احتجاج سیاسی جماعت کا حق، انتشار حق نہیں

09:04 AM, 24 Sep, 2026

 پاکستان اس وقت جس معاشی اور سیاسی دور سے گزر رہا ہے، اس میں ملک کو سڑکوں پر تصادم، اداروں کے درمیان محاذ آرائی اور سیاسی کشیدگی سے زیادہ امن، استحکام اور معاشی تسلسل کی ضرورت ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، روزگار، بجلی، پٹرول اور روزمرہ اخراجات کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے میں اگر سیاسی جماعتیں احتجاج کے نام پر معمولات زندگی متاثر کریں، شاہراہیں بند ہوں، سرکاری ادارے سیاسی کشمکش کا میدان بن جائیں اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کے مدمقابل آ کھڑی ہوں تو اس کا نقصان صرف حکومت یا اپوزیشن کو نہیں بلکہ پورے ملک کو ہوتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کی حیثیت سے احتجاج اور حکومت سے اختلاف کا آئینی حق حاصل ہے یہ اصول ہر سیاسی جماعت کے لیے ہے کہ احتجاج قانون کے دائرے میں رہے اور عام شہری کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔ اس جماعت کے رہنما جنید اکبر فرماتے ہیں ’’ہم اسلام آباد 27ستمبر کو آئینگے لاشیںگرینگی ، ہم واپس نہیں جائینگے وہ اپنی کم علمی کی وجہ سے اسلام آباد پر چڑھائی کو محمود غزنوی کے سومنات کے مندر کی تباہی سے بھی تعبیر کرچکے ہیں، جبکہ اس تاریخی واقع میں محمود غزنوی نے اس مندر سے خزانہ برآمد کیا تھا۔ یہ عوام کی بھڑکانے والی تقریر انہوں نے اپنے کارکنوںسے خطاب میں کہی ، ہماری معصوم عوام کتنی تعلیم یافتہ ہے اسکا ذکر کرنا یہاں ضروری نہیں ، وہ توہ محمود غزنونی کو اسلام کا سپاہی ہی جانتے ہیں ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی حالیہ تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرکے شہریوں کی نقل و حرکت متاثر کرنے کا قانونی حق نہیں رکھتی۔ عدالت نے صوبائی حکومتوں کو احتجاج کے لیے سرکاری مشینری کے استعمال سے متعلق بھی ہدایات دی ہیں، پی ٹی آئی نے پہلے کب امن و امان یا پر امن احتجاج کا مظاہرہ کیا ہے ، 9مئی 2023 ء ہو یا 24نومبر2024ء کے واقعات پاکستان کی جمہوری تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہیں ۔جمہوریت میں احتجاج کوئی جرم نہیں۔ حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف بھی جمہوریت کا حسن ہے اور اپوزیشن کا کام ہی حکومت پر تنقید اور احتساب کرنا ہے۔ لیکن احتجاج اور انتشار کے درمیان ایک واضح لکیر موجود ہے۔جب سیاسی سرگرمی کے نتیجے میں راستے بند ہوں، کاروبار رک جائے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچے، پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے ہوں یا عام شہری کئی گھنٹوں تک گھروں اور کام کی جگہوں تک محدود ہوجائیں تو مسئلہ صرف سیاسی نہیں رہتا بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کی غنڈہ گردی ہے، پولیس کی وین میں زبردستی گھس کر خطاب کرنے کی کوشش، پنجاب اسمبلی کی عمارت میں کسی صوبے کے وزیر اعلیٰ کا زبردستی گھس جانا وہاں سکیورٹی اہلکاروں سے دھینگا مشتی کرنا کیا غنڈہ گردی نہیں کہلائے گی؟؟ یہ لوگ تو صرف عدالتوں کی جانب سے اپنی پسند کے فیصلوںپر بھنگڑہ ڈالتے ہیں کوئی فیصلہ قانون کے مطابق انکے حق میںنہ ہو تو انکا سوشل میڈیا لعن طعن شروع کردیتا ہے ۔ نومبر 2024 میں اسلام آباد پولیس نے رپورٹ کیا تھا کہ اس سال جولائی سے نومبر تک PTI کی احتجاجی سرگرمیوں کے دوران وفاقی خزانے پر ایک ارب روپے سے زیادہ کا خرچ آیا جبکہ سرکاری و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق ایک اہلکار جاں بحق اور 42 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔کیایہ سیاسی احتجاج ہے ؟؟ یا ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ ؟ملکی معیشت اعتماد پر چلتی ہے۔ سرمایہ کار یہ دیکھتا ہے کہ ملک میں کاروبار کتنے تسلسل سے چل سکتا ہے، سڑکیں اور بندرگاہیں کتنی محفوظ ہیں، انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کتنا قابل اعتماد ہے اور سیاسی بحران کتنی بار معمولات زندگی کو متاثر کرتا ہے۔متوقع احتجاج اور دھرنوں کے حوالے سے تقریباً 120 ارب روپے روزانہ کے ممکنہ معاشی نقصان کا تخمینہ پیش کیا۔ یہ حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا تخمینہ ہے، حتمی طور پر ثابت شدہ نقصان نہیں، تاہم اس سے حکومت کی جانب سے معاشی سرگرمیوں پر احتجاج کے ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش واضح ہوتی ہے۔بڑے نقصانات دوسرے دن ہی ٹھیک نہیں ہوجاتے ، کاروبار بند کرنے سے مندرجہ بالا نقصا ن اپنی جگہ جو خوانچہ فروش ، سبزی فروش ، رکشہ ، ٹیکسی ، روز کی روٹی کمانے والے کہاں جائینگے ، کسی احتجاج سے حکومت کبھی تبدیل نہیں ہوئی اور نہ ہی ہوگی ، مارا جاتا ہے عام آدمی ، اسکے بچے نہ ہی حکومت اور نہ کرسی پرخواہش مند حزب اختلاف کیا کبھی کسی کا پرسان حال ہوتا ہے ؟؟ہمارے ملک میں کوئی بھی حزب اختلاف ہو ،جب بھی وہ اقتدار سے علیحدہ ہوتی وہ د وسرے دن سے ہی احتجاجی سیاست شروع کردیتی ہے اور سب کچھ تباہ و برباد کر نے کے ایجنڈے پر گامزن ہوجاتی ہے حزب اختلاف بنتے ہی حب الوطنی قصہ پارینا ہوجاتی ہے وزیر خزانہ کے مطابق موجودہ مالی سال میں حکومت برآمدات بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے اور سیاسی بے یقینی اس کوشش کو متاثر کرسکتی ہے۔ وزیر اطلاعات نے بھی خبردار کیا کہ سڑکوں کی بندش اور سیاسی کشیدگی سے برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔پاکستان کو اس وقت برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری لانے، آئی ٹی شعبے کو وسعت دینے، ترسیلات زر میں اضافہ کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں ہر وہ سرگرمی جو کاروباری تسلسل کو توڑتی ہے، اس کے اثرات آخرکار عام آدمی تک پہنچتے ہیں۔عدالتوںمیں سنگین 
جرائم میں ملوث افراد کو رہائی کو ملکی معیشت پر سبقت دینا کسی محب وطن کا کام نہیں ہوسکتا۔ ایک صوبے میں وزیر اعلی بننے کی قابلیت اس پیمانے سے ناپی جاتی ہے کہ وہ کتنا ہنگامہ کھڑا کرسکتا ہے ، اس پر طرہ یہ کہ مرکزی حکومت کے کسی اہم اجلاس میں چاہے وہ سیکورٹی کے حوالے سے اس میں شرکت نہ کرنا باہر بیٹھ کو شور مچانا یہ ایک عجیب تاریخ رقم ہورہی ہے ۔ عوام کی جان و مال ، معیشت کی مضبوطی حکومت کا فرض ہے اسکے لئے تادیبی کاروائی ضروری ہے ، وہ معصوم لوگ جنہیں یہ لیڈر میدان میں چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں یہ بھی ایک تاریخ ہے، مرتا ، بے روزگار تو پہلے سے مہنگائی میں پسا عام کارکن ہی ہوتا ہے جنکا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔ وزارت داخلہ جتنا بھی سخت ایکشن لے وہ ملک کیلئے بہتر ہوگا ۔ عوام کا درد اتنا کہ حالیہ سکیورٹی فورس اور عوام کے شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت نہیںکرتے یہ تعلیم انہیں اپنے لیڈر سے ملی ہے انکا بھی ریکارڈ ہے انہوںنے بھی کسی بھی نماز جنازہ میں کبھی شرکت نہیںکی۔

مزیدخبریں