پچھلے ہفتے کے اختتام اور موجودہ ہفتے کے آغاز سے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی میز سجانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس میں ابھی تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی تو اس کی بڑی وجہ ایران کی طرف سے بوجوہ مذاکرات میں شرکت سے گریز ہے۔ ورنہ امریکہ کی طرف سے تو آغازِ ہفتہ ہی سے پاک فضائیہ کے نور خان ائیر بیس چک لالہ پر مواصلاتی آلات، موٹر کیڈ سپورٹ اور دوسرے ضروری سازو سامان سے لدے بھاری بھر کم 17-A C گلوب ماسٹربوئنگ طیاروں نے لینڈ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس دوران درجن بھر کے قریب امریکی طیارے نور خان ائیر بیس پر پہنچے تو گویا یہ اس بات کی علامت تھی کہ جلد ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آبادمیں موجود ہو گا۔ اس طرح کی خبریں بھی سامنے آئیں کہ مذاکرات کے اختتام پر معاہدے پر دستخط کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسلام آباد آ سکتے ہیں۔اس دوران مملکت خداد اد پاکستان کے اعلیٰ ترین حکومتی اور ریاستی عہدیداروں جن میں وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈاراور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرِ فہرست ہیں کی طرف سے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول مہیا کرنے اور فریقین ، بالخصوص ایرانی وفد کو مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد آمد پر آمادہ کرنے کے لیے ہر سطح پر بھر پور عیاں اور نیاں کوششیں جاری رہیں اور ابھی تک جاری ہیں۔ یہ کوششیں کہاں تک رنگ لاتی ہیں اور امریکہ، ایران مذاکرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا جلد ہی اندازہ ہو جائے گا تاہم معروضی صورتِ حال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے لیکن اس سے قبل ایک اور پہلو کا ذکر کرنا ہے کہ امریکہ، ایران مذاکرات کے پہلے دور کے لیے اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے کیے جانے والے انتظامی فیصلوں سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو بے پناہ تکالیف ، مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تو اب جو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے قبل از وقت کی جانے والی تیاریوں اور انتظامی فیصلوں سے وہ اس سے بھی بڑھ کر متاثر ہو رہے ہیں اور انہیںبے پناہ مشکلات ، مصائب اور مسائل سے دو چار ہونا پڑرہاہے۔
یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ اسلام آباد انتظامیہ نے امریکی اور ایرانی وفود کی مذاکرات میں متوقع شرکت اور اس موقع پر وفود اور دیگر مہمانوں کی فُول پروف سکیورٹی کے لیے اسلام آباد کے شہر کو مکمل طو ر سِیل کرنے اور اس کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرنے میں کچھ کسر نہیں چھوڑ رکھی ہے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون کو بند کرنا کسی حد تک سمجھ میں آ سکتا ہے کہ وہاں اسلام آباد کے فائیو سٹار ز ہوٹل سرینا اور
میریٹ واقع ہیں جہاں مذاکرات کا انعقاد اور مہمانوں کے قیام و طعام کے انتظامات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت ِ پاکستان کے اہم دفاتر، پارلیمنٹ ہاو¿س، ایوانِ صدر اور سیکر ٹریٹ وغیرہ بھی اسی زون میں واقع ہیں۔ مان لیا کہ ریڈ زون میں واقع حکومتِ پاکستان کے یہ انتظامی دفاتر اور سیکرٹریٹ وغیرہ مذاکرات کی تیاریوں اور ان کے انعقاد کے دنوں میں بند رہتے ہیں تو اس سے کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی کہ ورک فرام ہوم (گھر سے کام کرنا) سے روزمرہ امور کی خانہ پرُی کی جا سکتی ہے لیکن کیا کسی نے یہ بھی سوچا کہ اسی ریڈ زون میں ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ سپریم کورٹ آف پاکستان ، وفاقی آئینی عدالت ، فیڈرل شریعت کورٹ اور اسلام آبا د ہائی کورٹ کی عمارات بھی موجود ہیں۔ اب اِن کے ساتھ ہوا کیا ہے اور کیا ہو رہا ہے کہ آغازِ ہفتہ جب سے ریڈ زون بند ہے وفاقی آئینی عدالت، فیڈرل شریعت کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمات کی سماعت نہیں ہو سکی ہے اور یہ عدالتیں ایک لحاظ سے بندش کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں۔
خیر ریڈ زون کی بندش کی وجہ ایک مجبوری سمجھی جا سکتی ہے لیکن موٹر ویز، جی ٹی روڈ وغیرہ اور اِن پر ٹرانسپورٹ اڈوںکو بند کرنا کہاں کا دانشمندانہ فیصلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں کی بندش کی وجہ سے نہ صرف اسلام آباد کے شہری بُری طرح متاثر ہوئے ہیں بلکہ جڑواں شہر راولپنڈی کے باسیوں کو بھی اس کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام آباد سبزی و فروٹ منڈی میں پچھلے ایک آدھ ہفتہ سے باہر سے سبزی اور فروٹ لانے والی گاڑیاں نہیں آ سکی ہیں۔ یہ گاڑیاں موٹر وے ٹول پلازہ اور جی ٹی روڈ پر کھڑی ہونے پر مجبور ہیں۔ ایک تو ان میں سبزی اور فروٹ خراب ہو رہے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ سبزی منڈی میں ان گاڑیوں کے نہ پہنچنے کی بنا پر رسد اور طلب میں فرق پیدا ہو نے کی وجہ سے سبزی اور فروٹ کی عام دکانوں پر جہاں ان چیزوں کی قلت ہو چکی ہے وہاں ان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ خیر یہ ایک الگ معاملہ ہے جس کا تعلق عوام الناس سے جڑتا ہے اور عموماً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو اس طرح کے معاملات سے کو ئی غرض نہیں ہوتی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی تازہ ترین کی صورتِ حال ک کا جائزہ لیں تو جیسے آج کے کالم کے عنوان امریکہ نرم اور تیار ۔۔۔ ایران گرم اور انتظار ۔۔۔! سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ تو پچھلا پورا ہفتہ مذاکرات میں شرکت کے لیے تیاری کیے بیٹھا رہا ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے کسی حد تک حوصلہ افزا بیانات ہی سامنے نہیں آتے رہے ہیں بلکہ امریکی صدر نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے بدھ کی صبح ختم ہونے والی جنگ بندی کو بھی آگے غیر معینہ مدت کے لیے آگے بڑھا دیا۔ اس کے مقابلے میں ایران کی طرف سے مذاکرات میں شرکت کے لیے گرم جوشی ہی مفقود ہی نہیں رہی بلکہ ایرانی سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادتوں کے کسی حد تک سخت بیانات بھی سامنے آتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ پاکستان کی طرف سے ایران کی مذاکرات میں شرکت کے لیے ہر سطح پر کی جانے والی کوششیں ہی رائیگاں نہ گئیں بلکہ پاکستان کے آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی کی معیت میں پچھلے ہفتے ایران کے تین روزہ دورے کے مثبت نتائج بھی پوری طرح سامنے نہیں آ سکے ۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سید محسن نقوی ایران کے دورے پر گئے تو ان کی ایران کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کے ساتھ پاسدارانِ انقلاب کے اہم کمانڈروں سے بھی املاقاتیں ہوئیں ۔ یہ سب ایران کے مفاد میں اور ایران کے لیے خیرسگالی کے جذبات کے اظہار کے طور پر تھا۔ ایرانی قیادت کو اس کی قدر کرنی چاہیے اور ویسے بھی ضِد ، ہٹ دھرمی اور میں نہ مانوں کا رویہ کبھی فائدہ مند نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی ستائش کی جا سکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ایران نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں استقامت، دلیری، حوصلہ مندی اور مستقل مزاجی سے مزاحمت کا جو راستہ اختیار کیا ہے اس سے اُسے بڑا حوصلہ ہی نہیں مِلا بلکہ سَر اٹھا کر چلنے کا موقع بھی مِلا ہے۔ایران نے اپنی کمزوری کے پہلوو¿ں کو اپنے لیے مضبوطی کا ذریعہ بنایا۔ اِس ضمن میں اُس نے جس چیز کو سب سے زیادہ ایکسپلائٹ کیا یا اُس نے فائدہ اٹھایا وہ اس کو سعودی عرب اور خلیج کی ریاستوں میں امریکی ہوائی اڈوں کی آڑ میں ان ممالک کی تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مراکز کو اپنے میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا تھا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے بھی اب یہ دھمکی موجود ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی جاتی ہے یا اُن کونشانہ بنایا جاتا ہے تو ایران خلیج کی ریاستوں اور سعودی عرب میں اہم مراکز ، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو حسبِ سابق نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔ ایران اگر ایسا کرتا ہے تو اسے سوچ لینا چاہیے کہ اس کا یہ فعل ہمیشہ اُس کے لیے گارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔ مخالفین کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو سکتا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو ایران کی طرف سے اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکار کی وجہ سے امریکہ کے رویے میں بھی سختی آ چکی ہے۔ جمعة المبارک کی دوپہر کو یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو امریکی صدر کے لب و لہجے میں فرق آ چکا ہے۔ اب اس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے میں کوئی جلدی نہیں ہے۔ تاہم ایران کے لیے اب وقت نکلا جا رہا ہے۔ اسے امریکہ کی طرف سے ایران کے لیے ایک کھلی وارننگ سمجھا جا سکتا ہے۔
امریکہ نرم اور تیار ۔۔۔ایران گرم اور انتظار!
09:09 AM, 25 Apr, 2026