڑی وارننگ ہے کہ کسی امتی کے لیے یہ کہہ دیا جائے کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اب جو شخص اس بنیادی بات سے آگاہ نہیں، وہ کم علمی کا شکار ہو گیا۔ اس کا شعور پستہ قامت رہ گیا ہے۔ مادے کی دنیا میں زندگی بسر کرنے والوں کا شعور کم قامت اور کم قیمت رہ جاتا ہے۔ روح کی دنیا میں ہجرت کرنے والوں کا شعور روز افزوں ترقی میں ہوتا ہے ”کل یومِ ھو فی شان“ کا راز روح اور لطافت کی دنیا میں بسر کرنے والوں پر کھلتا ہے۔ الغرض مادہ پرست آدمی صرف اپنے حقوق سے آگاہ ہوتا ہے اور دوسروں کے حقوق سے جاہل ہوتا ہے۔ وہ اپنے فرائض کو احسان سمجھتا ہے اور دوسروں کے احسان کو ان کا فرض جانتا ہے۔ یعنی بقول مرشدی حضرت واصف علی واصف وہ دوسروں کے احسان کو اپنا استحقاق سمجھ لیتا ہے۔ اب ایسے شخص کی توقعات کا گراف اس کے غرور کی طرح بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کے لیے محال ہے کہ وہ اپنی توقعات اور خواہشات کا دامن کبھی سمیٹ سکے اور کثرت کی اِس وادی¿ پُرخار سے زخمی ہوئے بغیر گذر سکے۔
ایک جاہل نہیں جانتا کہ عالم کی تکریم کیسے کرتے ہیں۔ روحانیت سے لابلد آدمی نہیں جانتا کہ لوگ مرید اور مراد کے رشتے میں خود کو کیوں باندھ لیتے ہیں۔ ایک دنیا دار نہیں جانتا کہ درویش دنیا ترک کیوں کرتا ہے، اسے یہ بات افسانہ لگتی ہے کہ ابراہیم اُدھم نے بلخ کی بھری پری بادشاہت چھوڑ کر بے نام درویشوں کی گدڑی کیوں اختیار کی۔ خود غرض آدمی مخلص انسان کو نہیں پہچان سکتا۔ اس کی سوچ یہی سوچ کر جواب دے جاتی ہے کہ ایک شخص بغیر کسی مفاد کے، کسی کی عزت کیسے کر سکتا ہے کوئی بغیر کسی فائدے کے، محنت کیسے کر سکتا ہے کوئی شخص فقط اللہ کے لیے کوئی کام کیسے کر سکتا ہے؟ کوئی شخص مخلوقِ خدا کی بے غرض خدمت کیسے کر سکتا ہے؟ یہ سب باتیں اس کے لیے افسانہ ہیں جس کے شعور نے وادی¿ اخلاص میں کبھی قدم نہیں رکھا۔
اللہ کے لیے جینے، اللہ کے لیے مرنے اور فقط اللہ ہی کے لیے کام کرنے کے لیے اِخلاص درکار ہوتا ہے۔ توحید سورة اخلاص میں ہے۔ اِخلاص فرد کا ایک ذاتی اثاثہ ہے۔ بے غرضی کا تقاضا ہے کہ مجھے فقط اپنے روحانی اثاثے سے غرض ہو مجھے صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ میں مخلص ہو چکا ہوں یا نہیں مجھے دوسروں کے اخلاص کا امتحان نہیں لینا مجھے اپنے اخلاص سے غرض ہونی چاہیے مجھے فقط یہ دیکھنا ہے کہ میں اخلاص کے امتحان میں کہاں فیل ہو رہا ہوں۔ دوسروں سے توقعات قائم کر کے ہم ان کا امتحان نہیں لے رہے ، بلکہ خود کو امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ دوسرے ہمارے ساتھ مخلص ہیں یا غیر مخلص اس پر وقت کے پردے پڑے ہوئے ہیں اور یہ پردے وقت سے پہلے نہیں اٹھنے چاہئیں۔ جب کوئی انہونا موڑ آئے گا تواز خود ہی یہ پردہ اٹھے گا اور اپنے اور غیر واضح ہو جائیں گے مخلص مخلصین کے ساتھ اور خود غرض اپنی ہی طرح غرض پرستوں کے ساتھ جگہ پائیں گے۔ یہ قدرت کا اصول ہے جنس باہم جنس پرواز، کبوتر با کبوتر باز با باز۔ ہم جسے اپنے ساتھ مخلص سمجھتے رہے، وہ مخلص نہ تھا یہ گلے کا مقام نہیں شعور کا مقام ہے۔ توقع نہیں، بلکہ وقت خطِ تنصیف کھینچتا ہے مخلص اور غیر مخلص کے درمیان! وقت ہر بندے کی اوقات ظاہر کر دیتا ہے۔ سو! توقع نہ کریں، فقط انتظار کریں!!

مزیدخبریں