سندھ میںپیپلزپارٹی کے بعض وابستگان کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکے ٹویٹ پر جواعتراضات کے تیر برسائے گئے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تب تعجب ہوسکتا تھا اس لیے یہ قابل اعتراض نہیں ہے، البتہ مریم کی حمایت کاتاثر رکھنے والے عمران شفقت کی جانب سے رضوان رضی کے حوالے سے مریم نواز کے ٹویٹ پر اعتراض اس لئے تعجب سے آلودہ لگا کہ عمران شفقت کا رضوان رضی سے مریم نواز سے زیادہ دیرینہ قریبی تعلق ہے۔ اس کے اعتراض ولاگ میں مجھ کوتاہ عقل کو کچھ تضاد بھی محسوس ہوا ہے۔ پہلی بات یہ کہ مریم نواز کے ٹویٹ کا جائزہ لیا اس میں رضوان رضی کی حمایت نہیں بلکہ اس کے ساتھ سلوک کا حوالہ ہے ورنہ پورا ٹویٹ پنجاب کا مقدمہ ہے ہرمعاملے میں پنجابیوں کو کیوں مطعون کیا جاتا ہے، شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں ہی کیوں قتل کیاجاتا ہے۔ پورے ملک میں سے صرف پنجاب کی تقسیم کا ہی مطالبہ کیوں ہوتاہے، سندھ کی بات سے ہی قیامت صغریٰ کیوں برپا ہوجاتی ہے ۔’’مرسوں، مرسوں‘‘ کے نعرے لگنے لگتے ہیں۔ اس صورتحال پر اگر کسی پنجابی میں ناپسندیدگی کا ردعمل جنم لے تو یہ فطری عمل ہے۔ رضوان رضی اسی فطری ردعمل کا شکار ہوا اور پھر اپنوں، پرائیوں کی جانب سے احساس دلانے پر اس نے باقاعدہ معافی مانگ لی تو بات ختم ہو جانی چاہئے تھی اسے پی ٹی وی سے نکلوانے کی کیاضرورت تھی، پھر سینٹ میں طلب کیا جانا تو بالکل ناقابل فہم ہے۔ پھر ان سینیٹروں کا کردار یہ ہے کہ عمران دور حکومت میں ایک کرنل پوری پارلیمنٹ کو چلاتا رہا ہے ان کی جرأت کرنل لیاقت کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں طلب کرکے سوال کرتے ’’تیرا پارلیمنٹ میں کیا کام ہے ۔‘‘
چولستان کیلئے نہر کے معاملے میں بلاول کی زیرقیادت پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے چند سو وکیلوں، اور قوم پرستی کے دعویداروں نے جس طرح اودھم مچایا، بارہ، تیرہ روز پنجاب کے راستے بلاک کئے، پنجاب کو مسلسل گالیوں کا نشانہ بنایا جس سے اشیائے خوردونوش، کی ترسیل میں رکاوٹ پڑی، پھل، سبزیاں خراب ہوئیں عوام کو سفری مشکلات کا سامنا ہوا رضوان رضی نے ایسا کچھ کرنے والوں کے خلاف بات کی تھی اسے سندھ یا سندھیوں کے خلاف کا رنگ بدیانتی سے دیا گیا ہے ، عمران شفقت بے شک مریم نواز کے لیے کسی بغض کا شکار نہیں ہے لیکن وہ بہرحال آصف زرداری اور بلاول کیلئے نرم گوشہ ضرور رکھتا ہے اس کے باوجود اس نے کھل کر یہ بات کی ہے کہ رضوان رضی کے خلاف کارروائی پیپلزپارٹی کے دباؤ پر کی گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے دباؤ کا مطلب ہے آصف زرداری اور بلاول زرداری کا دباؤ ، عمران شفقت نے بادی النظر میں یا اپنی فہم کے مطابق حقیقی طورپر مریم کیلئے خیرسگالی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم کو ایسا ٹویٹ نہیں کرنا چاہئے تھا کیونکہ ان کے آئندہ وزیراعظم بننے کا تاثر ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے اگر آصف زرداری کی آخری خواہش کے مطابق بلاول خودکو سندھی قوم پرستوں کی سطح پر لے جاکر بھی وزیراعظم کا امیدوار بن سکتا ہے تو مریم نواز پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ ایسی زیادتیوں پر جو سندھیوں، بلوچوں اور پٹھانوں پر نہیں کی جارہیں صرف پنجابی ہی نشانہ ہیں آواز اٹھاکر وزیراعظم کی امیدوار کیوں نہیں بن سکتیں۔ بلاول اگرپنجاب کوتقسیم کرنے کا مطالبہ کرکے بلکہ اس کیلئے باقاعدہ تحریک چلا کر اور سندھ کیلئے ’’مرسوں، مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں کا نعرہ لگا بھی وزیراعظم کا اہل ہوسکتا ہے تو مریم نے تو تادم تحریر سندھ کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کی، بلکہ مریم نے بلاول کی پارٹی کو سندھ میں سیاسی مزاحمت سے آزاد رکھنے کیلئے اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن)کو پورے سندھ میں غیرفعال اورعضو معطل بناکر رکھا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ سندھ میں (ن) لیگ کے کارکن خود کو سیاسی یتیم سمجھنے لگے ہیں۔
کیا اس حقیقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو وزارت عظمیٰ پنجاب کے طفیل حاصل ہوئی تھی مگر سیاست کی بنیاد سندھ کارڈ بنایا گیا۔ ملازمتوں اورتعلیمی اداروں میں کوٹہ سسٹم کو رواج دے کر سندھیوں اور غیرسندھیوں میں امتیاز پیدا کرکے سندھی عصبیت کو پروان چڑھایا گیا۔ دیگر اقدامات کی طرح’’ اجرک ڈے‘‘ اسی تسلسل کی کڑی ہے لیکن یہ کیونکہ سندھ کی ثقافت ہے اس لیے کسی جانب سے اعتراض نہیں کیا گیا۔ حال ہی میں حکومتی طاقت کے ذریعہ گاڑیوں کی نمبرپلیٹوں پر اجرک کے نشان کی مہم چلائی گئی اسے سندھ میں آباد غیر سندھیوں ، اردوسپیکنگ ،پٹھانوں، پنجابیوں نے پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا، سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری، مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد، ایم کیوایم کے رہنماؤں نے کھل کر اس کی مخالفت کی ہے، نمبرپلیٹ پر صوبے کے نام کا مطلب ہے گاڑی اس صوبے میں رجسٹرڈ ہے۔ ثقافت پیار محبت سے فروغ پاتی ہے حکومتی جبر سے نہیں، جس کسی سے بھی سندھ حکومت کو یہ پٹی پڑھائی ہے اس نے پیپلزپارٹی کو سندھی قوم پرست پارٹی کی شناخت کی جانب دھکیلنے کی کوشش ہے جبکہ اس سے پہلے ہی بلاول کی جانب سے ہر معاملے میں سندھو، سندھو کے نعروں نے پیپلزپارٹی کی قومی جماعت کی شناخت کو کمزور کیا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں ہے پیپلزپارٹی ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے جسے ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نمائندگی حاصل ہے جبکہ (ن) لیگ اس لیے دوسری بڑی جماعت کے درجے میں ہے کہ ملک کے دوسرے بڑے صوبے سندھ کی اسمبلی میں (ن) لیگ کا ایک ممبر بھی نہیں ہے نہ ہی کراچی جیسے سب سے بڑے شہر کی بلدیہ میں قابل ذکر نمائندگی حاصل ہے عملاً (ن) لیگ کو پنجاب تک محدود کردیا گیا ہے یہ یقیناً(ن) لیگی قیادت کی مصلحت آمیز حکمت عملی ہوگی لیکن اس سے بڑا فائدہ جماعت اسلامی اور مرکزی مسلم لیگ اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں۔
ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے بلاول کو سندھی قوم پرستی کی بجائے قومی سیاست میں جگہ بنانی چاہئے ،سیاسی عمل کے ذریعہ اگر بلاول دس بار وزیراعظم منتخب ہو جائے تو کس کو اعتراض ہے تاہم جب بلاول’’پنجاب کو تقسیم کرو‘‘ کا مطالبہ کرتے وقت مرسوں، مرسوں، سندھ نہ ڈیسوںِِ‘‘ کا نعرہ لگائے تو جواب مریم یا کوئی پنجابی لیڈر یہ نعرہ لگادے’’سانوں مرنا اے منظور، پنجاب دی ونڈ نامنظور‘‘ تو اسے پنجابی عصبیت نہیں بلکہ جواب آن غزل ہی سمجھا جانا چاہئے۔
مریم نواز کا ٹویٹ، اعتراض کیوں؟
09:24 AM, 24 Sep, 2025