پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے پاس سیاسی جماعتیں کم ہیں، لیڈر کم ہیں یا انتخابات کم ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست کا انتظامی ڈھانچہ عام آدمی تک کتنی تیزی، کتنے مؤثر طریقے سے پہنچتا ہے۔ ہم نے ستر برس سے زیادہ عرصہ حکومتیں بدلنے، جماعتیں بدلنے اور چہروں کے بدلنے میں گزار دیا، لیکن اگر نظام کی بنیاد وہی رہے تو چہرہ بدلنے سے نتیجہ کتنا بدل سکتا ہے؟۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک نئے انتظامی تصور پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔ ہماری روز مرہ زندگی سے ایسی مثالیں ملتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ اختیارات تقسیم ہونے سے گورننس بہتر ہوتی ہے۔ ایک فیکٹری میں سپر وائزر، مینجر اور دوسرا سٹاف ہو تو وہ بہتر نتائج دیتی ہے، بحریہ ٹاون میں ایک کلومیٹر میں تین بینک برانچیں کیوں ہیں تاکہ مالی معاملات میں سہولت رہے۔پھر ملک کی گورننس ٹھیک نہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے؟۔
تصور کیجیے کہ پاکستان کو موجودہ بڑے صوبائی انتظامی ڈھانچوں تک محدود رکھنے کے بجائے چھوٹے، مؤثر اور نسبتاً خودمختار انتظامی یونٹس میں تقسیم کر دیا جائے۔ مثال کے طور پر بلوچستان میں پندرہ، پنجاب میں پچیس، سندھ میں سترہ اور خیبر پختونخوا میں بارہ انتظامی یونٹ بنائے جائیں۔ یہ حتمی اعداد نہیں، ایک تصور ہے۔ اصل تعداد آبادی، رقبے، معاشی سرگرمی، جغرافیہ اور انتظامی ضرورت کے سائنسی جائزے سے طے ہو سکتی ہے۔انتظامی یونٹس کا مقصد یہ ہو کہ ریاست کا فیصلہ ساز مرکز اپنے شہری سے سیکڑوں کلومیٹر دور نہ بیٹھا ہو۔ جس علاقے کا مسئلہ ہو، اس کے قریب انتظامیہ موجود ہو۔
وفاق کا کردار واضح ہونا چاہیے۔ وفاقی ریاست کا بنیادی کام قومی سطح کے معاملات، دفاع، خارجہ پالیسی، قومی معیشت کے بڑے معاملات اور ملک کے مجموعی مفادات کا تحفظ ہو، جبکہ مقامی نوعیت کے بے شمار انتظامی فیصلے مقامی سطح پر کیے جائیں۔ طاقت جتنی نچلی سطح تک قانون کے مطابق منتقل ہوگی، اتنی ہی ریاست شہری کے قریب محسوس ہوگی۔ امریکہ میں وفاقی حکومت کے ساتھ ریاستی اور مقامی حکومتوں کی واضح سطحیں موجود ہیں اور شہری ریاستی و مقامی حکومتوں کے ذریعے بہت سے روزمرہ معاملات سے متعلق خدمات حاصل کرتے ہیں۔ ترکی میں بھی مرکزی انتظامیہ کے ساتھ صوبائی و ضلعی سطح پر انتظامی ڈھانچہ اور مقامی حکومتوں کا نظام موجود ہے۔ وہاں صوبائی انتظامیہ مرکز کی پالیسیوں کو مقامی سطح پر نافذ کرنے کا کردار ادا کرتی ہے جبکہ بلدیاتی ادارے مقامی خدمات انجام دیتے ہیں۔لیکن پاکستان میں اصل مسئلہ صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کا نہیں۔ اصل سوال اختیار، وسائل اور جواب دہی کا ہے۔
گوادر بلیو اکانومی کا مرکز بن سکتا ہے لیکن گوادر اور کوئٹہ کے درمیان فضائی فاصلہ تقریباً 700 کلومیٹر اور سڑک کے ذریعے فاصلہ 900 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔وہاں سردار ریاست کا مالک بنا بیٹھا ہوتا ہے ۔ ایسے جغرافیے میں اگر تمام اہم انتظامی فیصلوں کا مرکز ایک ہی جگہ ہو تو شہری اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کا مسئلہ پیدا ہونا فطری ہے۔پھر سوال اٹھتا ہے کہ بلیو اکانومی والے گوادر جیسے علاقے میں فیصلے کون کرے؟ وہاں رہنے والے لوگ، ان کے منتخب نمائندے اور مقامی انتظامیہ یا کوئی ایسا طاقتور مرکز جو دور بیٹھ کر مقامی معاملات پر اثرانداز ہو؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب انتظامی اصلاحات کے بغیر نہیں مل سکتا۔
کراچی پورٹ کا معاملہ بھی اسی بحث کو آگے بڑھاتا ہے۔ بندرگاہ محض ایک شہر کی سہولت نہیں بلکہ پوری قومی معیشت کا دروازہ ہے۔ اس لیے بندرگاہی نظام میں شفافیت، دستاویزی طریق کار، فیسوں کی وضاحت، نگرانی اور جواب دہی بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔ اگر کسی کاروباری عمل میں غیر واضح یا غیر رسمی ادائیگی کا تاثر پیدا ہو تو ریاستی اداروں کے لیے اس کی روک تھام اور مکمل شفافیت ضروری ہے۔ اگر نئے یونٹ بنیں لیکن اختیار پھر بھی چند مراکز میں مرتکز رہے، تو نقشہ بدلنے سے نظام نہیں بدلے گا۔ لیکن اگر نئے یونٹس کے ساتھ مالی اختیار، انتظامی اختیار، مقامی نمائندگی اور سخت احتساب بھی منتقل ہو تو ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ واقعی کم ہو سکتا ہے۔
میرے ذہن میں اچھی گورننس کے تصور کی ایک اور وجہ بھی ہے۔23 ستمبر 2023 کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے میری چار گھنٹوں کی ملاقات ہوئی ۔ اس وقت فیلڈ مارشل عاصم منیر آرمی چیف تھے اور ان کی گفتگو میں انتظامی یونٹس، انتظامی اصلاحات اور ریاستی ڈھانچے کے بارے میں جو سوچ سامنے آئی، اس نے مجھے متاثر کیا۔ اس ملاقات میں موجود تقریباً تیس کاروباری شخصیات نے بھی اپنے اپنے تجربات اور مسائل بیان کیے۔ مجھے محسوس ہوا کہ ملک کے کاروباری طبقے کی مشکلات صرف ٹیکس یا سرمایہ کاری تک محدود نہیں، وہ بنیادی طور پر ایک ایسے نظام سے متعلق ہیں جہاں فیصلہ سازی، اجازت، نگرانی اور عمل درآمد کے کئی دروازے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔اسی تاثر کے تحت میں نے ان سے یہ بات کہی تھی کہ اللہ نے شاید آپ کو صرف ایک منصب پر آنے کے لیے نہیں بھیجا، ممکن ہے آپ سے کوئی بڑا کام لینا ہو۔
اگر پاکستان میں کبھی ایسی اصلاح شروع ہوتی ہے جس میں صوبوں کے اندر یا صوبوں کی شکل میں مناسب تعداد میں انتظامی یونٹس بنائے جائیں، انہیں واضح اختیارات دیئے جائیں، مقامی حکومتوں کو حقیقی مالی و انتظامی اختیار ملیں، وفاق اور صوبوں کے دائرہ کار واضح ہوں اور ہر سطح پر جواب دہی کا مؤثر نظام قائم ہو تو یہ محض انتظامی تبدیلی نہیں ہوگی۔ سیاسی جماعتیں اپنی جگہ ضروری ہیں۔ انتخابات بھی ضروری ہیں۔ پارلیمان بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا حل صرف نئی حکومت یا نئی جماعت کے آنے سے نکل سکتا ہے؟ ۔
اسی لیے اصل بحث کسی ایک جماعت، کسی ایک شخصیت یا کسی ایک ادارے کے گرد نہیں ہونی چاہیے۔ اصل بحث نظام کے گرد ہونی چاہیے۔ ایک ایسا نظام جس میں کوئٹہ سے گوادر تک فیصلے کا فاصلہ کم ہو، اسلام آباد سے کراچی تک ہر معاملہ پہنچانے کی ضرورت نہ پڑے، لاہور سے جنوبی پنجاب کے شہری کو بنیادی انتظامی کام کے لیے بار بار مرکز نہ آنا پڑے، اور ہر شہری کو معلوم ہو کہ اس کے مسئلے کا ذمہ دار ادارہ کون ہے۔ پھر اس سے نئی قیادت کے لئے مسابقت کا ماحول پیدا ہو گا۔ ہمیں اوورسیز پاکستانی سے سیکھنا چاہئے جو تکلیفیں برداشت کر کے ملک کی خدمت کر رہا ہے۔ شاید یہی وہ تصور ہے جس کے بارے میں ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے: اگر واقعی نیا نظام آ جائے تو کیا حرج ہے؟۔
اگر نیا نظام آ جائے تو کیا حرج ہے؟
09:06 AM, 24 Sep, 2026