عام آدمی کی سب سے بڑی پریشانی اس کا ماہانہ بجٹ ہے۔ پٹرول کی قیمت میں چند روپے کا اضافہ ہوتے ہی کرائے، دالیں، سبزیاں اور ادویات سمیت سب کچھ اچانک مہنگا ہو جاتا ہے کیونکہ ہماری معیشت کا سارا پہیہ ایندھن پر گھومتا ہے۔ ہر ماہ تنخواہ وہی رہتی ہے مگر اخراجات کا پہاڑ بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایسے مایوس کن حالات میں اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ شاید کمپیوٹر اور جدید سافٹ ویئرز صرف بڑی کمپنیوں کا کھیل ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کا درست استعمال نہ صرف ریاست اور کاروباری اداروں کو بچت کی راہ دکھا سکتا ہے بلکہ ایک عام شہری کو بھی مہنگائی کے تھپیڑوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلی اور براہ راست بچت ٹرانسپورٹ اور ایندھن کے انتظام میں ممکن ہے۔ ہمارے شہروں میں پٹرول کا ایک بڑا حصہ سڑکوں کے جام رہنے، لال بتیوں پر بے مقصد کھڑے رہنے اور غلط راستوں پر ضائع ہو جاتا ہے۔ اسمارٹ ٹریفک سسٹمز سڑکوں پر لگی گاڑیوں کے دباؤ کو خودکار انداز میں دیکھ کر سگنلز کا وقت طے کر سکتے ہیں جس سے گاڑیوں کی بے جا رکاوٹ کم ہوتی ہے اور اربوں روپے کا تیل جلنے سے بچ سکتا ہے۔ اسی طرح روزمرہ دفتر جانے والے ملازمین اور طلبہ کے لیے مشترکہ سواری یعنی کار پولنگ کے ایسے نظام بنائے جا سکتے ہیں جو ایک ہی راستے پر جانے والے مسافروں کو خودکار طریقے سے باہم جوڑ دیں۔ جب چار لوگ الگ موٹر سائیکل یا گاڑی نکالنے کے بجائے ایک ہی سواری میں سفر کریں گے تو ان کا ایندھن کا خرچ سیدھا ستر فیصد تک کم ہو جائے گا۔
دوسرا بڑا میدان سامان کی نقل و حمل اور سپلائی چین کی درستگی ہے۔ دیہات سے شہروں تک سبزیاں، پھل اور غلہ لانے والے ٹرک اگر آدھے خالی چلیں یا طویل اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے گزریں تو کرایہ بڑھتا ہے اور نقصان سبزی منڈی میں عام خریدار کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔ جدید ڈیٹا ماڈلز ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو وہ مختصر ترین راستے بتاتے ہیں جہاں ٹریفک کم ہو اور سڑک بہتر ہو۔ اس سے نہ صرف گاڑی کی مرمت کا خرچہ گھٹتا ہے بلکہ پٹرول کی بھی خاطر خواہ بچت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گوداموں میں خوراک کی طلب اور رسد کا پیشگی اندازہ لگا کر ذخیرہ اندوزی اور خوراک کا ضیاع روکا جا سکتا ہے کیونکہ جب منڈی میں مال کی سپلائی ہموار رہتی ہے تو قیمتوں میں اچانک آنے والا جھٹکا خودبخود رک جاتا ہے۔
بجلی اور توانائی کا شعبہ بھی عام آدمی کی کمر توڑنے میں برابر کا شریک ہے۔ گرمیوں میں بجلی کے بل اور سردیوں میں گیس کی قلت بجٹ کو برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ اسمارٹ میٹرز اور توانائی کی کھپت پر نظر رکھنے والے نظام گھریلو اور صنعتی صارفین کو سکھا سکتے ہیں کہ کون سا آلہ دن کے کس پہر زیادہ کرنٹ کھینچ رہا ہے اور اسے کم خرچ اوقات میں کیسے چلایا جائے۔ فیکٹریوں میں موٹروں اور بوائلرز کی کارکردگی پر نظر رکھ کر بجلی کا ضیاع روکا جا سکتا ہے۔ جب کارخانے کی پیداواری لاگت کم ہوگی تو مارکیٹ میں آنے والی بنیادی اشیا کی قیمت بھی قابو میں رہے گی اور بجلی کے بے تحاشا بلوں کا رونا بھی کم ہوگا۔
آخری اور سب سے بنیادی سطح عام آدمی کے گھر کا کچن بجٹ ہے۔ اسمارٹ فونز میں موجود سادہ مالیاتی ایپس اب گھریلو اخراجات کا باریک بینی سے تجزیہ کر کے بتا سکتی ہیں کہ کون سا خرچ روکا جا سکتا ہے اور گروسری کی خریداری کہاں سے سستی ہو سکتی ہے۔ منڈی کی قیمتوں کا موازنہ کرنے والے پورٹلز خریدار کو مقامی دکاندار کے من مانے منافع سے بچاتے ہیں۔ حکومتیں بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر ٹارگٹڈ سبسڈی دے سکتی ہیں یعنی پورے ملک کے لیے سستا پٹرول کرنے کے بجائے صرف مستحق موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور کسانوں کے کھاتوں میں براہ راست رقم منتقل کی جا سکتی ہے تاکہ قومی خزانے پر بوجھ پڑے بغیر اصل ضرورت مند کو ریلیف مل سکے۔ مصیبت کے وقت میں اگر وسائل کم ہوں تو عقل اور حکمت کو بڑھانا پڑتا ہے اور یہی فہم ہمیں مہنگائی کے اس گرداب سے نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ریاست اس وقت آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھاتی نظر آ رہی ہے۔ نئے ادارے بن رہے ہیں اور پراجیکٹس ڈیزائن کیے جا رہے ہیں۔ امید ہے اسے روایتی انداز میں صرف فائلوں تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اس جدید ترین ٹیکنالوجی کو صحت ، زراعت ، مینجمنٹ سمیت عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ عوام کو اصل ریلیف ملے۔
بڑھتی مہنگائی میں جدید ٹیکنالوجی کا سہارا
09:20 AM, 24 Sep, 2026