پولیس افسروں کی کُھلی کچہریاں، کھچائیاں اور کھینچا تانیاں

09:11 AM, 25 Apr, 2026

میں سب کی بات نہیں کر رہا مگر آج کل ہمارے کچھ سول و چول پولیس افسران نے اپنی طرف سے عوام کو وقتی ریلیف دینے کا ڈرامہ کُھلی کچہریوں کی صورت میں رچا رکھا ہے، جن کے ذریعے ایک طرف وہ اپنی ذاتی فلمیں چلاتے ہیں دوسری طرف مظلوموں کے چہرے دکھا دکھا کے اُن کی عزت نفس مجروح کرتے ہیں، اگلے روز ایک خاتون نے مجھے بتایا وہ اپنا کوئی مسئلہ لے کے ایک ڈی آئی جی کے دفتر گئی، اُس نے اُس کی درخواست پڑھے بغیر کہا ”بی بی پرسوں کُھلی کچہری میں آنا تمہارا مسئلہ وہاں سُنوں گا“، کُھلی کچہریوں کو اکثر افسروں نے ذاتی تشہیر یا نوکری پکی کرنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے، ایک پولیس افسر اپنی کُھلی کچہری میں لوگوں کے مسئلے اتنے حل نہیں کرتا جتنے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے قصیدے پڑھتا ہے، میں نے فون پر اُس سے کہا ”کبھی کبھی کوئی قصیدہ اپنے آئی جی کا بھی پڑھ لیا کرو، وہ بھی تمہارا کچھ لگتا ہے“، وہ کہنے لگا ”آئی جی نے مجھے لگایا ہوتا تو وہ بھی میرا کچھ لگتا، جس نے مجھے لگایا ہے یا جو ہٹا سکتی ہے میں نے اُسی کے گُن گانے ہیں“، بات اُس کی بالکل ٹھیک تھی۔ اگلے روز ایک اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جرائم کی شرح میں اچانک اضافے پر پنجاب پولیس کو خوب کھینچا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا کیونکہ نااہل اور پراپرٹی پسند پولیس افسروں کی آپس میں جو کھنچا تانی ہے اُس نے پولیس ڈسپلن اور روایات کو برباد کر دیا ہے ، حال ہی میں کچھ ایسے ڈی پی اوز لگائے گئے جو بہت حوالوں سے میرٹ پر پورا نہیں اُترتے، بیشمار اضلاع اب بھی خالی ہیں، میرے خیال میں وہاں ڈی پی اوز لگانے کے لیے ایسے پولیس افسران ڈھونڈنے میں شدید دشواری ہے جو میرٹ پر پورا نہیں اُترتے، پنجاب کے مختلف شہروں بالخصوص گوجرانوالہ میں جرائم اس قدر بڑھ گئے ہیں لوگوں کا جینا حرام ہو گیا ہے، کچھ سی پی او ٹائپ افسران کی تقرریاں جن بلند و بالا مقامات سے ہوتی ہیں اُس کے بعد وہ وزیراعلیٰ یا آئی جی کو بھی لفٹ نہیں کراتے، کچھ نکمے پولیس افسران ضلع اٹک میں اپنی تعیناتی کے دوران ایسی ایسی ”خدمات“ انجام دیتے ہیں بعد میں ناجائز کمائی کے اعتبار سے اچھی سے اچھی پوسٹنگ اُن کا ”حق“ بن جاتا ہے، ابھی پچھلے دنوں گوجرانوالہ میں ڈاکوو¿ں نے ایک اکلوتے جوان بیٹے کو قتل کر دیا، پہلے یہ ہوتا تھا اس سے کم کسی ظلم پر اعلیٰ پولیس افسران فوری طور پر مظلوم کے گھر پہنچ جاتے تھے، اب ہمارے اکثر پولیس افسران ناجائز کمائی کے ذرائع ڈھونڈنے میں اس قدر مصروف رہتے ہیں ایسے سانحات پر مظلوموں کے گھروں میں جا کر اہل خانہ سے تعزیت یا اظہار ہمدردی کرنا دُور کی بات ہے فون پر بھی اُن سے بات نہیں کرتے، وزیراعلیٰ کو اس بے حسی اور سنگدلی کا نوٹس لینا چاہیے، ایک نکمے ڈی پی او سے میں نے پوچھا ”اگر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف آپ کو بلائے اور آپ سے آپ کے ضلع میں ہونے والے بیشمار جرائم کا حساب پوچھے آپ کیا منہ لے کے جائیں گے“؟ کہنے لگا ”میں نے اس کا پورا بندوبست کیا ہوا ہے، میں نے تین کُھلی کچہریوں میں وزیراعلیٰ کی ٹکا کے تعریف کی ہوئی ہے، میں وہ وڈیو کلپ ساتھ لیجاو¿ں گا مجھے یقین ہے وہ دیکھنے کے بعد میڈم سی ایم نے مجھ سے یہ پوچھنا ہی نہیں، سُنا بھئی کاکا تیرے ضلع وچ کرائم ایناں ودھ کیوں گیا اے؟“ اس طرح کی گھٹیا سوچ کے حامل کچھ افسران جب تک سسٹم پر قابض یا حاوی ہیں اور جب تک ہمارے حکمران اُن سے نجات کے لیے اُن پر اپنی خوشامد کی مکمل پابندی عائد نہیں کرتے لوگوں کو انصاف یا فوری انصاف دینے کی سب باتیں فضول ہیں، نہ ہی کُھلی کچہریوں کے ڈراموں سے کچھ ہونا ہے، 1993 میں لاہور میں ایک ایس ایس پی تھا، وہ بھی ایسی ہی کُتی و نمائشی طبعیت کا مالک تھا جیسے آج کے بیشمار افسران ہیں، اُس کے دفتر کے باہر ہر وقت سائلین کا ہجوم ہوتا تھا، میں نے اُس سے کہا ”تم روزانہ کُھلی کچہری لگاتے ہو، بیسیوں لوگ اپنی درخواستیں ہاتھ میں پکڑ کے اللہ جانے کتنی دُور دُور سے آتے ہیں، اُن کے پاس پتہ نہیں آنے جانے کی کوئی سواری یا کرایہ بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ تم اپنے ماتحت سسٹم کو کیوں ٹھیک نہیں کرتے جس سے اُن کو تمہارے پاس آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو، اُن کے مسائل تھانوں میں ہی حل ہونا شروع ہو جائیں“ اُس پولیس افسر نے سگار کا ایک لمبا کش لگایا مسکراتے ہوئے بولا ”اگر اُن کے سارے مسئلے تھانوں میں حل ہونا شروع ہو گئے میرے دفتر میں پھر اُلو ہی بولیں گے“۔ ہمارے اکثر نمائش پسند افسران لوگوں کے مسائل حل کرتے ہوئے اُنہیں یہ احساس دلاتے ہیں وہ اُن پر بہت بڑا احسان کر رہے ہیں، حالانکہ یہ اُن کا فرض ہے، اتنی بھاری تنخواہیں اور مراعات اور کس مقصد کے لیے وہ لیتے ہیں؟ اگلے روز میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا ایک نمائشی پولیس افسر کی کُھلی کچہری میں اذان کی آواز سُنائی دی، اُس افسر نے فوری طور پر کام روکتے ہوئے وہاں موجود سائلین سے کہا ”میں ذرا نماز پڑھ لُوں اب باقی درخواستیں دو گھنٹے بعد سُنوں گا“۔ دو گھنٹے کی نماز اللہ جانے کون سی ہوتی ہے؟ اصل نماز یہ تھی مظلوموں کی داد رسی کا سلسلہ بغیر وقفے کے وہ جاری رکھتا، اپنی نمازوں و دیگر عبادات کی نمائش بھی ہماری فطرت کا اب حصہ ہے، آپ کسی افسر کو کال کریں دو گھنٹے بعد واپس اُس کی کال آتی ہے وہ کہتا ہے ”میں نماز پڑھ رہا تھا“، بھئی یہ بتانا ضروری ہے آپ نماز پڑھ رہے تھے؟ گزارش بس اتنی ہے اگر ہمارے افسران اپنی نیکیوں کا صلہ کچھ دُنیاوی قوتوں سے لینا چاہتے ہیں یا اُن کا مقصد ذاتی فائدوں یا تشہیر وغیرہ کا ہے پھر جو وہ کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں، اور اگر وہ یہ کام اپنا فرض سمجھ کر صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ضروری ہے اپنے ماتحت سسٹم کو وہ اس انداز میں ٹھیک کریں کسی کو دُور دراز علاقوں سے لمبے چوڑے کرائے خرچ کر کے اُن کے پاس آنے کی ضرورت بہت کم معاملات میں محسوس ہو، لوگوں کو انصاف وہیں سے ملنا چاہیے جو اس کا پہلا اور اصل مرکز ہے، یہ کوئی انصاف نہیں کچھ سول و چول افسران کسی کُھلی کچہری میں کسی مظلوم کی شکایت پر نمائشی طور پر اپنے کسی ایس ایچ او، کسی انچارج انویسٹی گیشن، کسی تحصیل دار کسی پٹواری وغیرہ کی سرزنش کریں یا اُسے معطل کرنے کا اعلان کر کے تالیاں بجوا لیں، بعد میں فون پر اُس سے کہیں ”پریشان نہ ہونا، منتھلی وقت پر پہنچا دینا، تمارے خلاف ایکشن صرف وقتی طور پر دکھاوے کا ہے، ایک آدھ دن میں تمہیں اس سے زیادہ منتھلی والی اچھی پوسٹنگ سے نواز دیں گے“۔

مزیدخبریں