محترم عابد رضا صاحب جدید لب و لہجے کے منفرد شاعر ہیں۔ ان کی غزل میں مابعد جدید دور کی حسیت اور نادر تکنیکی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ پیچیدہ عمودی موضوعات کو نبھانے کے لیے ایسا ہی پختہ اور تخلیقی ابہام کی دولت کا حامل اسلوب ہی مناسب تھا جو ان کی شناخت تصور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ برس ان کا شعری مجموعہ " روزنِ سیاہ" موصول ہوا۔ کیا نیا پن ہے اور کیسی ندرت ہے۔ ایک ایک شعر کی قرات جہانِ معانی کھولتی جاتی ہے اور قاری بڑے ادب کی تخلیق کے تجربات سے خود گزرنے لگتا ہے۔ روزن سیاہ نے کئی سائنسی موضوعات، خصوصاً فلکیات کو شعری تلازموں کا حصہ بنایا ہے۔ عابد رضا کے اشعار دیکھیے:
خلا میں بھیج اڑن طشتری تحیر کی
بڑھا کے تیز قدم دشتِ بے گیاہ میں رکھ
خود اپنے واسطے بس عطر داں قناعت کا
شکوہِ کج کلہی ، لشکر و سپاہ میں رکھ
یہ شعر دیکھیے
سورج سے کرنوں کی رتھ جب چل نکلی
گھر آنے تک رستہ آٹھ منٹ کا ہے
میں نے سیٹھ رضوان کو "روزنِ سیاہ" سے کئی اشعار پڑھ کر سنائے۔ وہ سر دھنتے رہے اور انھوں نے آگ کشید کر کے دھواں بنانے کا شغل جاری رکھا۔ سیٹھ نے ناگہاں رک کر استفسار کیا "یہ بلیک ہول کی بات ہو رہی ہے نا " میں نے کہا جی ہاں بلیک ہول شعری منظر نامے میں در آیا۔ کیٹی باومن کی مسکراتی ہوئی تصویر نے کئی شاعروں اور ادیبوں کے حسن کے لا متناہی سلسلوں کا مجاور بنا دیا۔
کیٹی باؤمن (Katie Bouman) کا شمار اْن سائنسدانوں میں ہوتا ہے جنھوں نے بلیک ہول کی پہلی تصویر کے حصول میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی کہانی نہ صرف سائنسی اعتبار سے متاثر کن ہے بلکہ یہ خواتین کی سائنسی میدان میں شمولیت اور قیادت کی بھی ایک زبردست مثال ہے۔ وہ 1989
میں، ویسٹ لافائیٹ، انڈیانا، امریکہ میں پیدا ہوئیں وہ کمپیوٹر سائنسدان، الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ اور California Institute of Technology (Caltech)، میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ انھوں نے بی ایسUniversity of Michigan (الیکٹریکل انجینئرنگ میں)
ایم ایس اور پی ایچ ڈی (MS & PhD) MIT (Massachusetts Institute of Technology) سے کیے۔
ایم آئی ٹی میں انھوں نے "Computer Vision" اور "Imaging" میں مہارت حاصل کی، اور اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے دوران بلیک ہول کی تصویر بنانے کے الگورتھم پر کام شروع کیا۔
کیٹی باؤمن نے CHIRP (Continuous High-resolution Image Reconstruction using Patch priors) نامی ایک الگورتھم تیار کیا، جس کا استعمال بلیک ہول کی پہلی تصویر بنانے میں ہوا۔ چونکہ بلیک ہول کی تصویر براہ راست کیمرے سے لی نہیں جا سکتی، اس لیے ٹیم نے ریڈیو ٹیلی اسکوپس سے حاصل کردہ ڈیٹا کو تصویر میں تبدیل کرنے کے لیے الگورتھمز کا سہارا لیا۔ کیٹی کا الگورتھم ان میں سب سے نمایاں تھا۔
جب 2019 میں بلیک ہول کی تصویر منظرِ عام پر آئی، تو کیٹی کی ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں وہ بلیک ہول کی پہلی تصویر کو دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھیں۔ اس لمحے نے انھیں دنیا بھر میں مشہور کر دیا۔وہ تصویر جس میں کیٹی بلیک ہول کی حاصل کردہ تصویر کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی ہیں وہ انسان کی صلاحیتوں اور اس کی نئی دنیا کے تحقیقی اور تخلیقی امکانات سامنے لائی ہے۔ وہ مسکرا رہی تھیں کہ جو بات ابھی تک چند فارمولوں یا پیشینگوئیوں پر مشتمل تھی کیٹی نے اسے ثابت کرنے میں اپنا حصہ ضرور ڈالا تھا۔
کیٹی باؤمن سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی ایک روشن مثال بنیں۔ انھوں نے نہ صرف اپنے سائنسی کام سے دنیا کو حیران کیا، بلکہ اس بات کو بھی ثابت کیا کہ نوجوان خواتین بھی سب سے بڑے سائنسی منصوبوں میں قیادت کر سکتی ہیں۔
انھیں کئی سائنسی پلیٹ فارمز اور یونیورسٹیوں میں لیکچرز کے لیے بلایا گیا۔ ان کا نام Forbes، TIME، اور BBC کی نمایاں خواتین کی فہرستوں میں شامل ہوا۔بلیک ہول کی تصویر 2017 میں لی گئی تھی اور اسے 2019 میں منظر عام پر لایا گیا۔ 27 ، 28 برس کی لڑکی نے سائنسی طور پر کائنات کا ایسا بھید کھولنے میں مدد فراہم کی جسے خیالی پرواز کے کئی دعووں میں پیش کرنے کی جرات کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ تسخیرِ کائنات کے اس اہم قدم کو معمولی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معجزہ کم و بیش 55 ملین نوری سال دور بلیک ہول کو انسانی بصیرت کے دائرے سے اٹھا کر بصارت کے احاطے میں لے آیا۔ اس سے اجتماعی انسانی شعور اور فکری صلاحیت کو تقویت ملی۔ کائنات کے متعلق ہمارے نظریات نے ترقی کی اور اس کی تشکیل و ارتقا کے کئی نئے باب روشن ہوئے۔در حقیقت ہم کسی بھی دریافت کو اس کے مرتبے سے گرانے کے باوجود اس کے اثرات لا تعلق نہیں رہ سکتے۔اس کام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے بڑے تحقیقی اداروں نے دریافت اور ایجاد کے رستے کھولنے کے ساتھ ساتھ انسان کے سماجی تصور کو بھی بڑی حد تک تبدیل کیا ہے۔ جدید دور میں کفالت کا تصور تیزی سے تبدیل ہوا ہے اور لوگ صنفی امتیاز سے بالاتر رہتے ہوئے انسان کی صلاحیت اور اس کی ذہنی قابلیت کا اعتراف کرنے لگے ہیں۔ لیکن یہ رویہ تمام معاشروں میں یکساں طور پر دیکھنے میں نہیں آتا۔ ساری بات خاموشی سے سننے کے بعد سیٹھ رضوان نے سر کھجایا اور سگریٹ کا لمبا کش کھینچ کر بولے " کیٹی باؤمن کا رشتہ طے ہو گیا ہے یا نہیں۔ عمر گزر جائے تو اچھے رشتے آنا بند ہو جاتے ہیں" ۔
ہم نے بلیک ہول کی تصویر سے نظریں ہٹا کر اس مسئلے پر غور کرنا شروع کر دیا۔
ضرورتِ رشتہ
09:06 AM, 25 Apr, 2025