واشنگٹن: امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے نئی پابندیوں کا اعلان کردیا ہے۔ تازہ اقدامات کے تحت ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور بحری تجارت سے وابستہ شعبوں کو ممکنہ ثانوی پابندیوں کے لیے نشانہ بنایا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے تعلق رکھنے والے 60 اداروں، افراد اور بحری جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ متاثر ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ، چین، سنگاپور اور یورپ میں سرگرم بعض بروکریج کمپنیوں کے نام بھی شامل ہیں۔
واشنگٹن نے ایران کو مالی رقوم کی منتقلی سے متعلق کچھ اجازت نامے بھی واپس لے لیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد ایران کے مالی اور معاشی ڈھانچے پر دباؤ بڑھانا اور ایسے ذرائع کا خاتمہ کرنا ہے جن کے ذریعے تہران امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ اقتصادی روابط ختم کرنے کے لیے مختلف ممالک کے سربراہان سے رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو اپنے معاشی تعلقات ختم کرنے کے لیے مخصوص مدت دی گئی ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ جو ممالک مقررہ مدت کے اندر ایران کے ساتھ کاروباری اور مالی روابط ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کریں گے، امریکا ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرسکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق بعض ممالک کو ایرانی بینکوں کی شاخیں بند کرنے کے لیے بھی مقررہ وقت دیا گیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ چین سمیت کسی بھی ملک کو امریکی پابندیوں سے استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔
واشنگٹن اس سے پہلے بھی ایران کے خلاف متعدد پابندیاں نافذ کرچکا ہے۔ ان اقدامات میں ایرانی تیل کی عالمی برآمدات، بحری جہاز رانی کے نیٹ ورک اور ان کمپنیوں کو ہدف بنایا گیا جو مبینہ طور پر ایران کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کررہی تھیں۔
تازہ پابندیوں سے امریکا کی جانب سے ایران پر معاشی اور مالی دباؤ مزید بڑھانے کی پالیسی واضح ہوتی ہے، جبکہ واشنگٹن تہران کے ساتھ عالمی سطح پر تجارت اور مالی روابط کو محدود کرنے کے لیے دیگر ممالک پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے۔