اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر28فروری کو حملہ کیا تھا جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان چالیس دن تک تباہ کن جنگ جاری رہی۔ پاکستانی قیادت کی ان تھک کوششوں سے8اپریل کو دونوں ملکوں کے درمیان دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی طے پائی اور 11اپریل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچا۔ مذاکرات بے نتیجہ رہے اور امریکی نائب صدر امریکہ واپس لوٹ گئے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے کہ لچک نہیں دکھائی گئی جبکہ پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔ گزشتہ ایک ہفتہ اسی شش و پنج میں گزرا کہ آج کل میں مذاکرات ہو جائیں گے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان آنے کی خبریں بھی گرم رہیں لیکن ایرانی وفد کے نہ آنے سے مذاکرات اب تک نہیں ہو سکے۔
جب تک تو جنگ جاری تھی، اسرائیل اور امریکہ ایران پر تابڑ توڑ حملے کر رہے تھے اور ایران بھی انہیں منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اسرائیل کے علاوہ خلیجی ملکوں میں قائم امریکی اڈوں پر حملے کر رہا تھا، اس وقت تک تو پاکستان میں لوگوں کی اکثریت کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں، سب کا خیال تھا کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر جنگ مسلط کی ہے سو ایران کے جوابی حملے بالکل درست ہیں۔ خاص طور پر لوگ اسرائیل میں ہونے والی تباہی پر بہت خوش تھے کہ اس طرح کم از کم غزہ پر گزشتہ دو سال کے دوران ہونے والے اسرائیلی بربریت کا کسی حد تک ازالہ ہو رہا تھا۔
اب جبکہ دوہفتے کی عارضی جنگ بندی کا دورانیہ مکمل ہو چکا ہے اور ایران کے دوبارہ مذاکرات کی میز پر نہ آنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بند میں غیر معینہ مدت کے لیے مزید توسیع کا اعلان کر دیا گیا ہے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایران کے سخت موقف کے باعث اس پر تنقید کرنے لگی ہے۔ کچھ لوگ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس جنگ ختم کرنے کا موقع ہے، اسے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ایران کو اس قدر سخت موقف نہیں اپنانا چاہیے، کچھ کہتے ہیں ایران کو امریکہ کی شرائط مان لینی چاہیے اور کچھ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو ایران کی حمایت ترک کر دینی چاہیے۔
موجودہ صورت حال میں ایران کو اصولی طور پر کسی قسم کا الزام نہیں دیا جا سکتا کہ نہ تو یہ جنگ اس نے شروع کی تھی اور نہ ہی جنگ بندی یا مذاکرات کے عمل کو اس نے خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنگ شروع کرنے کا ذمہ دار بھی امریکہ ہے اور مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں بھی وہی کر رہا ہے۔ جو لوگ اب ایران کی دبی دبی مخالفت کرنے لگے ہیں اور مذاکراتی عمل کے تعطل کی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ایران کرے تو کیا کرے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ذرا خود کو ایرانی قیادت کی جگہ رکھ کر سوچیں کہ اگر وہ اس جگہ پر ہوتے تو کیا کرتے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی بھی چل رہی ہے اور امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ امریکہ کی بدنیتی اور غنڈہ گردی کو عیاں کرنے کے لیے صرف یہی ایک صورت حال ہی کافی ہے۔ عارضی جنگ بندی سے مراد تو یہ تھی کہ دونوں ملک جنگ کو بالکل روک دیں اور یہ مدت ختم ہونے تک اس دوسرے کے خلاف بالکل بھی جارحیت کا ارتکاب نہ کریں۔ مذاکرات کے اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی دس روزہ عارضی جنگ بندی عمل میں آئی جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باقی دنوں تک آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلی رہے گی اس اعلان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی جس کے بعد ایران نے بھی اسے دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایران کو الزام دینے والوں سے سوال ہے کہ امریکہ کو ہزاروں میل دور سے یہاں آ کر پہلے اس پر جنگ مسلط کرنے کی اور پھر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ایران پر ایٹم بم بنانے کا الزام لگا کر جنگ مسلط کی گئی حالانکہ ایران نے نہ کبھی کسی ملک پر ایٹمی حملے کی دھمکی نہیں دی جبکہ امریکہ آئے روز ایسی دھمکیاں دیتا رہتا ہے اور وہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے انسانی تاریخ میں کسی دوسرے ملک کے خلاف ایٹم بم استعمال کر رکھا ہے۔ امریکہ نے عراق پر بھی یہی الزام لگا کر حملہ کیا تھا لیکن بعد میں وہاں سے کچھ بھی نہیں نکلا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا کہ یہاں نہ تو امریکہ کی کوئی زمینی حدود ہے نہ سمندری حدود جبکہ خلیج فارس اور خلیج عمان کے ساتھ ساتھ ایران کا تقریباً دو ہزار کلومیٹر طویل ساحل ہے جس میں آبنائے ہرمز کا حصہ بھی شامل ہے۔ ستم بالائے ستم کہ امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی ایسے وقت میں کی گئی جبکہ ایران نے اسے کھولنے کا اعلان کر دیا تھا۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ایران نے باقاعدہ جنگ بندی کی طرف پہلا قدم اٹھایا تو امریکہ نے اس قدم کا خیر مقدم کرنے کی بجائے الٹا خود جنگ بندی کی خلاف ورزی کر دی۔ ایسے میں اگر ایران کہتا ہے کہ اسے امریکہ پر اعتبار نہیں یا دھمکیاں اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے تو اس میں غلط کیا ہے۔ ایرانی قیادت تو اب تک بھی پاکستانی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے اور مستقل جنگ بندی کی طرف کوئی مثبت پیش رفت کرنا چاہتی ہے لیکن امریکہ کا کیا اعتبار کہ وہ بنے بنائے کھیل کو بگاڑ دے۔ ایسے میں ایران جو کچھ کر رہا ہے، اگر یہ سب کچھ نہ کرے تو پھر اور کیا کرے؟
ایران کیا کرے؟
09:07 AM, 25 Apr, 2026