ریڈیو پاکستان کے پروگرام منیجر اور ہمارے دوست اکمل شہزاد اگھمن معروف صحافی اور پنجابی کے باکمال کہانی کار ہیں۔ حال ہی میں ’’پنجرے وچ آہلنا‘‘ کے نام سے اُن کی پنجابی کہانیوں کی دوسری کتاب شائع ہوئی ہے جس کی علمی و ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ہو رہی ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے ایک خوشخبری یہ بھی ہے کہ اسے کینیڈا میں ہر سال منعقدہونے والے پنجابی کہانی کے سب سے بڑے ایوارڈ ’’ ڈھاہاں ساہت‘‘ برائے 2025ء کے لیے بھی شارٹ لسٹ کر لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 2002ء میں ان کی پنجابی کہانیوں کی پہلی کتاب ’’ایہہ کہانی نئیں‘‘ چھپ چکی ہے۔ جسے علمی و ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی ملی اور ڈاکٹر طارق عزیز، منشا یاد اور اشفاق احمد جیسے معتبر اور سکہ بند کہانی لکھنے والوں نے اسے خوب سرِاہا تھا۔ گذشتہ دنوں ڈی جی لائبریریز پنجاب کاشف منظور نے قائد اعظم لائبریری لاہور کے آڈیٹوریم میں خصوصی طور پر اکمل شہزاد گھمن کی پنجابی کہانیوں کی نئی کتاب ’’پنجرے وچ آہلنا‘‘ کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا جس میں علم و ادب اور ثقافت کے ساتھ زندگی کے دیگر شعبوں سے بھی اہم شخصیات نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔ کاشف منظور ادبی ذوق کے حامل شعر و ادب کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے صاحب بصیرت افسر ہیں۔ قائد اعظم لائبریری میں ’’پنجرے وچ آہلنا‘‘ کی تقریب رونمائی ان کی اکمل شہزاد گھمن اور پنجابی شعر و ادب سے دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تقریب کے آغاز میں انہوں نے کتاب کی اشاعت پر اکمل شہزاد گھمن کو مبارکباد دینے کے ساتھ مقررین اور مہمانوں کو تقریب میں خوش آمدید کہا اور اس کے ساتھ حاضرین کو پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے لائبریری میں پنجابی گوشے کے افتتاح کی خوشخبری بھی سنائی جس کو حاضرین نے تالیاں بجا کر خوب سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اکمل شہزاد گھمن جیسی باکمال اور ہنر مند شخصیت ہمارے ادب کی شان ہے۔ انہوں نے اپنی کہانیوں میں دیہاتی زندگی کی سچائیوں اور اس کی خوبصورتی کو جس مہارت سے پیش کیا ہے۔ ان کی یہ کتاب یقینا پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو گی ہے۔ تقریب کی صدارت پنجابی زبان کے نامور شاعر اور محقق مشتاق صوفی نے کی جبکہ مہمانانِ خصوصی پنجابی زبان و ثقافت کی ترقی و ترویج کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر جانی پہچانی شخصیت الیاس گھمن اور معروف افسانہ و ڈرامہ نگار ڈاکٹر ناصر بلوچ تھے۔ دیگر مقررین میں پنجابی زبان و ادب کے بڑے بڑے اور نمایاں ناموں میں ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر احمر سہیل بسرا، افضل ساحر، اقبال قیصر، منظور کاشف، وقار مصطفی، حمید رازی، زبیر احمد، خالد فاروقی اور خالد نین سُکھ شامل تھے۔ نظامت کے فرائض ابرار ندیم (راقم الحروف) اور ارشد جمیل نے ادا کیے۔ تقریب میں تمام مقررین نے اکمل شہزاد گھمن کی پنجابی زبان و ادب کے لیے ان کی خدمات کو خوب سراہا اور ’’پنجرے وچ آہلنا‘‘ میں شامل کہانیوں کے مختلف پہلوئوں اور فنی محاسن کا جائزہ لیتے ہوئے اسے پنجابی ادب میں تازہ ہوا جھونکا اور ایک خوبصورت اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اکمل شہزاد گھمن کی کہانیوں میں نہ صرف دیہات کی خالص تہذیب و تمدن کی جھلک ملتی ہے بلکہ وہاں کے لوگوں کی نفسیات ان کے دکھ سکھ، امیدیں اور خواب بھی بڑی مہارت سے بیان کیے گئے ہیں۔ اکمل شہزاد گھمن کی کہانیوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ سچی اور خالص ہونے کی وجہ سے اپنے قاری کو کہانی کے کرداروں کے ساتھ جذباتی طور پر جوڑ دیتی ہیں۔ ان کے کرداروں کی بول چال، ان کے رویے، اور ان کے جذبات اتنی حقیقت پسندی سے پیش کیے گئے ہیں کہ قاری خود کو ان کرداروں کے ساتھ کھڑا محسوس کرتا ہے۔ ان کہانیوں کے کردار عام لوگ ہیں لیکن اکمل کا کمال یہ ہے کہ وہ انہیں اپنے فن کے ذریعے خاص بنا دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں کہانیوں کے یہ کردار نہ صرف حقیقی بلکہ جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں۔ اس کی کہانیوں میں دیہات کے کسان، مزدور، خواتین، بچے، بوڑھے سبھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کے کرداروں میں ایک عام انسان کی تمام تر کمزوریاں، خواہشات اور جذبات موجود ہیں۔ گھمن نے اپنی کہانیوں میں پنجابی زبان کا بہترین استعمال کیا ہے۔ ان کی زبان سادہ رواں اور پُراثر ہے جو قاری کو کہانی کے ساتھ جڑے رکھتی ہے۔ ان کی کہانیوں میں ایک ایسی طلسماتی کشش ہے جو قاری کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہے کہ قاری کہانی پڑھتے ہوئے کہانی اور اس کے کرداروں کے ساتھ بہتا ہی چلا جاتا ہے۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ارشد جمیل نے کہا کہ ’’پنجرے وچ آہلنا‘‘ صرف ایک کتاب نہیں ہے بلکہ یہ ہماری ثقافت، روایات اور ان لوگوں کی زندگی کی عکاسی ہے جو شہروں کے ہنگاموں میں اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں‘‘۔ ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر احمر سہیل بسرا نے کہا ’’اکمل کی کہانیاں ہمیں خود کی تلاش میں کرنے پر مجبور کرتی ہیں اور ان کے کردار جیتے جاگتے انسانوں کی مانند ہوتے ہیں۔ اکمل شہزاد گھمن کی کہانیاں اس قدر حقیقی ہیں کہ قاری انہیں پڑھتے ہوئے خود کہانی کے کرداروں میں کھو جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے خاص طور پر ’’مسلمان‘‘ کہانی کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک شاندار تخلیق قرار دیا۔ ڈاکٹر ناصر بلوچ نے کہا کہ یہ کتاب معاشرتی ادراک اور نفسیاتی مسئلوں کی گہرائیوں کو چھوتی ہے جو قاری کے ذہن میں ایک نیا سوال پیدا کرتی ہے۔ الیاس گھمن نے اکمل کی کہانیوں کی ساخت اور زبان کی خوبصورتی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا ’’اکمل کی کہانیاں محض کہانیاں نہیں بلکہ ایک ایسی عکاسی ہیں جو دیہاتی زندگی کی سچائیوں کو سامنے لاتی ہیں۔ ان کی زبان سادہ اور اثر پذیر ہے، جو قاری کو کہانی کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے‘‘ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ’’اکمل نے اپنی کہانیوں میں پنجابی کی سماجی اور ثقافتی خوبصورتی کو اجاگر کیا ہے جو اسے منفرد بناتی ہے‘‘۔ تقریب کے صدر مشتاق صوفی نے اپنے خطاب میں اکمل شہزاد گھمن کو پنجابی زبان کا ایک باکمال کہانی کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوں تو اس مجموعے کی تقریباً سبھی کہانیاں ہی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں مگر کمذات، مسلمان، میاں جی، غیرت، کوڈیاں والا خاصے کی کہانیاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ’’اکمل شہزاد گھمن نے اپنی کہانیوں میں دیہات کی زندگی کی سچی اور خالص عکاسی کی ہے۔ ان کی کہانیاں ایک روشنی کی مانند ہیں جو قاری کو دیہاتی ثقافت کی خوبصورتی کا احساس دلاتی ہیں‘‘۔ تقریب کے اختتام پر اکمل شہزاد گھمن نے مہمانان خصوصی، مقررین اور تمام معزز مہمانوں کا تقریب میں آمد پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔
لاہور میں ’’پنجرے وچ آہلنا‘‘ کی تقریبِ رونمائی
09:16 AM, 25 Aug, 2025