عقل کے اندھوں کی دنیا میں کہیں کمی نہیں، آپ ایک ڈھونڈنے نکلیں، آپ کو ہزار مل جائیں گے۔ ایسے ہی افراد پر مشتمل ایک گروہ ہے جو کہہ رہا ہے کچھ نہیں ہوگا حالانکہ حملہ تو ہو چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس حملے کا جواب کون اور کس طرح دیتا ہے، پارلیمانی زبان میں جواب جناب وزیراعظم پاکستان دیں گے، وزیر خارجہ دیں گے، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب افواج پاکستان دیں گی جبکہ عوامی جواب پاکستان کی اقتدار میں شامل بڑی جماعتوں کے سربراہوں کو دینا چاہئے۔ سب سے موثر جواب مسلم لیگ ن کے صدر جناب نوازشریف کو دینا چاہئے۔ وہ پاکستان کیلئے کوئی اہم کردار ادا کرنے کے لئے ہمیشہ بے چین رہتے ہیں۔ خدا نے انہیں ایک زریں موقعہ عطاء فرمایا ہے وہ بھارت کی الزام تراشیوں کا دندان شکن جواب دے سکتے ہیں۔
بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کا حملہ ڈرامہ پہلے ہی روز فلاپ ہو گیا۔ ہالی ووڈ کے بعد ایک بڑی فلم انڈسٹری کے طور پر جانے جانے والی بھارتی فلم انڈسٹری اچھی فلمیں تو پیش کرتی ہے لیکن ڈرامے کے میدان میں بہت پیچھے ہے، سکرپٹ کمزور، ہدایت کاری کمزور اور اداکاری تو بہت ہی کمزور نظر آتی ہے، انہیں چاہئے اس معاملے میں ہمارے ڈرامہ نگاروں اور ہدایت کاروں سے رجوع کریں اور سیکھیں۔ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ فوج موجود ہے، پہلگام جیسے سیاحتی مرکز میں بھی بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ خفیہ ایجنسیاں موجود تھیں۔ اچانک واقعے سے 3گھنٹے قبل سب زیرزمین کیوں چلے گئے۔ 2ہزار سے زائد مرد و خواتین سیاحوں کو تنہا کیوں چھوڑ دیا گیا، واقعہ 3بجے سہ پہر رونما ہوا، 3بجکر 5منٹ پر پورا بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف صف آراء کیوں ہوگیا۔ اس عرصہ میں تو واقعے کی مکمل تفصیلات بھی نہیں پہنچی تھیں۔ ان نکات پر غور کریں تو معاملہ صاف ہو جاتا ہے، سب کچھ پہلے سے طے تھا۔ میڈیا کی اہم شخصیات کو معلوم تھا کب کیا ہونے والا ہے۔ انہوں نے واقعے کے فوراً بعد کیا کرنا ہے۔ سول سوسائٹی میں ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کی تیاری مکمل تھی کہ انہوں نے ٹولیوں میں بٹ کر براہ راست الزام پاکستان پر لگا لینا ہے۔ حتیٰ کہ وزیراعظم بھارت کا کردار بھی اس حملے ڈرامے میں تحریر کیا گیا تھا۔ انہوں نے سکرپٹ کے مطابق کام کیا۔ وہ سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ انہوں نے اپنا دورہ مختصر کیا اور بھارت روانہ ہو گئے۔ انہوں نے اپنے اعزاز میں طے شدہ عشایئے میں بھی شرکت نہیں کی تاکہ تاثر دیا جا سکے۔ بھارت میں قیامت برپا ہو چکی ہے۔ اس سے بڑی بڑی قیامتیں تو بھارت میں کئی مرتبہ ڈھا دی گئیں۔ کسی بھارتی لیڈر کا دل نہ دُکھا، ٹرین میں سوار مسافروں کو زندہ جلا دیا گیا، گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام جاری رہا، کشمیر میں بربریت تو پون صدی سے جاری ہے جبکہ گجرات کا قصائی ہر طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔ اس قسم کے حملے اور ڈرامے بھارت کی پاکستان کے خلاف پالیسی کا حصہ ہیں۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ ہم اسے اس کی حرکتوں کا منہ توڑ جواب نہیں دیتے۔ ایک پہلوان دوسرے کو گرا لے اور پھر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دوبارہ اٹھنے کا موقعہ دے تو دراصل وہ اپنی شکست کا سامان کرتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا اکی پہلوان نے انوکی پہلوان کو پہلے ہی رائونڈ میں زیر کر لیا لیکن تماشائیوں سے واہ واہ کروانے کے لئے اسے چھوڑ دیا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا پھر اس نے موقعہ پا کر اکی پہلوان کا ’’موڈا نکال دیا‘‘ تو وہ درد سے چلا اٹھا اور کشتی ہار گیا۔ پاکستان کے سپوتوں نے بھارتی تخریب کار کلبوشن پکڑ لیا، ہم نے حملہ آور ابھی نندن اور اس کے ساتھی کا جہاز مار گرایا۔ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا، اس کی چائے، کافی اور مرغن کھانوں سے تواضع کی، ابھی اس کی چھترول کا وقت ہوا تھا کہ ’’نکا موٹا باجرا‘‘ ہانپتا کانپتا ہوا آ گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی بتاتے ہیں، رنگ اڑا ہوا تھا، ٹانگیں کانپ رہی تھیں، بات منہ سے نہیں نکل رہی تھی، ذرا تصور کریں ساڑھے چھ فٹ کا لحیم شحیم شخص اس حالت میں ہو تو کیسا لگتا ہوگا۔ فرمانے لگے کہ بھارتی پائلٹ کو فوراً رہا نہ کیا گیا تو بھارت پاکستان پر حملہ کر دے گا، کیا چار جنگیں لڑنے والا ملک پانچ منٹ کی تیاری سے کسی ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔ یقینا نہیں یہ سب جھوٹ تھا حکومت کو گمراہ کیا گیا اور اگر ایسا نہیں تھا تو جھوٹ بولتے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے تھی۔ ابھی نندن کی شکل میں ہمارے ہاتھ ایک ٹرافی آ گئی تھی۔ ہمیں چاہئے تھا ہم دنیا بھر میں یو این او اور دیگر عالمی اداروں میں اسے لے کر گھومتے اور بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کو دکھاتے، پاکستانی میڈیا کو کہتے کہ آئو اور اس حوالے سے اپنا فرض ادا کرو، سیاسی اور مذہبی جماعتیں سڑکیں بھر دیتیں اور چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتیں کہ بھارت جارح ہے۔ ہم نے یہ سب نہیں کیا۔ یہ پاکستان سے غداری تھی ہم نے یہ سب کچھ کیا ہوتا تو بھارت انڈر پریشر آتا اور اس نے بعد ازاں کشمیر میں جو کچھ کیا اس سے باز رہتا۔ ہم نے اپنی حماقت اور سازش سے زمین پر گرے پہلوان کو اٹھنے کا موقعہ دیا۔ جب سے اب تک بھگت رہے ہیں اور طویل عرصہ بھگتیں گے کیونکہ یہاں بھارت کیلئے سافٹ کارنر رکھنے والوں پر ضرب نہیں لگائی گئی۔ محب وطن طبقے پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا یہ کہانی سنا رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو ہلاشیری دی ہے اس نے اپنے جہاز فروخت کرتے ہوئے کہا یہ لو دنیا کا بہترین جہاز اور اسے اپنے دشمنوں کیخلاف استعمال کرو پھر اس نے ٹیرف لگایا تو بھارت نے اس سے بچنے کے لئے اور رعایتیں حاصل کرنے کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا، پہلگام ڈرامہ اس منصوبے کا حصہ ہے۔ پاکستان کا جن دکھا کر بھارت امریکہ اور یورپ کی ہمدردیاں سمیٹنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ اور یورپ کے بیشتر ملک دہشت گردی کے معاملے میں بھارت کے ساتھ کھڑے ہونے کے بیانات دے چکے ہیں۔ امریکہ ٹیرف وار اور یوکرین وار میں شکست کھانے کے بعد ہزیمت مٹانے کیلئے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے اور خطے میں چین اور پاکستان کو الجھانے کے لئے بھارت کو کسی مہم جوئی کا اشارہ کر سکتا ہے۔ بھارت کشمیر میں گھس کر گلگت بلتستان پر قبضے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کا گلا دبوچ سکے۔ مکار ترین امریکہ اور سی آئی اے کو اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ وہ ایک تیر سے دو شکار کرنے کے لئے موقع کی تلاش میں بھارتی خفیہ ایجنسی نے انہیں سبق پڑھایا ہے کہ پاکستان میں سیاسی انتشار ہے قوم متحد نہیں۔ اقتصادی تباہی ہو چکی۔ بس اب پانی بند کرو اور چڑھ دوڑو، بھارت کو پاکستان کی افواج اور عوام کی طرف سے دندان شکن جواب ملے گا۔ جنرل حافظ سید عاصم منیر کی بات یاد رکھیں پاکستان مٹنے کے لئے نہیں بنا، یاد رہے ایٹم بم بھی شب برأت پر چلانے کے لئے نہیں بنا۔
دندان شکن جواب دیں
08:54 AM, 25 Apr, 2025