12 ربیع الاول کے تقاضے

09:40 AM, 26 Aug, 2026


ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی فضاوں میں ایک عجیب سی مہک بس جاتی ہے۔ گلیوں، بازاروں، مسجدوں اور گھروں میں رونق بڑھ جاتی ہے، محفلیں سجتی ہیں اور دلوں میں محبت کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے۔ یہ وہی مہینہ ہے جب چودہ سو سال سے زائد عرصہ قبل مکہ مکرمہ کی سرزمین پر ایک ایسی ہستی جلوہ گر ہوئی ،جس نے انسانیت کی تقدیر ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
حضرت محمد مصطفی ﷺ کی آمد محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ کائنات کی سب سے بڑی نعمت اور رحمت تھی، جس کے بارے میں قرآن کریم نے خود فرمایا: اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔جس دور میں آپ ﷺ تشریف لائے، وہ عرب معاشرہ ظلمت، جہالت اور بے راہ روی کی گہری دلدل میں دھنسا ہوا تھا۔ کمزور طبقات کا استحصال عام تھا، عورت کو انسان کے درجے سے بھی گرا دیا گیا تھا، بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، قبائلی عصبیت اور نسلی تفاخر معاشرتی نظام کی بنیاد بن چکے تھے، انسانیت اپنی اصل روح سے یکسر محروم ہو چکی تھی۔ ایسے تاریک دور میں نبی رحمت ﷺ کی بعثت ایک نئی صبح کے طلوع ہونے کے مترادف تھی۔آپ ﷺ نے نہ صرف عقیدے کی اصلاح کی بلکہ انسانی معاشرت، اخلاقیات، معیشت، سیاست اور بین الاقوامی تعلقات تک ہر شعبہ زندگی میں ایک مکمل ضابطہ حیات عطا فرمایا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات کا سب سے نمایاں پہلو توحید کی دعوت تھی۔ آپ ﷺ نے انسانوں کو بتوں، مصنوعی دیوتاوں اور جھوٹے معبودوں کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی کی طرف بلایا۔ یہ دعوت محض ایک عقیدے کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ انسانی فکر کی مکمل آزادی کا اعلان تھی، جس نے غلامانہ ذہنیت کے بجائے خودی، وقار اور خود اعتمادی کا شعور بیدار کیا۔اسی طرح آپ ﷺ نے مساوات کا وہ عملی نمونہ پیش کیا جس کی مثال تاریخ انسانی میں کہیں اور نہیں ملتی۔
حج الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقوی کے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب دنیا رنگ، نسل اور قبیلے کی بنیاد پر تقسیم تھی۔ آج بھی جب دنیا نسل پرستی، تعصب اور طبقاتی تفریق کا شکار ہے، یہی پیغام انسانیت کے لیے سب سے بڑا سبق ہے۔عورتوں کے حقوق کے حوالے سے آپ ﷺ نے انقلابی اقدامات کیے۔ جس معاشرے میں بیٹیوں کی پیدائش کو ننگ و عار سمجھا جاتا تھا، وہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی، وہ اور میں قیامت کے دن اس طرح ساتھ ہوں گے، اور اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔ عورت کو وراثت میں حصہ دیا، اسے تعلیم کا حق دیا اور اسے عزت و احترام کا مستحق ٹھہرایا۔ معاشی انصاف بھی آپ ﷺ کی تعلیمات کا اہم ستون ہے۔ سود کی حرمت، مزدور کی اجرت بروقت ادا کرنے کی تاکید، ناپ تول میں کمی بیشی کی ممانعت اور غریبوں و مسکینوں کے حقوق کی پاسداری، یہ سب ایک ایسا معاشی نظام تشکیل دیتے ہیں ،جس میں استحصال کی کوئی گنجائش نہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دو، یہ حکم آج بھی مزدور دوست معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔اخلاقیات کے میدان میں آپ ﷺ کی زندگی خود ایک مکمل نصاب ہے۔ سچائی، امانت، وعدہ خلافی سے اجتناب، عفو و درگزر، رحم دلی، صبر اور تحمل، یہ وہ اوصاف ہیں جن کا مظاہرہ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی کیا۔ فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں کو عام معافی دے دی، جنہوں نے آپ ﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو برسوں تک اذیتیں دیں، وطن سے نکالا اور جنگیں مسلط کیں۔ یہ عظیم الشان مثال بتاتی ہے کہ طاقت کے باوجود انتقام نہیں بلکہ عفو ہی حقیقی عظمت کی علامت ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج اکیسویں صدی میں جب ہم 12ربیع الاول کا دن مناتے ہیں، تو اس آمد کے حقیقی تقاضے کیا ہیں؟ کیا صرف محفلیں منعقد کرنا اور نعرے لگانا ہی محبتِ رسول ﷺ کا اظہار ہے؟ یقینا یہ سب محبت کے اظہار کے طریقے ہو سکتے ہیں، مگر اصل محبت وہی ہے جو عمل میں ڈھلے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجیدمیں واضح فرما دیا: کہہ دیجیے اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یعنی محبت کا اصل معیار اتباع اور عمل ہے، محض زبانی دعوی نہیں۔
آج ہمارا معاشرہ جن مسائل کا شکار ہے، ان کا حل بھی انہی تعلیمات میں پوشیدہ ہے جو نبی رحمت ﷺ نے دیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ملاوٹ، دھوکہ دہی، رشوت ستانی اور جھوٹ ہمارے معاشرتی نظام کا حصہ بن چکے ہیں، جبکہ آپ ﷺ نے سچائی اور امانت کو ایمان کی بنیاد قرار دیا۔ ہم فرقہ واریت، لسانی و صوبائی تعصبات اور طبقاتی تفریق میں بٹے ہوئے ہیں، جبکہ آپ ﷺ نے وحدتِ امت اور اخوت کا درس دیا۔ ہم عورتوں پر ظلم، جہیز کی لعنت اور بچیوں کی تعلیم سے محرومی جیسے مسائل میں گھرے ہیں، جبکہ آپ ﷺ نے عورت کو عزت و وقار عطا کیا۔ ہم غریبوں کا حق مارتے، مزدوروں کا استحصال کرتے اور دولت کے ارتکاز کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ آپ ﷺ کا نظام معیشت رحم دلی اور انصاف پر مبنی تھا۔اس لیے 12ربیع الاول کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں۔ کیا ہمارا کاروبار سود اور دھوکے سے پاک ہے؟ کیا ہم اپنے ملازمین اور مزدوروں کے حقوق بروقت ادا کرتے ہیں؟ کیا ہمارا رویہ اپنی بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کے ساتھ عزت و احترام پر مبنی ہے؟ کیا ہم دوسرے مسالک، مذاہب اور نسلوں کے لوگوں کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ کیا ہماری زبان جھوٹ، غیبت اور بہتان سے پاک ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو حقیقی معنوں میں 12ربیع الاول کی روح کو زندہ کرتے ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں، دفتروں، بازاروں اور معاشرتی تعلقات میں سیرتِ طیبہ کا عملی نمونہ پیش کریں۔ نئی نسل کو محض جشن منانے کی رسم نہ سکھائیں بلکہ انہیں سیرتِ نبوی ﷺ کا وہ درخشاں پہلو دکھائیں جو صبر، حکمت، رحم دلی، دیانت اور عدل پر مبنی ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کی تربیت اسی نہج پر کریں تو آنے والی نسلیں ایک بہتر، پرامن اور انصاف پسند معاشرہ تشکیل دے سکتی ہیں۔بحیثیت مجموعی 12ربیع الاول کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی پوری انسانیت کے لیے رحمت تھی۔ اس رحمت سے فیض یاب ہونے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی تعلیمات کو محض یادگار واقعہ نہ سمجھیں بلکہ انہیں اپنے کردار، معاملات اور معاشرتی رویوں میں شامل کریں۔ یہی وہ حقیقی خراجِ عقیدت ہے جو محبتِ رسول ﷺ کا اصل تقاضا ہے، یہی وہ راستہ ہے ،جو ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

مزیدخبریں