وزیر خزانہ نے خوش خبری سنائی ہے کہ پاکستان اب معاشی استحکام کے بعد معاشی ترقی کی سمت گامزن ہو چکا ، تاہم موجودہ حالات میں احتجاج، مارچ اور دھرنوں سے اس سفر کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی محنت کے نتیجے میں ملک کے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی لائی گئی ، سرکاری اخراجات کم کیے جا رہے ہیں جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ بھی سرپلس میں آ چکا ہے جبکہ دوسری طرف ایسے لگتا ہے کہ ملک میں ٹک ٹاکروں کی حکومت ہے، اضافی انتظامی یونٹس سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوسکتے ہیں تو ضروربنائے جائیں ، 815 ارب روپے خیرات میں بانٹنے کے بجائے صنعتیں لگائی جائیں اور لوگوں کو باعزت روزگار دیا جائے، ہر یوٹیلیٹی بل گھر پہنچ جاتا ہے مگر بے نظیر انکم سپورٹ کے پیسوں کے لیے ماؤں اور بہنوں کو چوکوں میں ذلیل کیا جاتا ہے، کرپشن کے خلاف احتساب اوپر تک جانا چاہیے، اگر یہی لوگ مسلط رہے تو عوامی مسائل حل نہیں ہو ں گے جبکہ حقیت یہ ہے کہ اگر معیشت مضبوط و مستحکم ہو توپھر معاشرہ ترقی کرتا ہے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں آتی ہیں،جبکہ آتی جاتی
حکومتیں ایک ہی رٹ لگاتی ہیں کہ معیشت مضبوط ہو گئی خوشحالی ڈھول کی تھاپ پر رقص کر رہی ہے برعکس ہوتا یہ ہے کہ لوگ دو وقت کی روٹی کو بھی ترستے ہیں یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی گلے کا طوق بن جاتی ہے لوگ خودکشیوں اور بچے فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن سرکار اور سرکاری مزارع سب اچھا کی گردان کرتے نہیں تھکتے جو بھی حکومت آتی ہے وہ معیشت بہتر کرنے کے صرف دعوے کرتی ہے لیکن عملی طور پر پاکستانیوں کو غربت کی دلدل سے نہیں نکال پاتیں کیونکہ حکومتیں صرف نعرے بازی کرتی ہیں اور چلتی بنتی ہیں آج بھی کروڑ وںپاکستانی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، اکثریت کو پیٹ بھرنے کی خاطر روزانہ جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتی ہے بقول وزیر خزانہ اگر ملک ترقی کی راہ پرگامزن ہے تو پھر ملک میں اناج، سبزی، پھلوں اور دیگر اشیائے ضرورت کی بڑھتی قیمتوں نے عام طبقوں کوکیوں پریشان کیے رکھاہے ؟ جب آٹا، دالیں،سبزیاں اور گھی مہنگا ہو تو سارا بجٹ مٹی میں مل جاتا ہے موجودہ حکومت بھی کئی بار فرما چکی ہے کہ آئی ایم سے جان چھڑانا چاہتے ہیں پھرآئی ایم ایف کی گود میں جا بیٹھتے ہیں یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکمرانوں نے ملکی ترقی کے نام پر کتنے قرضے لئے جبکہ آج نہ تعلیم ہے نہ بنیادی ضروریات میسر ہیں اور نہ ہی صحت کی سہولیتں ہیں ٹیکس چوری اور کرپشن عام ہے اسے کنٹرول کرنے والے ہی اس دھندے میں گوڈے گوڈے کھبے ہوئے ہیں معاشی سرگرمیوں کا بیڑا غرق ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ہر دوسرا بندہ ٹیکس چور ہے حالانکہ دنیا بھر میں حکومتیں ٹیکسوں سے حاصل آمدن کے ذریعے مملکت کا انتظام چلاتی ہیں لیکن یہاں سرکاری اداروں پراعتماد ہے نہ سرکارپر؟دونوں ہی اربوں کھربوں کی کرپشن میں ملوث ہیں یہی نہیں آج تک جتنے بھی بیورورکریٹ پکڑے گئے وہ اربوں کی کرپشن میں ملوث نکلے یہ سلسلے رکا نہیں کیونکہ ہمارا نظام انصاف غیرت کی طرح دفن ہو چکا ہے انصاف نام کی پہلے ہی یہاں کوئی چیز نہیں انصاف بکائو مال ہے جتنا لچا ہے یہاں اتناہی اچا ہے یہاں چوکیدار ہی ڈکیت ہیں تو پھر سارے سسٹم کا اللہ ہی حافظ ہے ہمارے حکمرانوں نے اخراجات پورے کرنے کی خاطر عالمی و قومی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کا نسخہ جودریافت کیا ہے یہ لوٹ مار کا دوسرا نام ہے یہ پسندیدہ روش نہیں کیونکہ قرضوں کا بوجھ کسی بھی ملک کو سیاسی و معاشی طور پر قرضے دینے والوں کا غلام بنائے رکھتاہے اگر معیشت مضبوط ہے تو پھر آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہی بجلی، تیل اور گیس کی قیمتیں کیوں بڑھا ئی جاتی ہیں کروڑوں پاکستانی کیوں پریشان ہیں؟؟؟۔
ملک خوشحال توپھر عوام پریشان کیوں…؟
09:23 AM, 24 Sep, 2026