نتھو اور پھتو چوپال میں ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے۔ دونوں نے حتیٰ کہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا بھی گوارہ نہیں کیا تھا۔ اتنے میں شفیق پہلوان چوپال میں آئے اور آتے ہی کہا بسم اللہ جی۔۔کیا بات ہے میرے شہزادو آج دونوں کس بات پر الجھ رہے ہو۔ نتھو بولا چپ سائیں جی کو آنے دو پھر بات کرتے ہیں۔۔۔ اسی اثنا میں چپ سائیں کی آمد ہوئی۔۔ سب خاموش ہوگئے۔ شفیق پہلوا ن نے کہاکہ بسم اللہ جی ۔۔۔ سائیں جی! آگئے۔۔ چپ سائیںنے سانس لیا اور اس کے بعد کہا بچو آج کس بات کا شور ہے۔۔ شفیق پہلوان بولے۔۔پتہ نہیں یہ دونوں کس بات پر الجھ رہے ہیں؟۔۔ یہ تو ایک دوسرے سے ہاتھ بھی ملانا گوارہ نہیں کررہے۔۔ چپ سائیں مسکرا دئیے اور کہا۔۔۔کیا ہوا۔۔نتھو بولا سائیں جی میں ہاتھ نہیںملائوں گا۔۔پھتو بولا میں ہینڈ شیک نہیں کروں گا۔۔۔ اس پر شفیق پہلوان جی بولے۔۔ مورکھو!۔۔ سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرو۔۔۔ اس پر چپ سائیں بولے۔۔ بچو آج پہلوان جی نے بڑی بات کردی ہے۔۔ دوستو! ہینڈ شیک اور سپورٹس مین سپرٹ کی باتیں آج کل ہر طرف ہورہی ہیں۔ آج آپ کو اس بارے میں بتائوں گا۔
سائیں جی بولے۔۔۔ پہلوان جی۔۔ جب آپ اکھاڑے میں اترتے ہیں تو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں۔۔ شفیق پہلوان نے کہا سائیں جی۔۔۔ پہلے ہم مخالف پہلوان سے ہاتھ ملاتے ہیں اوراس کے بعد پھر دے تیرے کی۔۔۔ دھوبی پٹکا۔۔۔سائیں جی مسکرادئیے۔۔
سائیں جی نے کہا۔۔۔ بچو ۔۔۔جب دو حریف میدان میں اترتے ہیں توایک زیر ہوتا ہے اور ایک فاتح لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں میدان میں دیکھ کر ایک دوسرے کو کترائیں اور ہاتھ تک نہ ملائیں۔۔۔ صاحبو! کھیل زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں جو نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتے ہیں بلکہ انسان میں اخلاقی خوبیاں بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہی خوبیوں میں ایک اہم خوبی سپورٹس مین سپرٹ یا کھیلوں کا جذبہ ہے۔ کھیل کے میدان میں جیت یا ہار ایک معمولی بات ہے، لیکن اصل کامیابی تب ہوتی ہے جب کھلاڑی اخلاق، رواداری اور مثبت رویے کا مظاہرہ کرے۔ اسی تناظر میں ایک چھوٹا سا عمل ہینڈ شیک (مصافحہ) بعض اوقات ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے جسے ہم ہینڈ شیک تنازع کے طور پر جانتے ہیں۔
مصافحہ کھیل کے اختتام پر خیر سگالی، عزت اور شائستگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی کھلاڑی جان بوجھ کر ہاتھ ملانے سے انکار کر دے، یا غیر مناسب رویہ اختیار کرے، تو اسے ہینڈ شیک تنازع کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ تنازع ذاتی اختلافات، غصے، یا شکست برداشت نہ کرنے کے باعث جنم لیتا ہے۔ یہ صرف ایک چھوٹا سا واقعہ نظر آتا ہے، لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ نہ صرف اس سے کھلاڑی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، بلکہ پوری ٹیم یا قوم کا تاثر بھی مجروح ہو سکتا ہے۔
سپورٹس مین سپرٹ ایک ایسا رویہ ہے جو ہر کھلاڑی کو جیت اور ہار کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا سکھاتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو حریف کے ساتھ عزت سے پیش آنے کا درس دیتا ہے۔اصولوں کی پابندی کو لازم قرار دیتا ہے اور مقابلے کو دشمنی نہیں بلکہ صحت مند مسابقت سمجھتا ہے ۔ ایسا کھلاڑی جو سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ چاہے جیتے یا ہارے، دل جیت لیتا ہے۔
ہینڈ شیک تنازع اور سپورٹس مین سپرٹ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جہاں ہینڈ شیک تنازع ایک منفی رویہ ظاہر کرتا ہے، وہیں سپورٹس مین سپرٹ مثبت سوچ کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی شکست کے بعد بھی حریف سے ہاتھ ملا کر اس کی جیت کو تسلیم کرتا ہے، تو یہ اس کی اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے لیکن اگر وہ ہارنے کے بعد ہاتھ نہ ملائے یا بدتمیزی کرے، تو یہ کھیل کے دائرہ اخلاق سے باہر سمجھا جاتا ہے۔ کرکٹ، فٹبال، ہاکی، یا کسی بھی کھیل میں ہم نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات کھلاڑی ہارنے کے بعد ہاتھ نہیں ملاتے یا کسی تلخی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
کھیل صرف جیت یا ہار کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ضابطہ اخلاق ہے جو انسان کی زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ہینڈ شیک جیسے چھوٹے سے عمل کے ذریعے ہم ایک دوسرے کو عزت دیتے ہیں اور کھیل کی اصل روح کو زندہ رکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے جذبات پر قابو پائیں اور ہر حالت میں سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کریں تاکہ نہ صرف کھیل کا معیار بلند ہو بلکہ معاشرے میں بھی بھائی چارے اور احترام کی فضا قائم ہو۔
دوستو!کھیل کا میدان ہو اور ہمارے ساتھ ہمارے ہمسائے بھارت کا تذکرہ نہ کیا جائے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ میں چلتے چلتے ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے میچ اور ہینڈ شیک کی بات بھی کروں گا۔۔ صاحبو! میچ جو مرضی جیتے۔۔ لیکن ضابطہ اخلاق بھی کسی چیز کا نام ہے اور اس کو برقرار رکھنا ہی سپورٹس مین سپرٹ ہے۔۔ اس ایشیا کپ میں ہم دو بار روایتی حریف بھارت کے سامنے آئے اگرچہ میچ ہارے لیکن غصہ توکھیلتے ہوئے پرفارمنس سے نکالنا چاہئے نہ کہ اس طرح کا عمل کریں کہ ساری دنیا باتیں کرے اور معاملہ ہینڈ شیک سے بڑھ جائے۔۔۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ایشیا کپ ہو یا ورلڈ کپ ہم جب بھی روایتی حریف بھارت کے سامنے آئے ہماری پرفارمنس کوئی خاص اچھی نہیں رہی اور پلڑا دوسری ٹیم کا ہی بھاری رہا، باوجود اس کے کہ ہم نے پریشر میں اچھا کھیلا۔۔۔کرکٹ لورز آج بھی ورلڈ کپ میں عامر سہیل اور ونکتیش پرساد کا مقابلہ نہیں بھولے ، جب دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے سامنے تھیں اور مقابلہ بھی بھارت میں ہی تھا۔۔ کرکٹ کا بخار بہت تیز تھا اور عامر اور پرساد دونوں نے پرفارمنس سے شائقین کرکٹ کو محظوظ کیا۔۔۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے مقابلے ہوئے۔۔۔ جب وسیم اکرم اور وقار یونس ڈٹ گئے اور ٹنڈولکر کے ساتھ ساتھ ’’ دی وال‘‘ یعنی راہول ڈراوڈ کوبھی پریشان کیا۔۔انیل کمبلے اور ونود کامبلی کے ساتھ ساتھ سعیدانور، جاوید میانداد، عمران خان کو92 کے ورلڈ کپ میں بھولا نہیں جاسکتا۔۔۔
خیر۔۔۔صاحبو !آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کھیل کا اصل مقصد صرف جیتنا نہیں بلکہ انسان کی شخصیت کو بہتر بنانا ہے۔ ہینڈ شیک ایک چھوٹا سا عمل ہو سکتا ہے، لیکن اس کا پیغام بہت بڑا ہوتا ہے۔ اگر ہر کھلاڑی سپورٹس مین سپرٹ کو اپنائے، تو نہ صرف کھیل کا معیار بلند ہو گا، بلکہ معاشرہ بھی ایک بہتر مقام پر پہنچے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صرف اچھے کھلاڑی نہ بنیں بلکہ اچھے انسان بھی بنیں، تاکہ کھیل کے میدان سے ایک مثبت پیغام دنیا تک پہنچایا جا سکے۔۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا۔۔۔
ہینڈ شیک اورسپورٹس مین سپرٹ
09:23 AM, 24 Sep, 2025