نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسلم ممالک کے سربراہان کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں غزہ کی موجودہ صورت حال اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات ان کے لیے ایک اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دن بھر میں کئی اجلاس ہوئے لیکن یہ ملاقات سب سے اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، اور غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے یہ اجلاس ایک بڑی کوشش ہے۔
امیر قطر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں، اور ان کی خواہش ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسلم ممالک اس مسئلے کے حل کے لیے مل کر کردار ادا کریں۔
ملاقات میں ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے سربراہان بھی شریک تھے۔ تاہم اجلاس کے بعد رہنماؤں نے میڈیا سے کوئی بات چیت نہیں کی اور خاموشی سے ہال سے روانہ ہو گئے۔
ادھر امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا چاہتا ہے مسلم اور عرب ممالک غزہ میں امن قائم رکھنے کے لیے فوجی دستے بھیجیں تاکہ اسرائیل کو انخلا کا موقع مل سکے۔ اس کے علاوہ، امریکا یہ بھی چاہتا ہے کہ فلسطینی علاقوں کی تعمیر نو اور انتظامی نظام کی بحالی کے لیے مالی امداد بھی مسلم ممالک فراہم کریں۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور عالمی برادری اس مسئلے کے فوری حل کی خواہش مند ہے۔