"دیارِ حجاز میں " کے تحت اب جب سفر حرمین شریفین کی رُوداد تمام ہو رہی ہے تو میں سوچتا ہوںکہ حرمین شریفین یعنی کعبہ مشرفہ و مسجد الحرام اور مسجد نبوی و روضہِ اقدس جو بفضلِ تعالیٰ میرے خیالوں میں رچے بسے ہیں تک پھر جانے کی سعادت حاصل ہو سکتی ہے یا پھر یہ اتنے دُور ہیںکہ ان تک جانا محض خواب خیال ہی ہو سکتا ہے ۔ میقات مقامی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو آج کے ترقی یافتہ دور میں جب دنیا سِمٹ کر ایک گلوبل ویلج یا بستی کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے ۔ اسلام آباد سے جدہ کے ہوائی سفرکا 3554 کلومیٹر کا فاصلہ یا تقریباً پانچ گھنٹوں کی فلائیٹ کوئی زیادہ طویل نہیں سمجھی جا سکتی۔ وہاں سے آگے مکہ مکرمہ سوا ، ڈیڑھ گھنٹے کا بس کا سفر بھی کچھ ایسا لمبا نہیں ہے۔ اسی طرح اسلام آباد سے مدینہ منورہ 3380 کلومیٹرکے ہوائی سفر کا فاصلہ یا 5 گھنٹوں کا ہوائی سفر بھی کچھ ایسا طویل نہیں گردانا جا سکتا ۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ میقات مکانی کے لحاظ سے اسلام آباد یا راولپنڈی سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کچھ زیادہ دور نہیںہیں۔ اسلام آباد انٹر نیشنل ائیر پورٹ سے ہوائی جہاز میں بیٹھیں تو تقریباً پانچ چھ گھنٹوں کے بعد اِن ہر دو مقدس ترین مقامات تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ دنیا کے یہ مقدس ترین شہر جنہیں حرمین شریفین یعنی کعبہ مشرفہ و مسجد الحرام اور مسجد نبوی و روضہِ اقدس کے مراکز ہونے کا شرف حاصل ہے تک پہنچنا یا جانا واقعی اتنا آسان ہے کہ آپ کے پاس وسائل ہوں ، آپ ہوائی جہاز کا ٹکٹ لیں، سعودی عرب کا ویزہ لگوائیں، ہوائی جہاز میں بیٹھیں اور جدہ یا مدینہ منورہ پہنچ جائیں۔ یقینا ایسے ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے اس کے علاوہ بھی کوئی شرط جسے میقاتِ مقامی اور میقاتِ زمانی سے بالا سمجھا جا سکتا ہے کے پورا ہوئے بغیران مقدس ترین مقامات تک پہنچنا آسان نہیں ہے، وہ شرط کیا ہے ؟ اس کا ذکر آگے چل کر کرتے ہیں، پہلے دیکھتے ہیں کہ جولائی۲۰۲۴ ءمیں بفضلِ تعالیٰ عمرے کی سعادت حاصل ہوئی تو اس کے بعد اپنی صورتِ حال یا کیفیات کیا ہیں؟
سچی بات ہے اور اس میں قطعاً کوئی مبالغہ نہیں کہ عمرے کی ادائیگی کے بعد جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں اس دوران ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا ہو گا جب خیال حرمین شریفین یعنی کعبہ مشرفہ ومسجد الحرام اور مسجد نبوی و روضہِ اقدس مدینہ منورہ کی طرف نہ گیاہو۔ اپنے موبائیل پر حرمین شریفین کے بارے میں کوئی تازہ ویڈیوزاور وہاں کے مناظر دیکھنا ایک طرح کا معمول بن گیا ہے تو اس کے ساتھ مدینہ منورہ سے
تعلق رکھنے والے حرمین شریفین کے حوالے سے معروف وی لاگر جناب زبیر ریاض کا کوئی وی لاگ بھی دیکھ لیتا ہوں۔ پاکستانی نژاد زبیر ریاض جو اپنی گفتگو کا آغاز یا سلام اور درودِ پاک سے کرتے ہیں مجھے اس لیے پسند ہیں کہ وہ معلم قرآن اور حافظِ قرآن ہونے کے ساتھ قرآنِ پاک کی بہت خوبصورت اور دلآویز قرات کرتے ہیں۔ ان کے پروگرام مستند تاریخی حوالوں کے ساتھ ٹھوس معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔ کئی قسطوں پر مشتمل ہجرت کا سفر ان کا تیار کردہ ایک بڑا خوبصورت اور رُوح پرور وِی لاگ پروگرام ہے۔ اس میں انہوں نے حضور نبی پاک ﷺ کے حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور ان کے غلام عامر بن فہرہ ؓکے ساتھ ہجرت مدینہ کے سفر کے احوال کے ساتھ اس کے لیے مکہ سے یژب تک عام راستے سے ہٹ کرجو راستہ اختیار کیا گیااور راستے میں جہاں جہاں قیام فرمایا اور جن جن لوگوں سے مِلے سب کی تفصیل بیان کی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک انتہائی خوبصورت ، جامع اور تاریخی حوالوں سے مُستند وی لاگ (پروگرام) ہے۔یہاں زبیر ریاض صاحب جن سے میرا کوئی ذاتی تعارف نہیں ہے کی تعریف مقصود نہیں، بتانا یہ ہے کہ حرمین شریفین کے حوالے سے کوئی پروگرام، کوئی ویڈیو، کوئی وی لاگ سامنے آئے تو کوشش ہوتی ہے کہ اس کو دیکھ ، سُن کر قلب ونظر کوجہاںتازگی اور بالیدگی حاصل ہو، وہاں ولولہ شوق کو بھی مہمیز ملے۔
جناب زبیر ریاض یا اسی طرح کے دوسرے لوگوں کے وی لاگ پروگرام یا اسی طرح کے دوسرے وی لاگرز وغیرہ گاہے بگاہے سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کی میرے لیے اس بنا پر بھی اہمیت ہے کہ ان کی مدد سے مجھے یہ جانچنے اور پرکھنے کا موقع ملتا رہا ہے کہ میں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مختلف تاریخی جگہوں اور مقامات کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس میں کوئی غلطی تو نہیں ہے۔ سچی بات ہے مجھے یہ احساس رہا ہے کہ میں محض اپنی یاداشت اور ذہن کے نہاں خانے میں موجود یادوں، باتوں اور کبھی کے پڑھے لکھے یا سُنے حالات و واقعات اور دیکھی باتوں کے بَل بوتے پر لکھتا ہوں جس میں کسی بھی غلطی کا امکان ہو سکتا ہے۔ میرے لیے بفضلِ تعالیٰ یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ زبیر ریاض صاحب یا اسی طرح کے دیگر لوگوں کے حرمین شریفین کے بارے میں وی لاگ پروگراموں کے دیکھنے سے میں کہہ سکتا ہوں کہ حرمین شریفین اور ان سے متعلقہ مقدس تاریخی مقامات اور جگہوں کے بارے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے اس میں کسی غلطی یا کوتاہی کی نشان دہی نہیں ہوتی، اس کے لیے ربِ کریم کا میں جتنا بھی شکر ادا کروں ، کم ہو گا۔
دل کی تسلی اور اطمینان کے لیے یہ وضاحت اور صراحت ضروری سمجھی جا سکتی ہے، تو اب اس پہلو کی طرف آتے ہیں کہ حرمین شریفین کی حاضری کے لیے سامان سفر اور زادِ راہ کے علاوہ اور کس چیز یا کس تقاضے کے پورا ہونے کی ضرورت سمجھی جاتی ہے کہ اس کے بعد حاضری نصیب ہو سکتی ہے۔ بلا شبہ اس کے لیے ربِ کریم کی عنائیت اور اس کے پیارے حبیب ﷺ کی نظر ِ کرم جسے عُرفِ عام میں حرمین شریفین کی حاضری کے لیے "بلاوا " کہا جا تا ہے کی ضرورت کا پورا ہونا بھی ضروری ہے۔یہ "بلاوا" اس طرح نہیں کہ کسی نے آپ کا نام پکارا اور آپ وہاں پہنچ جاتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے لیے قدرت کی طرف سے ایسی کرم فرمائی ہوتی ہے اور آپ کے لیے مادی وسائل کے ساتھ ایسی آسانیاں اورموزوںحالات و واقعات سامنے آتے ہیں کہ دیکھتے دیکھتے حرمین شریفین کی حاضری کا پروگرام قابلِ عمل نظر آنے لگتا ہے اور آپ دل و جان سے چاہنے لگتے ہیں کہ آپ کو جلد از جلد ربِ کریم کے پاک اور مقدس گھر کی حاضری نصیب ہو اور اس کے حبیب ِ کبریا کے روضہِ اقدس پر جا کر وہاں ہدیہ درود و سلام پیش کرنے کی سعادت بھی حاصل ہو۔
اپنی بات کروں تو ۱۹۸۳ءمیں حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد طویل عرصہ گزرا، اللہ کریم نے کچھ مادی وسائل مہیا کیے تو سبھی گھر والوں کی خواہش تھی کہ اہلیہ محترمہ اگر حج پر نہیں جا سکتیں تو کم از کم عمرے کے لیے ضرور جائیں۔ اب سوال یہ تھا کہ ان کے ساتھ بطورِ مَحرم کون جائے۔ اپنی صحت کے مسائل کی وجہ سے میں اُن کے ہمراہ جانے سے ُمتردّد تھا۔ اس طرح وقت گزرتا رہا اور کئی سال بیت گئے۔ گویا "بلاوا " نہیں ہو رہا تھا۔ پچھلے سال ایسا ہوا کہ کچھ عزیزوں کا عمرے کا پروگرام بنا تو میں اور اہلیہ محترمہ بھی ان کے ہمراہ حرمین شریفین کی حاضری کے لیے تیا ر ہو گئے،گویا بلاوے کی صورت بن گئی۔ اب دل بہت چاہتا ہے کہ ایک بار پھر حرمین شریفین کی حاضری نصیب ہو۔ میں اکیلا جاﺅں اور خانہ کعبہ و مسجد الحرام مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی مدینہ منورہ میں عبادات اور حضورِ اقدسﷺ میں عاجزانہ درود و سلام پیش کرنے کے ساتھ مکہ مدینہ میں گھومتا پھرتا رہوں۔رمضان المبارک میں اس وجہ سے پروگرام بنتے بنتے رہ گیا کہ حرمین شریفین میں عمرے پر جانے والوں کا بہت رَش ہو گا۔ اب خواہش ہے کہ اللہ کرے حج ۲۰۲۵ءکے بعد جولائی اگست میں پروگرام بن جائے۔ دیکھیے بلاوا نصیب ہوتا ہے یا نہیں اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جو مکانی اور زمانی میقات کے لحاظ سے اب کچھ زیادہ دور نہیں سمجھے جا سکتے وہ قلبی اور روحانی لحاظ سے بھی قریب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔ (جاری ہے)
کیا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دُور ہیں؟
09:31 AM, 26 Apr, 2025