غزہ : اسرائیل نے سیز فائر کے باوجود غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنا جاری رکھی ہیں، جس کی وجہ سے علاقے میں انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق، سیز فائر کے دو ہفتے بعد بھی غزہ میں بھوک اور پیاس کی صورتحال بدستور برقرار ہے، اور امدادی سامان کی کمی شدت اختیار کر گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور دیگر 41 عالمی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل دانستہ طور پر غزہ میں ضروری امداد کی فراہمی کو روک رہا ہے، جس کے باعث غزہ کی عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی ایک چوتھائی آبادی، جن میں 11 ہزار حاملہ خواتین بھی شامل ہیں، غذائی قلت کا شکار ہے، اور اس بحران کے اثرات نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آئندہ نسلوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے مزید خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر امدادی سامان کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی، تو اس سے غزہ کی آبادی کی صحت اور زندگیوں پر سنگین اثرات پڑیں گے۔