پاکستان میں عام آدمی کی معاشی حالت اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں ہر نیا مسئلہ پہلے سے موجود زخموں کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، معیار میں گراوٹ، ناپ تول میں کمی اور اب صنعتی سالوینٹ کی ملاوٹ، یہ سب مل کر ایک ایسے مرے کو مارے شاہ مدار والے منظرنامے کی تشکیل کر رہے ہیں جہاں صارف کے پاس نہ کوئی مو¿ثر آواز ہے اور نہ ہی فوری انصاف۔پٹرول، جو جدید معیشت کی شہ رگ ہے، پاکستان میں ایک منافع بخش مگر غیر شفاف کاروبار بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ انکشافات کے مطابق پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی ہے کہ کچھ عناصر پیٹرول اور ڈیزل میں صنعتی سالوینٹ ملا کر غیر قانونی منافع کما رہے ہیں۔ یہ انکشاف اس لحاظ سے اہم ہے کہ خود انڈسٹری کے اندر سے اٹھنے والی یہ آواز ایک گہرے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ مگر سوال بدستور قائم ہے: کیا ریاستی ادارے اس بحران کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟صنعتی سالوینٹ، جو بنیادی طور پر پینٹ اور وارنش کی صنعت میں استعمال ہوتا ہے، جب ایندھن میں شامل کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج صرف گاڑی کے انجن تک محدود نہیں رہتے۔ یہ عمل انجن کے اندرونی حصوں کو تباہ کرتا ہے، فیول ایفیشنسی کم کرتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو وہ ٹیکس چوری ہے جو اس عمل کے ذریعے کی جاتی ہے، کیونکہ سالوینٹ پر عائد ٹیکس پیٹرول کے مقابلے میں کہیں کم ہوتا ہے۔ یوں یہ معاملہ نہ صرف صارف کے استحصال کا بلکہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا بھی ہے۔اگر یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ نگرانی کا نظام یا تو ناکام ہو چکا ہے یا پھر اس میں دانستہ غفلت شامل ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی جس کا بنیادی کام معیار اور مقدار کی نگرانی ہے، اس تناظر میں شدید تنقید کی زد میں آتا ہے۔ روایتی انسپیکشن اور کاغذی کارروائیاں اب اس جدید نوعیت کی دھوکہ دہی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے جو نہ صرف سپلائی چین بلکہ پمپ سطح تک ہر مرحلے کو شفاف بنائے۔ پٹرول پمپوں پر ناپ تول میں کمی بھی ایک الگ مگر جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ خفیہ الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے میٹرز میں رد و بدل کر کے صارفین کو ملی لیٹر کے بجائے ملی لیٹر دینا ایک عام واردات بنتی جا رہی ہے۔ یہ کوئی انفرادی دھوکہ نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جہاں ٹیکنیکل مہارت اور ریگولیٹری کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ عام شہری کےلئے اس فراڈ کو موقع پر پکڑنا تقریباً ناممکن ہے، جس کی وجہ سے یہ جرم مسلسل جاری رہتا ہے۔یہ تمام مسائل اس وقت مزید سنگین ہو جاتے ہیں جب انہیں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے تناظر میں دیکھا جائے۔ پہلے ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، آمدن میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے، اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے
میں اگر بنیادی ضرورت یعنی ایندھن میں بھی دھوکہ دہی ہو تو یہ عوام کے ساتھ دوہرا نہیں بلکہ کئی گنا ظلم بن جاتا ہے۔یہ صورتحال صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بحران کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ جب ایک معاشرے میں عدالت سے لے کر تجارت، سفارت سے لے کر بیوروکریسی اور مزدور سے لے کر آجر تک ہر سطح پر بداعتمادی اور بے یقینی پیدا ہو جائے تو پھر مسئلہ محض پٹرول کی چوری تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرتا ہے جہاں دیانت ایک استثنا اور بدعنوانی ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس گھن چکر کو توڑے۔ اس کے لیے فوری اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں: پٹرول پمپوں پر اچانک چھاپے، جدید لیبارٹری ٹیسٹنگ، میٹرز کی ڈیجیٹل تصدیق اور ملاوٹ یا ناپ تول میں کمی کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت سزائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ریفائنریوں سے لے کر ریٹیل سطح تک سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹل مانیٹرنگ بھی ضروری ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی فوری نشاندہی ہو سکے۔مزید برآں، ایک مو¿ثر اور فوری شکایتی نظام کا قیام بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، جہاں صارف موقع پر ہی اپنی شکایت درج کرا سکے اور اس پر فوری کارروائی ہو۔ جب تک عوام کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے، اعتماد کی بحالی ممکن نہیں۔آخرکار، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پٹرول کی چوری، ملاوٹ اور مہنگائی جیسے مسائل الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی نظام کی مختلف شکلیں ہیں۔ اگر ان کا بروقت اور مو¿ثر حل نہ نکالا گیا تو یہ خاموش بحران ایک بڑے سماجی اور معاشی طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اور اس وقت شاید یہ کہنا بھی کافی نہ ہو کہ مرے کو مارے شاہ مدارکیونکہ تب تک مریض کے پاس سانس لینے کی بھی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
مرے کو مارے شاہ مدار! پٹرول
09:08 AM, 25 Apr, 2026