احتجاج اور بغاوت

09:11 AM, 24 Sep, 2026

اسلام آباد کی جانب دو لانگ مارچ ہونے تھے ایک جماعت اسلامی کا جو کہ اب اکتوبر تک مؤخر ہو چکا ہے لیکن 27ستمبر والا تحریک انصاف کا لانگ مارچ تا دم تحریر دونوں فریق اپنی اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں ۔ 19ویں اور20ویں صدی میں دنیا بھر میں تو نہیں کہہ سکتے لیکن مغرب میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کو فروغ ملا اور ان ملکوں میں جمہوریت اور جمہوری اقدار مضبوط ہوتی چلی گئیں ۔ اس سے پہلے پوری دنیا میں دور ملوکیت تھا اور بادشاہتیں تھیں۔ مطلق العنان حکمران تھے۔ بادشاہ کی زبان سے جو نکل جاتا تھا وہی قانون بن جاتا تھا ۔ حکمرانوں کی آنکھ کے اشاروں سے گردنیں کٹا کرتی تھیں اور اگر کسی بات سے ان کا مزاج برہم ہو جاتا تو بہت سوں کی زندگیوں کے چراغ گل ہو جایا کرتے تھے ۔ اس زمانے میں عوامی رائے کا نہ کوئی تردد کرتا تھا اور نہ ہی ایسی فضول باتوں کی کسی کو کوئی فکر ہوتی تھی ۔ اس زمانے میں اگر کوئی حاکم وقت کے خلاف قیام کرتا تھا تھا تو اگر کامیابی ملتی تو اسے انقلاب کا نام دیا جاتا تھا اور اگر ناکامی ہوتی تو اسے بغاوت کا نام دیا جاتا تھا اور دونوں صورتوں میںجو فاتح ہوتا تھا وہ ناکام رہنے والوں کے ساتھ جو کم از کم سلوک کرتا تھا وہ مخالفین کو نرم ترین موت سر قلم کرنا ہوتا تھا ۔ اس میں اگر شاہی گھرانے سے کوئی بغاوت ہوتی اور اس کا سرغنہ کوئی شہزادہ یا بادشاہ کا بھائی وغیرہ ہوتا تو رشتوں کے تقدس کا خیال کئے بغیر دنیا کے سامنے نشان عبرت بنانے کے لئے ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیر کر اندھا کر کے تا دم مرگ پابند سلاسل کر دیا جاتا ۔اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ دور جمہوریت کا ہے لیکن اگر اس میں بھی کوئی جمہوری طریقہ سے احتجاج کی بجائے بغاوت کی کوشش کرے گا تو پھر اس کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو گا کہ جو دور ملوکیت میں باغیوں سے ہوتا تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو دیکھیں تو حکومت اور ریاست دونوں کی جانب سے دونوں جماعتوں کے ساتھ جو سلوک ہے اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی سمیت پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کبھی کسی نے 9مئی بھی نہیں کیا تھا ۔ اس دن جو کچھ ہوا اس کا تقابل اگر کسی سے کیا جا سکتا ہے تو وہ دہشت گردوں کے جی ایچ کیوں سمیت مہران بیس کراچی اور دیگر عسکری تنصیبات پر حملوں سے کیا جا سکتا ہے لہٰذا تحریک انصاف والوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں سب سے زیادہ قصور وار اگر کوئی ہے تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود تحریک انصاف ہے ۔
 تحریک انصاف والے ہر صورت لانگ مارچ کرنے پر بضد ہیں جبکہ حکومت کسی صورت اس کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہے ۔ بانی کی تینوں بہنیں حال کی گھڑی تک نظر بند ہیں عین ممکن ہے کہ جب تک یہ تحریر آپ تک پہنچے تو عدالت سے ان کی رہائی کا حکم آ چکا ہو ۔ اسلام آباد شہر کو کنٹینروں کی چار دیواری میں محصور کر دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب اگر تحریک انصاف کے رویوں کو دیکھیں تو وہ بھی ہمیشہ کی طرح حماقتوں سے باز نہیں آ رہے ۔ کیا کوئی ضرورت تھی کہ جنید اکبر اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکی دیتے ۔ اب اگر دھمکی دی ہے تو اس کا مطلب تو یہی ہے کہ وہ محمود غزنوی کی طرح بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کریں گے اور تین چار بار تو یہ کام کر بھی چکے ہیں تو پھر اگر تحریک انصاف والے محمود غزنوی بنیں گے تو مخالف بھی ان سے اسی طرح کا سلوک کریں گے ۔ تحریک انصاف کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے ہم ایسے لوگوں کو کہ جنھوں نے ساری عمری جمہوریت اور جمہوریت اقدار کے لئے جدو جہد کی ہے کوئی بہتر منظر پیش نہیں کرتا لیکن کیا کریں کہ جب تحریک انصاف کی حکومت تھی تو خان صاحب نے بھی حزب اختلاف کی پہلی اوردوسرے درجہ کی قیادت میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جسے جیل میں نہ رکھا ہو ۔ اس زمانے میں ہم نے بارہا اپنی تحریروں میں کہا تھا کہ خان صاحب کم از کم اتنی گنجائش تو چھوڑ دیں کہ کل کو اگر آپ حزب اختلاف میں ہوں اور آپ کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کریں تو ہم آپ کے اچھے طرز عمل کو مثال بنا کر آپ کے حق میں کچھ کہہ سکیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تحریک انصاف کے دور میں جمہوری اقدار کی سر بلندی کے لئے کوئی ایسا کام نہیں کیا گیا کہ جس کو بنیاد بنا کر آج ہم تحریک انصاف کے لئے آواز بلند کر سکیں ۔
 اسلام آباد کا ماحول ایسا ہے کہ جیسے واقعی کوئی سومنات پر حملہ کرنے آ رہا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ محمود غزنوی کے لشکر والے پوری طرح متحد تھے لیکن تحریک انصاف والے کوئی آدھی درجن سے زیادہ گروپوں میں تقسیم ہیں ۔ محمود غزنوی کے پاس افغانستان کی حکومت تھی اور ریاستی وسائل پوری طرح ان کے اختیار میں تھے ۔ اس کے مقابلے میں تحریک انصاف کے پاس خیبر پختون خوا کی حکومت تو ہے لیکن عدالت نے لانگ مارچ میں ریاستی وسائل کو استعمال کرنے پر بڑی سختی سے پابندی لگا دی ہے ۔ اب نہ تو اس لانگ مارچ میں بانی پی ٹی آئی ہیں ، نہ ہی بشری بیگم ہیں ، نہ ہی ریاستی وسائل ، نہ ہی بانی کی بہنیں اور سب سے بڑی بات کہ سومنات پر تو محمود غزنوی نے سترہ حملے کئے تھے تب جا کر کہیں فتح نصیب ہوئی تھی تو اس پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ :
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

مزیدخبریں