خیبر پختونخواہ اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ قومی سلامتی کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگرچہ قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعدعارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے۔ تاہم داخلی سطح پر اس نازک صورتحال میں بھی قومی قیادت میں اتفاق اور اتحاد کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے ۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کے مابین بد اعتمادی کی فضا بدستور قائم ہے۔گزشتہ ہفتوں میں جس طرح کی بیان بازی ہوئی ، اس سے وفاق، صوبائی حکومت اور عسکری قیادت کے مابین اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ، بلکہ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور مقابلے بازی ہے۔
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر رہا ہے۔اس نے دہشت گرد عناصر کے قلع قمع کے لئے بھی موثر اقدامات نہیں کئے ۔یہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر بھی سیاست کر رہا ہے۔ دوسری طرف صوبائی حکومت اس ساری صورتحال کو وفاق کی ’’غلط پالیسیوں‘‘ کا شاخسانہ قرار دیتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وفاق نے صوبے کے حصے کے فنڈز بروقت مہیا کئے اور نا ہی مطلوبہ وسائل فراہم کئے۔ اس کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت کی وجہ سے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت براہ راست افغان حکام سے رابطے کی بھی خواہاں ہے۔ تاہم وفاقی حکومت اسے اپنے اختیارات میں مداخلت سمجھتی ہے۔ صوبائی حکومت صوبے میں فوجی آپریشنز کی بھی مخالف ہے۔ اس کا موقف ہے کہ بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرنا چاہیے ۔ جبکہ وفاقی وزیر دفاع واضح کر چکے ہیں کہ دہشت گردوں کے حملے پاکستان کی خود مختاری کے لئے خطرہ ہیں اور پاکستان ضرورت پڑنے پر کاروائی کا حق رکھتا ہے ۔
اس سارے قصے میں فوج نہایت اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور اس کا موقف بھی نہایت اہم ہے۔ ڈی جی، آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایاہے کہ فوج کے سینکڑوں اہلکار صوبے میں آپریشنز کے دوران شہید ہوئے ہیں ، لیکن صوبائی انتظامیہ نے وہ تعاون فراہم نہیں کیا جس کی ضرورت تھی۔ ڈی۔ جی ، آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کی وجوہات میں پولیٹیکل اور کریمینل نیٹ ورک کو بھی ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کے عدم نفاذ کی طرف بھی واضح اشارہ کیا ہے۔
بیانات سے قطع نظر، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ فوج برسوں سے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیو ں میں مصروف ہے۔ فوجی ترجمان کے توسط سے جو اعداد و شمار ہمارے سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق صرف ایک سال یعنی2024 میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ کاروائیاں کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں 700 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے ۔ کم و بیش تین سو فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ کوئی بھی حکومت یا سیاسی جماعت فوج کی ان کاروائیوں اور قربانیوں کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے؟ عسکری قیادت اس حکمت عملی سے اتفاق نہیں کرتی کہ دہشت گرد سینکڑوں فوجی جوانوں اور افسروں کو شہید کردے، لیکن خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے پر اصرار کرے ۔
تاہم فوجی کاروائیوں کے باوجود دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ صرف فوجی کاروائیاں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ناکافی ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے انتظامی اصلاحات درکار ہیں۔ مقامی پولیس کی استعداد کار میں اضافہ ضروری ہے ۔ عدالتی ، قانونی اور قبائلی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کی جن شقوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری وفاق اور صوبوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا بھی لازمی امر ہے۔کیا یہ اچھا نہ ہو کہ ا س حساس معاملے پر سب اسٹیک ہولڈر اپنے اپنے اختلافات پس پشت ڈال دیں؟ غور کریں کہ اس ساری صورتحال میں خیبر پختونخواہ کے عوام کا کیا قصور ہے؟ عوامی سطح پر خوف و ہراس کی فضا کو دور کرنے اور عام شہری کو احساس تحفظ دلانے کی ذمہ داری صوبائی حکومت سمیت سب پر عائد ہوتی ہے۔جب تک وفاق اور صوبہ ایک پیج پر نہیں آتے، دہشت گردی کے خلاف جنگ موثر نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے وفاق او ر صوبے کے درمیان حکمت عملی پر اتفاق رائے قائم ہونا ضروری ہے۔ سیاسی بیان بازی کے بجائے اس جنگ کے لئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخواہ حکومت کے بقول بڑھتی ہوئی دہشت گردی وفاق کی پالیسیوں اور سیکیورٹی کی ناکامی کا مظہر ہے۔ ایک لمحے کیلئے مان لیجئے کہ یہ بات درست ہے تب بھی اس ساری صورتحال میں صوبائی حکومت کو ذمہ داریوں سے مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت کو انتظامی کمزوریوں کو دور کرنا ہو گا، پولیس کی استعداد کار کو بڑھانا ہوگا اور قبائلی علاقوں کے ادغام کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا ہوگا۔ نیشنل ایکشن پلان کی متعلقہ شقوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ لیکن اگر وفاق کی طرف سے ملنے والی بلٹ پروف گاڑیاں واپس کر کے محض کھوکھلی نعرے بازی کرنی ہے تو یہ طرز عمل مسائل کا حل نہیں ہے۔ دوسری طرف وفاق کو بھی کوشش کرنی چاہیے کہ صوبائی حکومت کو مشاورتی عمل میں شامل رکھے۔جہاں تک ممکن ہو فیصلہ سازی کے عمل میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے۔ اس طرح کے اقدامات سے بد اعتمادی میں کمی آ سکتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ جب ہم ایک قوم بن کر کھڑے ہوتے ہیں تو کوئی بھی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی، مگر جب ہم آپس میں تقسیم ہو جاتے ہیں تو دشمن اس کا فائدہ اٹھا تا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی صرف ایک صوبے ، جماعت یا ادارے کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ساری قوم کی آزمائش ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت الزام تراشی اور بیان بازی سے گریز کرئے۔ فوج اور سول ادارے ایک دوسرے پر اعتماد بحال کریں۔ سب مل کر عوام کو یقین دلائیں کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ قومی سلامتی کے حساس معاملات کو سیاست بازی اور گروہ بندی کی نذرہونے سے بچائیں۔
اس امر کی بھی تفہیم ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی۔ اس جنگ کو جیتنے کے لئے انصاف ، تعلیم، روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی بھی درکار ہے۔ ہماری فوج اپنے حصے کی قربانیاں دے رہی ہے۔ لیکن امن اس وقت بحال ہو گا جب مقامی سطح پر اصلاحات ہوں گی۔ جب ریاست اانصاف فراہم کرئے گی۔ عوام کو احساس تحفظ ہو گا۔
اگر ہماری قومی قیادت الزام تراشی ترک نہیں کرتی اور بدستور دست و گریباں رہتی ہے تو یہ بحران مزید گہرا ہو گا اور خدانخواستہ پاکستان کو کئی سال پیچھے دھکیل دے گا۔فیصلہ قومی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ یہ آپس میں مقابلے بازی میں مصروف رہتی ہے یا حکمت و دانشمندی کا مظاہرہ کرکے دشمن سے مقابلہ کرتی ہے ۔
خیبر پختونخواہ اور وفاق کے درمیان بڑھتی خلیج!
09:22 AM, 24 Oct, 2025