بی آئی ایس پی کو نظر انداز کرنا متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہوگی:آصفہ بھٹو زرداری

04:33 PM, 24 Sep, 2025

اسلام آباد:آصفہ بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو ریلیف دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا استعمال نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جو فوری اور شفاف امداد کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں آصفہ بھٹو نے کہا کہ پنجاب میں حالیہ سیلاب سے 40 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور امداد کی فراہمی میں بی آئی ایس پی سے بہتر کوئی دوسرا طریقہ نہیں۔ انہوں نے ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ ایک مؤثر اور آزمودہ نظام کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ کریں۔

آصفہ بھٹو کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پنجاب حکومت کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا کہ سیلاب متاثرین کو ریلیف کارڈز صوبائی حکومت کے اپنے وسائل اور ناموں سے جاری کیے جائیں گے، نہ کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت  بشمول چیئرمین بلاول بھٹو اور سینیٹر شیری رحمٰن مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ بی آئی ایس پی کا استعمال کرتے ہوئے سیلاب متاثرین تک فوری مدد پہنچائی جائے، کیونکہ یہ پروگرام ڈیٹا، ڈسٹری بیوشن اور شفافیت کے اعتبار سے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔

عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا، ’’کیا ہم ان سے مشورہ لیں جنہوں نے سندھ کو تباہ حال بنا دیا؟‘‘ اور واضح کیا کہ پنجاب حکومت امداد کی فراہمی میں ’’سیاست نہیں، خدمت‘‘ پر یقین رکھتی ہے۔

ادھر، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ بھی اس موقف کی تائید کر چکے ہیں کہ موجودہ معاشی حالات میں بی آئی ایس پی جیسا مہنگا نظام حکومت کے لیے ناقابلِ عمل ہو چکا ہے، اور اسے یا تو ختم یا نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا۔

مزیدخبریں