بطورمسلمان ہم سب جانتے ہیں کہ شرعی اور دنیاوی تقاضوں کے مطابق اپنے جان ومال کی حفاظت کرنا ہم سب کاحق ہے اور اگر کوئی یہ حق چھیننے کی کوشش کرے تو اپنے جان اور مال کی حفاظت میں جہاں تک ہوسکے ہار نہ مانی جائے اور یہ امر مجبوری صحیح اپنے تشخص اور بقاء کے لیے جنگ کرنا پڑتی ہے۔
اندرون خانہ بھی جان کی حفاظت انسان پر فرض ہے اگر کوئی اپنے ہی گھرمیں محفوظ نہ ہوتو حتیٰ کہ اپنے گھر میں بھی جان کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کرے۔ اسی طرح پورے محلے علاقے گاؤں اور شہروں پر حفاظتی اقدامات کی کتنی ہی صورتیں ہیں۔ لوگ گھروں پر چوکیدار کس لیے بٹھاتے ہیں پہرے لگواتے ہیں کیمرے نصب کرواتے ہیں الیکٹر ک بار لگواتے ہیں گھروں سے باہر محلے میں مشترکہ چوکیدار رکھے جاتے ہیں۔ پورے شہر کا ایک حفاظتی نظام شروع سے رائج ہے۔ جواب ’’سیف سٹی‘‘ جیسے نظام تک ترقی کر گیا۔
یہ سلسلہ دراز ہوتا ہوا صوبائی اور وفاقی سرحدوں تک چلتا ہے۔ باڑیں مورچے اور سرحدیں متعین ہوتی ہیں ایک دوسرے کی طرف دراندازی کرنا ایسا ہی ہے جیسے گھروں میں ’’ٹریس پاس‘‘کرنا ۔ہم اپنے محفوظ گھر میں ہر آنے والے اجنبی سے ’’الرٹ‘‘ رہتے ہیں اور غیرقانونی یا چور دروازے سے آنے والے کو اپنے بچاؤمیں جنگ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
ہمارا مذہب کبھی بھی غلط طریقے سے وار کرنے گھر میں گھسنے والے کا ساتھ نہیں دیتا لہٰذا یہ تاثر دینا کہ مسلمان کومسلمان سے نہیں لڑنا چاہیے عام حالات میں تو ٹھیک ہے۔ مگر جوآپ کے گھر میں آکر بعینہ آپ کے وطن میں آکربے گناہ لوگوں کو بارود وگولی کا نشانہ بنادے وہ آپ کا دوست کیسے ہوسکتا ہے ۔
وطن عزیز پاکستان بھی اپنے ریاستی حق کو استعمال کرتے ہوئے افغان طالبان کو سبق سکھانے کا حق رکھتا ہے۔ اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وطن دشمن بیرونی عناصر کے ساتھ ساتھ جو غدار وطن ان بیرونی حملہ آوروں کیلئے نرم گوشہ رکھے ۔ان کے سدباب کیلئے ریاست کے ہمراہ نہ ہو وہ بھی ’’خوارج‘‘ ہی کے زمرے میں آتا ہے افغان طالبان نے جس طرح مقامی ’’جتھوں‘‘ کو اسلحہ اور دیگر جنگی سہولتیں فراہم کی ہیں ان کی وجہ سے پاکستان میں وحشیانہ کارروائیوں کو بے پناہ فروغ ملا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا ان مذموم عزائم والوں سے جنگ کرنا کس طرح اخلاقی ریاستی وہ مذہبی لحاظ سے غلط ہے ؟
جبکہ مذہب ریاست کی عملداری کو فوقیت دیتا ہے جیساکہ اقبال نے کہا تھا
فردقائم ربط ملت ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
یعنی اقبال عین فلسفہ اسلام کو مدنظر کرتے ہوئے کہتے ہیں۔کہ ریاست ہی اہم ہے فردواحد ریاست مخالف فیصلے نہیں لے سکتا اس طرح انسانی جان بھی صرف خدا کی امانت ہے لہٰذا غالب نے کیا خوب کہا ہے ۔
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
خوارج کے ذریعے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کو روکنا ریاست نہیں تواور کس کا فرض ہے جبکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ افغانی ان حملوں میں براہ راست شریک ہیں۔
کیا پاکستان بھارت کرکٹ میچ کے دوران افغان دشمنی عملاً ہر کسی کو دکھائی نہیں دی ایم کیوایم کا لیڈر ایک نعرہ ’’پاکستان مردہ باد‘‘ لگاکر پاکستان سے ہمیشہ کیلئے فارغ ہوچکا مسلمان ہوتے ہوئے بھی ۔
جب بھارت سے ہماری جنگ ہوتی ہے تو وطن کی حفاظت میں ہمارے جوان سرحدوں پر جان کی قربانی دیتے ہیں کیوں کہ دوسری طرف صرف اور صرف دشمن نظر آتا ہے جبکہ دہشت گردوں کا اسلام جیسے پرامن مذہب سے تعلق کیسے ہوسکتا ہے ؟ یہ لوگ اپنے مفاد اپنی دشمنی میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں اور جب جواب ملتا ہے تو یہ جتھے مذہب کارڈ استعمال کرتے ہیں۔
بطور محب وطن ہمیں اپنے لوگوں کا بہتا لہو نظر آنا چاہے وطن عزیز میں ’’بین‘‘ کرتی مائیں، جوان بیوائیں، یتیم بچے پہلے دکھائی دینے چاہیں۔ جوان افغانی دہشت گردوں کی دہشت گردی کا نشانہ بنے صرف 2025میں پاکستان میں ہونے والے 2809حملوں میں 126افغانی مارے گئے جن میں 8خود کش حملہ آور افغانی تھے پاکستانیوں کا قتل کرنے والوں سے ہمدردی رکھنے والوں سے سوال بنتا ہے کہ پھر بھارتی مسلمانوں (جو جنگ میں پاکستان کے خلاف بیان دیتے ہیں کو مدنظر رکھ کر بھارت سے بھی ہمیں کیا چپ چاپ ’’پھینٹی کھا لینی چاہئے؟؟وہاں ان خوارج کے ہمدردوں کی زبانیں کیوں چپ رہتی ہیں۔ اپنے مقاصد کی آبیاری کی خاطر مذہب کو استعمال کرنا اور سیدھے سادھے مسلمانوں کو بے وقوف بنانا کس زمرے میں آتا ہے ؟
ہم بھی سمجھتے ہیں کہ جنگ کوئی بہت خوبصورت چیز نہیں لہٰذا پاکستان نے پچھلے پانچ سالوں میں متعدد بار افغان حکومت کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ ‘‘فتنہ الاخوارج‘‘ کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھالیں افغانی دراندازی روکنے کیلئے وزیر دفاع اور ڈی جی آئی ایس پی آر خود دومرتبہ دورے کرچکے ہیں، سفارتی سطح پر پانچ دورے اسی طرح سیکرٹری نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر، جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی متعدد دورے کرچکے ہیں اس ضمن میں سینکڑوں احتجاجی مراسلے بھی ارسال کئے جاچکے ہیں۔
پاکستان کی ان تمام کاوشوں کے باوجود افغان حکومت نے فتنہ الاخوارج کی سرپرستی ترک نہیں کی بلکہ جب پاکستان نے افغان حکومت سے مایوس ہوکر خود فتنہ الاخوارج کی بیخ کنی کی تو دس اور گیارہ اکتوبر اور پھر بارہ اور تیرہ اکتوبر کو پاکستان پر بلا اشتعال حملے شروع کردیئے یہ وہ عرصہ تھا جب افغان لیڈر ملا متقی بھارت کے دورے پر تھا ایسے میں کیا پاکستان اپنے ازلی دشمن بھارت کی پشت پناہی اور بدنیتی کو نظر انداز کرسکتا ہے ؟
الحمدللہ پاکستانی افواج عین اسلام کے احکامات کے مطابق جنگ، فساد، قتل وغارت اور دراندازی کو روکنے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہی ہیں۔
جتھوں کی حمایت وطن سے دشمنی
09:25 AM, 24 Oct, 2025