دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو سمندر محض پانی کا ایک وسیع ذخیرہ دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا کی معیشت، تجارت، توانائی، خوراک، روزگار اور عالمی رابطوں کا ایک بڑا حصہ انہی سمندروں سے وابستہ ہے۔ عالمی تجارت کا تقریباً 80 فیصد حجم سمندری راستوں سے منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے سمندر صرف جغرافیہ نہیں بلکہ معیشت، سلامتی اور مستقبل کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ اسی حقیقت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال عالمی یومِ بحری امور منایا جاتا ہے۔ عالمی یومِ بحری امور کا موضوع ’’پالیسی سے عملی اقدام تک: بحری شعبے میں اعلیٰ معیار کو فروغ دینا‘‘ ہے۔ یہ موضوع صرف بحری صنعت تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع قومی پیغام بھی رکھتا ہے کہ اچھی پالیسیاں اس وقت تک معاشروں کی تقدیر نہیں بدل سکتیں جب تک وہ عملی اقدامات میں تبدیل نہ ہوں۔
پاکستان کے لیے یہ موضوع غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے پاس ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ساحلی پٹی، گوادر جیسی اہم بندرگاہ، بحیرہ عرب تک رسائی اور وسیع خصوصی اقتصادی زون موجود ہے، لیکن ہماری معیشت میں سمندر کی مکمل معاشی صلاحیت ابھی پوری طرح بروئے کار نہیں آ سکی۔ ہم اکثر سمندر کو صرف بندرگاہ، بحری جہاز یا مچھلی کے تناظر میں دیکھتے ہیں، حالانکہ جدید دنیا میں سمندری معیشت ایک وسیع شعبہ ہے۔ شپنگ، بندرگاہیں، ماہی گیری، ساحلی سیاحت، جہاز سازی، سمندری تحقیق، معدنی وسائل، توانائی، لاجسٹکس اور سمندری ٹیکنالوجی سب اسی دائرے کا حصہ ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے لیے بلیو اکانومی محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ معاشی امکانات کا ایک بڑا میدان ہے۔ پاکستان نیوی کا کردار بھی صرف دفاع تک محدود نہیں۔ قومی بحری حدود کی حفاظت، سمندری مواصلاتی راستوں کی نگرانی، بحری قزاقی، دہشت گردی، منشیات اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں اور علاقائی بحری امن میں کردار قومی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نیوی نے بین الاقوامی بحری فورمز اور مشترکہ کارروائیوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ متعدد مرتبہ اہم ٹاسک فورسز کی کمان سنبھالنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی بحری صلاحیتیں علاقائی حدود سے آگے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔
حالیہ علاقائی صورتحال نے سمندری راستوں کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ توانائی اور تجارت کے اہم بحری راستوں میں پیدا ہونے والی کسی بھی رکاوٹ کے اثرات ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان نیوی کی جانب سے آپریشن محافظ البحر
کے تحت پاکستانی تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بحری سلامتی براہ راست ہماری معیشت، تجارت اور توانائی کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی بحری سلامتی کو معاشی ترقی کے ساتھ مربوط کر رہے ہیں؟۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے۔ مضبوط بحری دفاع اور مضبوط بحری معیشت ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ محفوظ سمندری راستے ہوں گے تو تجارت بڑھے گی، بندرگاہیں فعال ہوں گی، سرمایہ کاری آئے گی، شپنگ کا شعبہ ترقی کرے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
پاکستان کے سمندری وسائل کے حوالے سے سائنسی تحقیق بھی امید افزا پہلو ہے۔ پاکستان نیوی اور متعلقہ اداروں کی جانب سے خصوصی اقتصادی زون میں تیل اور گیس کے ممکنہ ذخائر کی تلاش اور نقشہ سازی اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے سمندر میں معاشی امکانات کے بڑے دروازے موجود ہیں۔ لیکن وسائل کی موجودگی اور ان سے فائدہ اٹھانے میں فرق ہوتا ہے۔ دنیا کے کامیاب ممالک نے سمندر کو صرف قدرتی وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے تحقیق، تعلیم، صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروبار سے جوڑا۔ ہمیں بھی یہی کرنا ہوگا۔ ہماری جامعات میں میرین سائنسز، اوشیانوگرافی، شپنگ، پورٹ مینجمنٹ اور میرین انجینئرنگ جیسے شعبوں میں تعلیم و تحقیق کو فروغ دینا ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ بتانا ہوگا کہ مستقبل کے روزگار کے دروازے صرف روایتی سرکاری ملازمتوں تک محدود نہیں۔ سمندر ایک پوری معیشت ہے اور اس میں ہمارے نوجوانوں کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
پاکستان نیوی کی بحری آگاہی، پالیسی سازوں، کاروباری طبقے اور قومی اداروں سے رابطے اور تحقیق کے فروغ کی کوششیں اسی سمت میں اہم اقدامات ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس بھی عالمی اداروں، سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور پالیسی سازوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا اہم پلیٹ فارم بن سکتی ہے۔ لیکن پھر وہی بنیادی سوال سامنے آتا ہے: پالیسی سے عملی اقدام تک کا سفر کیسے مکمل ہوگا؟۔
ہمیں صرف کانفرنسیں، سیمینار اور پالیسیاں نہیں چاہئیں، ہمیں قابلِ پیمائش نتائج چاہئیں۔ بندرگاہوں کو جدید بنانا ہوگا، کسٹمز اور لاجسٹکس کے نظام کو آسان کرنا ہوگا، ڈیجیٹل سہولتیں بڑھانا ہوں گی، شپنگ انڈسٹری کو مسابقتی بنانا ہوگا اور نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کا ماحول بہتر کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی سمندری ماحول کا تحفظ بھی ہماری ترجیح ہونا چاہیے۔ پلاسٹک کی آلودگی، تیل کا رساؤ، ساحلی علاقوں کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف ماحولیاتی مسائل نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت کے مسائل بھی ہیں۔ اگر ہم نے سمندر کو آلودہ کیا تو ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کے معاشی امکانات کو بھی محدود کیا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بلیو اکانومی کا فائدہ صرف بڑے اداروں تک محدود نہ رہے۔ ساحلی علاقوں کے ماہی گیر، چھوٹے کاروبار، مقامی صنعتیں اور نوجوان بھی اس معاشی سرگرمی کا حصہ بنیں۔ ترقی کا اصل مطلب یہی ہے کہ قومی وسائل سے پیدا ہونے والے مواقع معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچیں۔ اب وقت ہے کہ بات صرف پالیسی تک نہ رہے بلکہ اسے عملی منصوبے میں تبدیل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے پانچ اقدامات فوری توجہ کے مستحق ہیں۔
اول: قومی بحری عملی منصوبہ۔ وفاقی حکومت ایک جامع قومی بحری منصوبہ تشکیل دے جس میں بندرگاہوں، شپنگ، ماہی گیری، ساحلی سیاحت، سمندری تحقیق اور ماحول کے لیے واضح اہداف اور ذمہ دار ادارے مقرر ہوں۔ دوم: بندرگاہی اور کسٹمز اصلاحات۔ بندرگاہوں پر ڈیجیٹل نظام، تیز تر کارگو کلیئرنس اور جدید لاجسٹکس کے ذریعے تجارت کے اخراجات اور وقت میں کمی لائی جائے۔ سوم: سمندری تعلیم اور ہنرمندی۔ جامعات میں میرین سائنسز، اوشیانوگرافی، پورٹ مینجمنٹ اور میرین انجینئرنگ کے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں اور نوجوانوں کو بحری شعبے کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت دی جائے۔ چہارم: ساحلی معیشت اور مقامی روزگار۔ ماہی گیروں، خواتین، نوجوانوں اور چھوٹے کاروباروں کو آسان قرض، کولڈ چین، مارکیٹنگ اور برآمدی سہولتیں فراہم کر کے ساحلی معیشت کو مضبوط کیا جائے۔ پنجم: سمندری ماحول کا تحفظ۔ ساحلی آلودگی، پلاسٹک اور تیل کے رساؤ کی نگرانی کے لیے مؤثر نظام بنایا جائے اور سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے قابلِ پیمائش سالانہ اہداف مقرر کیے جائیں۔
پاکستان کا بحری شعبہ ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں دفاع، معیشت، ماحول، تعلیم، سائنس اور روزگار ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ عالمی یومِ بحری امور 2026ء کا پیغام ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ پالیسی کا اصل امتحان اس کی دستاویز نہیں بلکہ اس کا عملی نتیجہ ہے۔ سمندر ہمارے لیے صرف سرحد نہیں، امکانات کی سرحد بھی ہے۔ اگر ہم اپنی بحری سلامتی کو معاشی ترقی، تعلیم کو تحقیق، تحقیق کو صنعت اور صنعت کو روزگار سے جوڑ دیں تو سمندر پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نئی سمت پیدا کر سکتا ہے۔ دنیا کے سمندر عالمی تجارت کی شاہراہیں ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ شاہراہیں صرف تجارت کا راستہ نہیں بلکہ ترقی، روزگار، توانائی اور خوشحالی کی منزل بھی بن سکتی ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم پالیسی سے عملی اقدام کی طرف بڑھیں، کیونکہ قومیں صرف خواب اور پالیسیاں بنا کر نہیں بلکہ انہیں حقیقت میں بدل کر آگے بڑھتی ہیں۔
سمندر سے معیشت تک… پالیسی سے عملی اقدام کا سفر
09:12 AM, 24 Sep, 2026