ایران، امریکہ امن مذاکرات، فتح و شکست کے حتمی فیصلے تک

09:10 AM, 25 Apr, 2026

مذاکرات کا دوسرا دور ہو گا یا نہیں، ایران اور امریکہ کے وفود کب اسلام آباد آئیں گے، کیا پاکستان فریقین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر بٹھانے میں کامیاب ہو جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔ ویسے ہم نے تو ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر کی آمد کی توقع پر اسی لیول کی سکیورٹی کے انتظامات کر رکھے تھے۔ اسلام آباد مکمل طور پر ریڈ الرٹ لیول پر تھا، ویسے اطلاعات کے مطابق 23 امریکی کارگو طیاروں کے ذریعے اسلام آباد میں بہت سا ساز و سامان پہنچایا گیا تھا جو ٹرمپ لیول کی شخصیت کی سکیورٹی کے لئے ضروری تھا۔ ویسے یہ سب کچھ ابھی تک اسلام آباد میں ہی دھرا ہوا ہے۔ امریکی صدر مذاکرات کے دوسرے دور کے شروع ہونے کا اعلان بھی کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے امریکی بحریہ کو حکم دے دیا ہے کہ وہ بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو آبنائے ہرمز میں مصروف عمل پائیں تو اسے بغیر وارننگ کے تباہ کر دیں۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری ہے۔ امریکہ نے اپنی قوت اور عسکریت کا اظہار کرنے کے لئے ہرمز میں جہازوں و ٹینکروں کی آمد و رفت پر پہرہ بٹھا دیا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی میں اسی وجہ سے غیریقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک قدرتی گزرگاہ ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق اس پر کوئی ملک قدغن نہیں لگا سکتا ہے۔ راہداری وصول نہیں کر سکتا ہے لیکن ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ کے دوران اس پر قبضہ کر کے عالمی قوانین کی پامالی کی۔ بات یہاں تک رہتی تو شاید کچھ نہ ہوتا۔ ایران نے یہاں سے گزرنے والے ٹینکروں و جہازوں پر ٹیکس وصولی شروع کر دی۔ کچھ ممالک نے یہ ادائیگی شروع بھی کر دی۔ گزشتہ روز ایرانی اہلکار نے باقاعدہ اعلان کیا کہ ہم نے وصولیوں کو مرکزی بینک میں جمع کرانا شروع بھی کر دیا ہے۔ ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ اکاﺅنٹ کھولنے کے بعد پہلے ڈیپازٹ کی مقدار کیا تھی لیکن یہ بات تو طے ہو گئی کہ ایران ہرمز کو اپنی فتح کے طور پر مقبوضہ املاک تصور ہی نہیں کر رہا ہے بلکہ اس سے آمدنی بھی لینا شروع کر چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کیا رنگ لاتی ہے۔ اس وقت مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہرمز کی امریکی ناکہ بندی اور ایرانی ٹیکس وصولی ہے۔ فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف ایران کا ایٹمی پروگرام ہے۔ امریکہ، ایران کو ایٹمی مملکت بننے نہیں دینا چاہتا ہے۔ یہ بات ایران بھی قبول کر چکا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے لیکن ایران نے یورینیم کی 60فیصد تک صفائی کر کے 450 کلوگرام یورینیم حاصل کر رکھا ہے۔ امریکہ اس کی واپسی چاہتا ہے۔ یہ یورینیم ایران نے زمین دوز تہہ خانے میں محفوظ رکھا ہوا تھا۔ امریکی بمباری کے نتیجے میں یہ مکمل طور پر درگور ہو چکا ہے۔ اب اسے نکالنا ایک مہم ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یہ یورینیم اس کے حوالے کرے تاکہ امریکہ یہ اعلان کر سکے کہ دیکھو اس نے ایران کے ایٹمی بال و پر کاٹ دیئے ہیں۔ ایران اصولی طور پر ایٹمی پروگرام ختم کرنے پر تیار ہے۔ انرچمنٹ کو قانونی سطح پر لانے کے لئے بھی تیار ہے لیکن وہ یہ سب کچھ باوقار اور احسن طریقے سے کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہو سکے۔ باقی ایران کا عالمی پابندیوں کے خاتمے اور اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ ہو یا دیگر معاملات گفتگو کے ذریعے طے ہو سکتے ہیں لیکن مذاکرات کی کامیابی کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ فریقین کی پوزیشن واضح ہو کہ کون فاتح ہے اور کون مفتوح برابری کی سطح پر فریقین کے درمیان معاہدہ نہیں ہوتا ہے۔ گزشتہ صدی میں معاہدہ و رسائی ہو یا امریکہ و جاپان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ، جرمنی اور جاپان کی شکست کے بعد ہی یہ معاہدے ممکن ہوئے تھے۔ جنیوا امن معاہدہ سوویت یونین کی شکست کے بعد ہی ممکن ہوا تھا۔ دوحہ امن معاہدہ امریکی فوجوں کی افغانستان میں شکست پر منتج ہوا تھا۔ شملہ معاہدہ بھی پاکستان کی عسکری ہزیمت کے بعد ہی ممکن ہوا تھا۔ تاریخ کا یہ ایسا سبق ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا ہے۔ قوموں کے درمیان فیصلے ہمیشہ میدان جنگ میں ہی ہوا کرتے ہیں۔ فتح و شکست کا فیصلہ ہمیشہ جنگ کا میدان کرتا ہے۔ ہاں تحریراً یہ سب کچھ مذاکرات کی میز پر ممکن ہوتا ہے۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے جنگوں میں فیصلے کے بعد ہی ممکن ہوئے ہیں۔ عرب میدان جنگ میں شکست کھا جانے کے بعد ہی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے اور پھر معاہدہ ہوا۔ اوسلو کارڈ ہو یا ابراہام معاہدہ یہ سب تحریریں میدان جنگ میں لکھی گئیں۔ اب امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ میدان جنگ میں طے پائے گا۔ ابھی جنگ کا میدان سجا ہوا ہے۔ کسی ایک فریق کی واضح فتح یا شکست کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، اس لئے امن معاہدہ نہیں ہو پا رہا ہے، اس وقت بظاہر ایران کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ ہرمز پر قبضہ کر کے ایران نے اپنی برتری ظاہر کی ہے لیکن امریکہ نے اس کی ناکہ بندی کے ذریعے اپنا عسکری بازو دکھایا ہے۔ امریکی بمباری نے ایران میں تباہی مچائی ہے۔ ایرانی انفراسٹرکچر برباد کیا ہے۔ ایرانی معیشت تباہی کا منظر پیش کر رہی ہے لیکن ایرانی شکست ماننے کےلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ امریکہ کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کرنے کےلئے بے تاب نظر آرہے ہیں۔ ایرانیوں نے اپنی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجیز کے موثر استعمال سے امریکی اور اسرائیلی اہداف پر نشانے لگا کر دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ 45 سال سے امریکی پابندیوں کا شکار ملک ایران اتنی شاندار مقاومت اور مزاحمت کا مظاہرہ کر سکتا ہے لیکن ایران نے بحری اور فضائی افواج نہ ہونے کے باوجود جس طرح امریکی جنگی مشین کے مقابل جرا¿ت اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے۔ دنیا پر یہ تاثر قائم ہونے لگا ہے کہ امریکہ ایران پر فتح حاصل نہیں کر پایا۔ امریکہ ایران کو تباہ و برباد کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود شکست نہیں دے سکا۔ ایران امریکہ پر فتح یاب نہیں ہو سکتا لیکن اس نے امریکہ کی بینڈ بجا دی ہے۔ ٹرمپ اندرون ملک بھی اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔ ان کے یورپی اتحادی بھی انہیں چھوڑ رہے ہیں اور ان کے عرب اتحادیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پر بھی ایک گہرا سوالیہ نشان پیدا ہو چکا ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی عسکری دھاک کو ہوا میں بکھیردیا ہے۔ ایران خود تو تباہ و برباد ہو گیا ہے لیکن اس نے امریکہ و اسرائیل کو بھی ثابت نہیں چھوڑا ہے۔
فتح و شکست کے حتمی فیصلے تک مذاکرات کا کھیل بھی جاری رہے گا۔ امریکہ ایک جارح طاقت ہے۔ یہ جنگ اس نے شروع کی ہے۔ ایرانی مدافعتی جنگ لڑتے لڑتے مضبوط نظر آرہے ہیں۔ ان کی داخلی تفریق بھی اس جنگ کے باعث مدھم پڑ چکی ہے۔ پاسداران کا فیصلوں پر کنٹرول موثر نظر آرہا ہے۔ وہ جنگ کو حتمی انداز میں فیصلہ کن موڑ تک پہنچانے میں یکسو نظر آرہے ہیں۔ ایران تباہی و بربادی کا شکار ہو چکا ہے۔ معیشت برباد ہو چکی ہے لیکن میدان جنگ میں وہ پرعزم اور ڈٹے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ امریکی پوزیشن بظاہر کمزور نظر آرہی ہے، اس لئے جنگ کے شعلے سرد ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ حتمی فیصلے تک جنگ جاری رہے گی۔

مزیدخبریں