بغداد کے جنوب میں زیرتعمیر فرنچ ایٹمی ریکٹر پر 7جون 1981ءکو اسرائیلی حملے کے بعد پاکستان نے محسوس کیا کہ اسرائیل کی غلط مہم جوئی کا اگلا نشانہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات ہوسکتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے اسرائیل نے اپنے صحرا ئوں میں باقاعدہ کہوٹہ پلانٹ جےسی عمارت کا ماڈل تعمیر کیا۔ F16 اور F15 کے ہوابازوں کو خصوصی تربیت دی گئی اور ےہ وہی ہواباز تھے جنہوں نے عراق کے اےٹمی ری اےکٹر کو تباہ کےا تھا۔ منصوبے کو کامےاب بنانے کے لےے امرےکی سی آئی اے نے کہوٹہ پلانٹ کی سےٹلائٹ تصاویربھی اسرائےل کو فراہم کی تھےں۔ اسرائیل نے اس حملے کے دوران اپنے اواکس نظام کے ذرےعے پاکستانی ائےر ڈےفنس ریڈار کو منجمد کرنا تھا۔ بھارت نے اسرائےل کے کہوٹہ پر حملے کی تجوےز سے اتفاق کرلےا لےکن اس خفیہ مشن کے لےے وہ اپنے ائےربےس اسرائےل کو دےنے سے ہچکچا رہا تھا کےونکہ اس طرح اےک نئی پاک بھارت جنگ چھڑ سکتی تھی۔ اسرائےل بھارت کی ان خفےہ سرگرمیوں کا ذکر آسٹرےلےن انسٹی ٹیوٹ فار نےشنل سٹرےٹجک سٹڈےز کی رپورٹ مےں بھی موجود ہے۔ بھارت کہوٹہ کو تباہ دےکھنا چاہتا تھا لےکن وہ اس کی ذمہ داری قبول کرنے ےا ردعمل کا سامنا کرنے سے ڈر رہا تھا۔ پاکستان نے دنےا کو باور کراےا کہ وہ عراق نہےں ہے اور اُن کی فضائےہ عراقی فضائےہ نہےں ہے اور بالواسطہ اےک پےغام اسرائےل کو بھجواےا گےا کہ اگر اُس نے کہوٹہ پر حملہ کےا تو اسرائےلی اےٹمی پلانٹ ڈیمونہ کو ردعمل کے طور پر نشانہ بناےا جائے گا۔ اُس وقت کے صدر جنرل ضےاءالحق نے وقت ضائع کےے بغےر پاکستان کی اےٹمی تنصےبات کو کسی بےرونی حملے سے محفوظ بنانے کا فوری فول پروف پلان تےار کرنے کا حکم دےا۔ تاہم اُس وقت امرےکہ کی رےگن انتظامےہ نے اسرائےل اور بھارت کے اس منصوبے کو اےک طرف رکھ دےا ۔ اس کی وجہ امرےکہ کی پاکستان سے محبت نہ تھی بلکہ روس کے خلاف افغانستان مےں لڑی جانے والی جنگ تھی۔ پاکستانی اےٹمی تنصےبات کے خلاف اسرائےل بھارت گٹھ جوڑ جاری رہا اور اس بات کا خطرہ اُس وقت مزےد بڑھ گےا جب 13مئی 1998ءکو بھارت نے اےٹمی دھماکے کےے جس کے جواب مےں پاکستان کو اےٹمی دھماکے کرنے کے لےے تےار ہونا پڑا۔ صورتحال کی کشےدگی کا اندازہ اس بات سے لگاےا جاسکتا ہے کہ 27مئی کی شام بلوچستان کے ضلع چاغی مےں راس کوہ ٹےسٹ سائٹ کے اوپر اےک لڑاکا طےارہ نےچی پرواز کرتا پاےا گےا۔ اس طےارے کے پائلٹ کو اپنی پہچان کرانے مےں چند لمحے لگے اور پتا چلا کہ ےہ اےک دوست طےارے کی سےکورٹی فلائٹ ہے لےکن ان چند لمحوں کے درمےان دنےا کے حساس دفاعی مراکز مےں پاکستان کے بھرپور ردعمل کی تےاری کے الارم زور زور سے بجنے لگے۔ اقوام متحد ہ مےں اُس وقت کے پاکستانی سفےر احمد کمال نے اےک دم مےڈےا پر آکر نپے تلے سرد لہجے مےں کہا کہ ”ہمیں دھمکےاں مسلسل مل رہی ہےں، ہمےں ےقےن ہے کہ اےسا نہےں ہوگا، اگر اےسا ہوا تو دنےا کو سمجھ لےنا چاہےے کہ پاکستان ردعمل کے لےے تےار ہے اور ردعمل ضرور ہوگا“۔ احمد کمال نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا ”پاکستان کا جواب بہت زےادہ اور بہت تباہ کن ہوگا۔ بربادی خطے مےں بھی ہوگی اور خطے سے بہت دور بھی ہوگی“۔ اس کے بعد واشنگٹن مےں اسرائےلی سفےر کو بےان جاری کرنا پڑا کہ اسرائےل پاکستان کی اےٹمی ٹےسٹنگ رےنج پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہےں رکھتا۔ اس بات کا کتنا امکان تھا کہ اسرائےل اور بھارت پاکستان کی اےٹمی تنصےبات پر حملہ کرسکتے ہےں اِس بارے مےں حتمی طور پر کچھ نہےں کہا جاسکتا تھا لےکن اس دھمکی زدہ اطلاع کو پاکستان نہ ہی زیادہ اندازہ (اوور ایسٹیمیٹ) کرسکتا تھا اور نہ ہی کم اندازہ (انڈر ایسٹیمیٹ) کرسکتا تھا۔ کم اندازہ (انڈر ایسٹیمیٹ) کرنے سے بہت بڑی تباہی کا امکان تھا جبکہ زیادہ اندازہ (اوور ایسٹیمیٹ) کرنے سے محض سفارتی شرمندگی ہونا تھی۔ لہٰذا پاکستان نے اس دھمکی کو زیادہ اندازہ (اوور ایسٹیمیٹ) کےا اور سفارتی شرمندگی برداشت کرلی۔ پاکستان کے سفارتی عذر نے ملک کو محفوظ بنا دےا۔ ےوں سائنس دانوں کی 24سالہ محنت، مسلح افواج کے اےٹمی تنصےبات کی حفاظت کے لےے دن رات کے رَت جگے، پسے ہوئے بلند حوصلہ عوام کی دعائےں اور رہنماﺅں کے فےصلے کے بعد 28مئی 1998ءکو پاکستان دنےا کی اےٹمی طاقتوں مےں شامل ہوگےا۔ پاکستان کے اےٹمی تجربے کرنے کے 27برس بعد پاکستان کی اےٹمی تنصےبات پر حملے کے خطرات نہ صرف آج بھی اسی طرح موجود ہےں بلکہ بالکل صاف صاف ہےں اور اسی لےے انہیں زیادہ اندازہ (اوور ایسٹیمیٹ) یا کم اندازہ (انڈر ایسٹیمیٹ) کرنے کی ضرورت بھی نہےں ہے۔ پہلے ہم غےراےٹمی ملک ہونے کے باوجود باہمت تھے پھر اب اےٹمی طاقت ہونے کے باوجود کم ہمت کےوں ہو جائےں گے؟ لہٰذا کسی جھجک ےا شرمندگی کے بغےر مئی 1998ءمےں احمد کمال کا دےا گےا بےان دنےا کو دوبارہ سنا دےنا چاہےے کہ ”پاکستان کا جواب بہت زےادہ اور بہت تباہ کن ہوگا۔ بربادی خطے مےں بھی ہوگی اور خطے سے بہت دور بھی ہوگی“۔ پاکستان کی موجودہ سول اور عسکری قیادت کے عزم کی عکاسی 24اپریل 2025ءکو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد سامنے آنے والا اعلامیہ کرتا ہے یعنی اگر پاکستان کی ملکیت کے پانی کا بہاﺅ روکا گیا یا پانی کا بہاﺅ موڑا گیا تو اسے بھارت کی طرف سے
جنگی اقدام سمجھا جائے گا اور اس کی مزید تشریح وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا کے سامنے کچھ یوں کی کہ یہ واضح رہے کہ ہم ایسی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، اگر پاکستانی شہروں میں پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو جواب بھارت کے شہروں میں اُسی طرح دیں گے، بھارت نے ماحول گرم کرنا چاہا تو ہم بھی تیار ہیں، جب بھارت جیسا دشمن پڑوس میں ہوتو ہمارے میزائل تجربات جاری رہیں گے، 24کروڑ عوام مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے، ہم اپنے دفاع کا پورا حق رکھتے ہیں، اگر بھارت نے کوئی ایڈونچر کرنا چاہا تو پاکستان تیار ہے، پاکستان اپنے دفاع میں کسی بین الاقوامی دباﺅ کو خاطر میں نہیں لائے گا، پاکستان کی افواج اور عوام اپنی سرزمین کے ذرے ذرے کا دفاع کریں گے اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ بیان بھارت کو مزید آسانی سے سمجھ آجائے گا کہ کسی نے ایڈونچر کی کوشش کی تو اُس کا ماضی سے زیادہ برا حشر ہوگا۔
بربادی خطے میں بھی ہوگی اور دور بھی ہوگی
09:34 AM, 26 Apr, 2025