معافی، معافی،معافی۔ ٹاک آف دی ٹائون، سوشل میڈیا پر گیم آن ہے۔ ٹی وی چینلز اور ویلاگرز عوام کے مسائل بھول کر فرد واحد کو معافی اور رہائی دلانے میں لگ گئے۔ ایک نان ایشو کو ایشو بنا کر رات دن معافی کا ورد کرنے میں مصروف، ’’یہ انہیں چین کیوں نہیں آتا، ایک ہی شخص ہے جہان میں کیا؟‘‘ برسلز سے ایک شوشہ چھوڑا گیا۔ اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں فرد واحد کی محبت میں غوطہ زن سارے اینکر پرسنز سارے ویلاگرز ایک ہی موضوع پر توانائیاں خرچ کرنے لگے۔ خان کے حامیوں اور ’’فریش تجزیہ کاروں‘‘ کا نعرہ عوام روٹی نہیں خان کی رہائی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا انتقام لیا جا رہا ہے۔ بس کریں چھوڑ بھی دیں۔ آدمی کسی کا ہو رہے تو عقل ہری ہری گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔ روٹی کمانے کے دھندے، عدالت نے سزا دی، خان تمام تر آسائشوں کے ساتھ سزا پوری کر رہے ہیں۔ دو سال بعد بھی وہی موقف کہ 9 مئی فالس فلیگ آپریشن تھا وہ مجھ سے معافی مانگیں خان خود رہائی نہیں چاہتے، مامے، چاچے انہیں رہا کرانا چاہتے ہیں، بس کریں ’’اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘ یاروں نے سمجھا خان کسی کے کان میں سوری کہہ کر رہا ہو جائیں گے۔ ایسا نہیں ہے معافی کی شرائط کڑی ہیں۔ صدق دل سے سر عام اعتراف جرم کریں ویڈیو کے ذریعہ معافی کا اعلان کریں۔ آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا عزم کریں، وعدہ کریں کسی بھلے مانس کی گارنٹی دیں اس کے بعد بھی رہائی کا انحصار عدالتوں پر ہو گا۔ رہائی کے بعد بھی کوئی سر منہ چوم کر تخت طائوس پر نہیں بٹھائے گا۔ وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے۔ مقتدرہ والے اپنی وضع کیوں بدلیں، حالات ساز گار نہیں، سچ پوچھئے تو اسٹیبلشمنٹ کو خان کی ضرورت نہیں، خالی جگہ پر ہو گئی۔ 10 سالہ ترقیاتی پلان تیار کر لیا گیا۔ پاکستان بچائو پلان، آئندہ دس سال میں ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا، (اللہ کرے) معافی شرائط کے بھنور میں پھنس کر رہ گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کر دیا معافی نہ تلافی، 9 مئی کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں کو کٹہرے میں آنا ہو گا، اعتراف کرنا چاہیے کہ خان سے بلنڈر تو ہوئے ہیں کال کوٹھڑی میں بیٹھے عالم تنہائی میں احساس تو ہوتا ہو گا۔ ’’وہ دن جب یاد آتے ہیں کلیجہ منہ کو آتا ہے۔‘‘ قید تنہائی کا شور، ملاقاتیں بند ہونے کا خوف، سیلف وکنیمائزیشن سینڈروم کی نفسیاتی بیماری کا شکار، وکلاء سے کہا اوپر والوں سے رابطہ کریں ملاقاتیں بند نہ کریں (بند کہاں ہوئیں جیل حکام کے مطابق گیارہ ماہ میں 1635 ملاقاتیں، وکلاء سے 88، سیاسی رفقاء سے 223، فیملی ارکان سے 119، ذاتی معالج سے 14 میڈیا سے 317 بار بات چیت مائی ڈیئر قیدی جی کو اور کتنی سہولتیں چاہئیں، جیل میں بیٹھ کر پوری پارٹی چلا رہے ہیں، عمر ایوب اور شبلی فراز نا اہل ہوئے تو جیل سے مانگے تانگے کے لیڈر محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی اور اعظم سواتی کو سینیٹ کا اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا۔ جیل سے باہر سیاسی کمیٹی نے نامزدگیوں اور ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کے احکامات مسترد کر دئیے۔ پارٹی بھی ہاتھ سے گئی۔
اسلام آباد افواہوں کی آماجگاہ، سب کچھ ٹھیک نہیں، وزیر اعظم ٹھیک کریں، مستقبل میں حالیہ غفلتیں گلے پڑیں گی۔ ابھی مقتدرہ سے تعلقات میں ہوا کا گزر نہیں، خدانخواستہ انہوں نے آڈٹ رپورٹس پر ایکشن لے لیا تو 4800 ارب روپے کہاں سے پورے کریں گے، کرپشن سکینڈل منظر عام پر آ رہے ہیں، ٹمبر مافیا نے جنگل کاٹ کر پورا ملک ڈبو دیا۔ پہاڑوں کی جڑیں کمزور کر دیں، عقل کے اندھے لٹھ لیے پیچھے پڑے ہیں کہتے ہیں کلائوڈ برسٹ حکومت کی کارستانی، یہاں سے معدنیات نکالے گی۔ ٹمبر مافیا کا گڑھ خیبر پختونخوا، صوبہ میں 40 فیصد حصہ پر جنگلات تھے اب دس فیصد پر رہ گئے۔ ایک ارب درخت کہاں گئے؟ 12 سال سے پی ٹی آئی کی حکمرانی، دراز زلف مافیا سے بھتہ وصول کر کے فتنہ خوارج کو بھتہ دینے کا اعتراف کر چکے، کارروائی ندارد، اپنی جھولی میں چھید ہیں، آنکھیں بند کرنے کی بجائے ہارڈ سٹیٹ بن کر بے رحمانہ آپریشن کیوں نہیں کیے جاتے، سچ کڑوا بلکہ بہت ہی کڑوا اشرافیہ کی تنخواہوں اور پنشن پر پوری توجہ بڑے صاحب کی پنشن جو مبینہ طور پر 2010ء میں 5 لاکھ 60 ہزار تھی 2024ء میں 23 لاکھ 90 ہزار ہو گئی۔ غریب مزدور کی تنخواہ 40 ہزار نہ ہو سکی۔ وزیر خزانہ کے مطابق فیکٹری مالکان نہیں مانتے، کیا ریاست سے بڑے ہیں، بڑے صاحب کے انتقال پر بیوہ کو ڈرائیور، اردلی، 2000 یونٹ بجلی 300 لیٹر پیٹرول، گیس مفت (غریب عوام کو 2 سو یونٹس پر بل آ جاتا ہے) قسم لے لیجئے جس دن غریب کی سنی گئی اور اشیائے صرف پیٹرول گیس کی قیمتیں نواز شریف دور کی سطح پر آ گئیں خان کی مقبولیت زمیں بوس ہو جائے گی۔
شہر اقتدار میں پھر بارہ صوبوں اور 36 انتظامی یونٹوں کی باتیں جن کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا وہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ میاں عامر محمود نے ایک سیمینار میں نئے صوبوں کا ذکر پھر چھیڑ دیا، ذرائع کے مطابق کہیں سے حمایت حاصل ہے۔ اس سے پہلے بھی سرائیکی صوبے کا شور اٹھا تھا۔ سیکرٹریٹ بھی بن گیا لیکن سرائیکی عوام نے اس موو کو مسترد کر دیا، چار صوبے سنبھالے نہیں جاتے۔ 12 کا حشر کیا ہو گا۔ پنجاب کو ٹکڑے کرنے کی کوششیں، سندھ کی باری پر پیپلز پارٹی نے آنکھیں دکھانا شروع کر دیں، 18 ویں ترمیم کے بعد وفاق کی جھولی اختیارات سے خالی ہو گئی۔ بقول شخصے وفاق کی حکومت صرف 23 کلو میٹر رقبہ پر ہے۔ اس تنازع کا حل آئینی کی بجائے انتظامی یونٹوں سے نکل سکتا ہے تاہم اس میں بھی قیادت کے جھگڑے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس لیے صوبوں کے بکھیڑے میں پڑنے کی بجائے بلدیاتی اداروں کو براہ راست فنڈز کی فراہمی اور ان کی نگرانی کے لیے ایک مضبوط ادارے کے قیام پر توجہ دی جائے، اچھی خبر اختلافات کے باعث 27 ویں ترمیم روک دی گئی۔
کراچی پھر ڈوب گیا۔ ہر سال ڈوبتا ہے، پانی کو 38 برساتی نالوں، لیاری اور ملیر ندی تک پہنچنے نہیں دیا جائے گا تو وہ سڑکوں گھروں اور دکانوں ہی میں گھسے گا، نالوں پر سیکڑوں کچی آبادیاں قائم ہو گئیں، نالوں کی بجائے نالیاں رہ گئیں، ان میں کچرا پھینکنے کا رواج، غریبوں کی مجبوری، نالوں میں کچرا پھینکنا ضروری، اربوں کا نقصان ہر سال ہوتا ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے 20 سال میں پورے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔ ہم سے 17 سال میں نالوں کی صفائی نہ ہو سکی، خیبر پختونخوا میں سیاحوں کے لیے سڑکیں نہ بن سکیں، اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ حکومت نے صوبوں کو کارکردگی کی بنیاد پر فنڈز فراہمی کا اعلان کیا ہے، تجویز اچھی ہے عملدرآمد ذرا مشکل لگتا ہے۔
معافی کی شرائط، نئے صوبے، 27 ویں ترمیم
09:16 AM, 25 Aug, 2025