دو جمع دو پانچ اور تھمب مشین

09:32 AM, 26 Apr, 2025

چپ سائیں چوپال میں براجمان ہاتھ میں اخبار لئے مطالعہ کررہے تھے۔وہ ساتھ ساتھ کبھی شہہ سرخیاں پڑھتے اور کبھی کوئی مضمون با آواز بلند پڑھتے۔ چپ سائیںنے اچانک اونچی آواز میںکہا ”دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔۔۔سب متوجہ ہوگئے۔۔۔ چپ سائیں دوبارہ گویا ہوئے کہا دہشت گردی کے عفریت نے نہ صرف انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا بلکہ عالمی امن و سکون کو بھی خطرات میں ڈال دیا ہے۔ چپ سائیں کی آواز ڈگمگا گئی ۔۔۔ بولے ،دہشت گرد خودکش حملہ کرنے سے قبل لوگوں کی ذہن سازی کرتے ہیں، اس کا مقصد خوف و ہراس کی فضاءقائم کرنا بھی ہوتا ہے تاکہ عوام میں بے چینی اور عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔یہ کہتے کہتے چپ سائیں چپ کرگئے۔
نتھو اور پھتو نے اسی اثنا میں بحث کرنا شروع کردی، چپ سائیں نے اخبار کو ایک سائیڈ پر رکھا اور بولے بھائیو ماجرا کیا ہے؟۔ نتھو بولا سائیں جی ہم دونوں کچھ ذاتی معاملات پر باہمی گفت وشنید کررہے ہیںلیکن پھتو نے خوامخوا کی بحث شروع کردی ہے۔ چپ سائیں نے کہاکہ بحث کیوں اور کیسے شروع ہوئی؟۔نتھو بولا سائیں جی میںنے یہ کہا کہ میں اور میری گھر والی بھلی مانس ہم دونوں مل کر چھوٹے چھوٹے اور بڑے بڑے کام کرتے ہیں۔ اس طرح ہماری گزر بسر ہوجاتی ہے۔ سائیں جی بولے یہ تواچھی بات ہے لیکن کام کی نوعیت بھی تو بتاﺅ ۔ ۔ نتھو مسکرا تے ہوئے بولا۔۔ میری گھر والی کے ذمے ، بچے پالنا، ان کے لیے کھانے کا بندو بست کرناوغیر وغیرہ۔ ہم دونوں نے گھر کی ذمہ داریاں اور کام بانٹے ہوئے ہیں۔ اس طرح گزر بسر اچھی ہورہی ہے اور کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ چوپال میں سب حیران ہوئے اور بیک زبان بولے، بھئی نتھو تم بھی توبتاﺅ تم آخر کونسے بڑے کام کرتے ہو۔۔۔نتھو دوبارہ زیر لب مسکرایا۔۔۔۔ توقف کے بعد بولا۔۔۔ بھائیو۔۔۔ٹی وی دیکھنا۔۔۔ اخبار پڑھنا۔۔۔ بیوی بچوں کو مزے مزے کی خبریں سنانا۔۔۔ اور۔۔ اور۔۔ اور۔۔۔۔ عالمی موضوعات جیسے، مسئلہ کشمیر، مسئلہ فلسطین، دہشت گردی، بے روزگاری وغیرہ وغیرہ پرعزیزواقارب کی محافل میں دل کھول کربھڑاس نکالنا۔۔۔ اس سے بھائیو دل بھی ہلکا ہوجاتا ہے اور گھر میں بھی امن شانتی رہتی ہے۔۔۔اور بتاﺅ سب سے مشکل کام تو عزیز واقارب کو راضی کرنا ہے۔۔۔ چاچا رفیق بولے ۔۔۔ ان کو راضی کرنے کے لیے کیا کرتے ہو۔۔۔ نتھو نے کہا اپنے مسائل چھوڑ کر ان کی ہاں میں ہاں ملاتا ہوں اور دل میں کہتا ہوں۔۔۔ دلا معاف کریں ۔۔ جھوٹ مار رہا ہوں!۔۔۔ نتھو کی بات سن کر سب بے اختیار ہنس پڑے اور چوپال میں قہقہوں کا طوفان اٹھنے لگا۔
نتھو جیسے ہی چپ کیا۔۔۔ ایک شریر لڑکے نے چوپال میں موجود ایک کبڑے شخص جس کو سارے چاچا” کبڑا“ کہتے تھے۔۔۔گرجدار آواز میں کہا۔۔۔ چاچاجی یہ ”کب“ کیسے نکلا تھا؟۔ چاچے کبڑے نے لاٹھی اٹھائی اور کہا ادھر آمیں تینوں دساں میرا ”کب“ کیسے نکلا تھا۔اسی اثنا میں چاچا ٹائم پیس جو اپنے ہاتھ میں ہر وقت چھوٹا ٹائم پیس رکھتا تھا لیکن اس کی گھڑی کی سوئیاں رکی ہوتی تھی۔۔۔ اس کو کسی نے کہا ۔۔۔چاچا ٹائم کیا ہوا؟۔۔۔چا چا ٹائم پیس نے گھڑی کو دیکھا اور بولا۔۔۔تینوں نظر نہیں آندا پیا ٹائم کی ہویاہے۔۔
چوپال میں سب کو چپ کراتے ہوئے چپ سائیں بولے۔۔۔دوستو! بس چپ کرو۔۔ آج میں نے بات دہشت گردی سے شروع کی تھی لیکن سب نے دل کھول کر اپنی اپنی بات کہی!۔۔۔چلو شکر ہے کہ چوپال میں سب نے دل ہلکا کیا۔۔۔چپ سائیں بولے بھائی کالو آپ کیوں چپ ہیں ؟، آپ تو بول ہی نہیں رہے آج۔۔چاچا کالو گویا ہوئے، سائیں جی۔۔۔آج میں ایک دفتر گیا۔۔ وہاں پر مجھے انگلیوں کے نشان مشین پر لگانے تھے۔۔۔میں آدھا گھنٹہ کھپتا رہا۔۔پرمشین موئی نے اوکے۔۔۔نہ کیا۔۔۔وہاں پر موجود شخص نے کہاکہ چاچا جی۔۔۔میں نے اس کو گھوری ڈالی۔۔۔ پھروہ دائیں بائیں دیکھنے لگا اور ازراہ تفنن بولا۔۔۔میں توویسے ہی کہہ رہا تھا۔۔ آپ تو نوجوان دوست ہیں۔۔۔ دراصل زیادہ مشقت کی وجہ سے آپ کی انگلیوں کے نشان تھمب مشین پر نہیں آرہے۔۔ سائیں جی ایک” سیانہ “ وہاں پرموجود تھا۔۔۔ اس نے کہا کہ بھائی ٹشو پر تھوڑی تھوک لگاﺅ یا ۔۔۔ انگلی کو تھوک لگاﺅ۔۔۔ ا س کو فنگرپرنٹ والی جگہ سے صاف کرو۔۔۔ میں نے ویسا ہی کیا۔۔۔ پھر کہیں جاکر مجھے مشین نے او کے کردیا۔ہائیں یہ چمتکار کیسے ہوگیا؟۔۔۔ ایک نے پیچھے سے آواز لگائی۔۔۔ بھائی تھوک کا کمال ہے۔۔۔ سب ہنسنے لگے۔۔۔چپ سائیں بھی ہنسی کوکنٹرول کرتے ہوئے بولے بھائیو۔۔۔ تھمب مشین ہی نہیں پورا ملک ۔۔۔ ایسی ہی جگاڑ پر چل رہا ہے۔ 
صاحبو!چلتے چلتے اب ملکی کی صورتحال کی بات کرتے ہیں۔ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت حکومت نے دریائے سندھ پر نئی نہریں تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد غیر آباد زمینوں کو قابلِ کاشت بنانا، خوراک کی پیداوار میں اضافہ کرنا اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ منصوبہ خاص طور پر چولستان جیسے علاقوں میں کارپوریٹ فارمنگ کے فروغ کے لیے متعارف کروایا گیا ہے۔تاہم، یہ منصوبہ شدید تنقید اور مخالفت کا شکار بھی ہے، خاص طور پر صوبہ سندھ کی جانب سے۔ سندھ کا موقف ہے کہ دریائے سندھ پہلے ہی پانی کی شدید کمی کا شکار ہے اور نئی نہریں تعمیر کرنے سے اس کی صورتحال مزید خراب ہو گی۔ سندھ کے مطابق، اسے اس کے حصے کا پانی مکمل طور پر نہیں مل رہا اور یہ منصوبہ بین الصوبائی معاہدوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت، بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کے عدم تحفظ جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی نئے آبی منصوبے کی منصوبہ بندی نہایت احتیاط، شفافیت اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ہونی چاہیے۔ بصورتِ دیگر، یہ منصوبہ ترقی کی بجائے ایک نیا بحران جنم دے سکتا ہے۔
بھائیو !حکومتی وزرا اور مشیران میڈیا پر آ کر خو ش کن اعداد و شمار پیش کرتے ہیں ، جی ڈی پی کی شرح، زرمبادلہ کے ذخائر، درآمدات میں کمی یا برآمدات میں اضافہ لیکن عوام کے لیے یہ باتیں پھتو کی بات کے مصداق ہیں کہ ”دو جمع دو پانچ ہوتے ہیں“۔۔۔ سب اسے سمجھاتے ہیں کہ دوجمع دو چار ہوتے ہیں لیکن وہ کہتا ہے کہ میرے تو پانچ ہی ہوتے ہیں۔۔ سچ ہے بھائی جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں