میکاولی کی تصنیف " دی پرنس" دنیا بھر کے حکمرانوں میں خاصی مقبول رہی ہے۔ اسی طرح چانکیہ بھی ہے جسے بھارتی حکمرانی میں " پرافٹ آف پالیٹکس" کا مقام حاصل ہے۔ جس کے ملفوظات پنڈت جواہر لعل نہروسمیت تقریباً سب ہی بھارتی حکمرانوں کے زیرِ مطالعہ ہی نہیں بلکہ وہ ان سے مستفید بھی ہوتے رہے ہیں۔ میں نے یہ کتاب پوری تو نہیں پڑھی بس مختلف اوقات میں ان کے افکارِ جہانبانی سے مستفید ہوتا رہا ہوں۔ چانکیہ اور میکاولی میں ایک قدر مشترک ہے وہ کہ دونوں نے سیاست دانوں کو فطرت گری کے گر سکھائے ہیں، انہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست دانوں کے دل نہیں ہوتے بلکہ صرف آنکھیں اور اس میں پوشیدہ مفادات جس کی روشنی میں یہ اپنے ذہنوں کو منور کرتے رہتے ہیں۔ چانکیہ کے مطابق بادشاہ کو ہمہ وقت چوکس رہنا چاہئے اور دشمن کی کمزوریوں پر نگاہ رکھتے ہوئے اس پر فوراً حملہ کر دینا چاہئے تاکہ وہ دوبارہ اپنے آپ کو منظم نہ کر سکے۔ نیز چانکیہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ سیاست کرتے وقت تمام فیصلے دل سے نہیں دماغ سے کرنے چاہئیں نیز ان فیصلوں میں مفادات زیادہ زیادہ ہونے چاہئیں، رحم بالکل نہ ہونے کے برابر ہو۔
اسی طرح میکاولی نے اپنی مشہور کتاب " دی پرنس" میں لکھا ہے کہ خوف پیدا کر کے ظلم کے ذریعے بہت سے مفادات حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اگر خوف کے ساتھ جھوٹ اور افواہ کو بھی شامل کر لیا جائے تو کوئی بھی سیاست دان بہت جلد اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ چانکیہ کے نزدیک حکمرانی میں نیکی، اچھائی کے تعلق کی کوئی گنجائش نہیں۔حکمران اصول و ضوابط، اخلاقیات ، شرافت، نرمی، معافی جیسی فضولیات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کامیابی کے لئے چالاکی، عیاری، فریب، دھوکہ جیسی ارفع خصوصیات کا حامل ہونا نہایت ضروری ہے۔ چانکیہ کی سیاسی فلاسفی کے مطابق دشمن پر اپنے عزائم کبھی ظاہر نہ ہونے دو اسے ہمیشہ اندھیرے میں رکھو، اس سے تلخ گفتگو نہ کرو، شیریں زبانی سے کام لو، اسے زہر سے نہیں گڑ سے مارو۔ دوست ہمیشہ طاقتور کو بناؤ ، کمزوروں کے ساتھ دوستی کا محض ناٹک کرو۔ ضرورت پڑنے پر دوست سے منہ پھیر لینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اسے قتل بھی کرنا پڑے تو کر گزرو۔
اگر میں اپنے مشاہدے کی بات کروں تو ان دونوں میں سے مجھے چانکیہ کی مکارانہ شخصیت اور افکار میں زیادہ گہرائی اور مناسبت محسوس ہوئی کیونکہ چانکیہ اپنی ذہانت کی بدولت ایک عام اہلکار سے ترقی کر کے ہندو حکمران چندر گپت موریہ کا اہم ترین وزیر بنا اور زندگی بھر بادشاہ کے رہبر و اتالیق کے فرائض انجام دیتا رہا۔ اس کے مطابق یورپ کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جس بادشاہ یا سیاست دان نے زیادہ جھوٹ بولا، اس نے اتنے ہی زیادہ فوائد حاصل کئے ہیں۔مزید برآں سیاست میں رشتہ داریوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، صرف مفادات پیشِ نظر ہوتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو پوری دنیا میں آج ریاستی امور چلانے اور سیاست کرنے کے لئے انہی ارشادات پر عمل ہو رہا ہے لیکن اس سارے سلسلے میں سرِ فہرست بھارت کا ہندو ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت برِصغیر کے خطے سے تعلق رکھتا ہے اور چانکیہ کا تعلق بھی اسی خطے سے ۔ حالیہ برسوں میں پاک بھارت تعلقات اور نام نہاد پہلگام دہشت گردی کا واقعہ اس قدیم ہندو سیاسی مفکر کے افکار و فرمودات کی عملی تفسیر ہے۔ بھارت کا خیال تھا کہ اس کی جانب سے کی جانے والی سرجیکل سٹرائیک کے جواب میں پاکستان کوئی جواب نہیں دے گا لیکن پاکستان کا شدید ردِ عمل آیا تو بھارت نے مذاکرات کی آڑ لے کر جنگ بندی کے لئے امریکہ کو آگے کر دیا اور ساتھ ہی پراکسیز کے ذریعے پاکستان کی لئے مشکلات کھڑی کرنا شروع کر دی گئیں، یہ اسی ہندو مفکر چانکیہ کی سوچ کے عین مطابق ہے ۔ برسوں سے دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ چلتا رہا ہے ۔ افسروں کی سطح سے لے کر لیڈر شپ لیول تک مذاکرات تسلسل کے ساتھ ہوتے آئے ہیں۔ دہائیوں سے بھارت نے پاکستان کو لایعنی جامع مذاکرات کے ہیر پھیر میں الجھائے رکھا ہے جو محض وقت ضائع کرنے کی چال ہے جیسے ہی پاکستان نے زوردیا کہ خطے میں کشیدگی کا باعث بننے والے حقیقی مسائل پر بات کی جائے تو بھارت مذاکرات سے بھی منکر ہو گیا۔
بھارتی خود ساختہ پہلگام دہشت گردی سے چانکیہ کے چیلوں نے سارا مدعا پاکستان کی ان تنظیموں پر ڈال دیا جن پر اب پاکستان میں بالکل پابندی ہے۔ بھارت پہلگام کی واقعہ میں آڑ میں سرجیکل سٹرائیک کر کے دنیا میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا لیکن بھارت بھول گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج حساب چکانے کی بہترین صلاحیت رکھتی ہیں۔ بھارت نے جو معاملہ پاکستان کی آئی ایس آئی آئی اور دیگر تنظیموں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی تھی اس میں بھی بھارت کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس واقعہ کی ناکامی سے کشمیر میں آزادی کی تحریک ایک بار پھر دنیا کی نظروں اجاگر ہو گئی اور امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی اس معاملے میں پیش رفت نے دہلی سرکار کے ہاتھ پاؤں پھیلا دیئے بلکہ گزشتہ روز وہاں کی اپوزیشن نے مودی حکومت کو صدر ٹرمپ کے پاکستان کی طرف جھکاؤ کے معاملے میںآڑے ہاتھوں لیا۔
اب چانکیائی سوچ کی حامل بھارتی حکومت نے دیکھا کہ ان سے تو کچھ بن نہیں پا رہا اس نے بھاری سرمائے کے بل پر افغانستان کو گانٹھ لیا اور افغانستان نے ہندوستان کی شہ پر پاکستان پر حملہ کر دیا لیکن پاکستان کے سخت ردِ عمل نے افغانستان کو بھی جھکنے پر مجبور کر دیا اور اب دونوں ملکوں میں مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستان کا یہ استدلال بالکل درست ہے کہ جنگ اپنے ساتھ بہت تباہی لائے گی اور پھر پاک افغان تو ہیں بھی بھائی بھائی انہیں آپس میں لڑ کر مسلمانوں کا خون نہیں بہانا چاہئے۔حالیہ واقعات کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، اگر افغان حکومت نے خلوصِ نیت سے اقدامات نہ کئے تو پاکستان کا ردِ عمل اب پہلے سے شدید ہو گا۔افغانستان کو خود سوچنا ہو گا کہ وہ بھارت کی چانکیائی، میکاولائی سوچ سے کیسے دور رہ سکتا ہے۔
ہندو… چانکیائی، میکاولائی سوچ
09:20 AM, 24 Oct, 2025