پنجاب کے امتحانی نظام میں اصلاحات

09:19 AM, 24 Oct, 2025

گزشتہ چند مہینوں میں پنجاب میں بہت سی اصلاحات دیکھنے میں آئیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پنجاب کے انفراسٹرکچر کی بہتری سے لے کر صفائی ستھرائی اور ماحولیاتی بہتری کے لیے کئی انقلابی اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ بہت سے تجزیہ نگاروں نے ان اقدامات کو مختلف زاویوں سے دیکھا اور پرکھا ہے اور بعض نے روایتی تنقیص کا سہارا لے کر بات کرنا چاہی ہے۔ میرے خیال سے ترقی اور بہتری کے لیے اٹھائے گئے تمام موثر اقدامات کو کھلے دل سے خوش آمدید کہنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو سکے خود ان کا حصہ بننا چاہیے۔دیگر کئی شعبوں کی طرح امتحانات کے نظام پر بھی حکومت نے خصوصی توجہ دی ہے۔ در اصل امتحانات کسی بھی تعلیمی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہ صرف نمبروں یا گریڈز کا کھیل نہیں، بلکہ طلبا کے مستقبل کی سمت متعین کرنے اور معاشرے میں میرٹ کو قائم رکھنے والا ایک پورا نظام ہوتا ہے۔ جس طرح دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک اپنے امتحانی نظام میں شفافیت اور دیانتداری کو اولین ترجیح دیتے ہیں اسی طرز پنجاب حکومت نے بھی سسٹم کی بہتری کی جانب ایک غیر معمولی قدم اٹھایا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی ہدایات پر صوبے کے امتحانی نظام میں ایسی انقلابی اصلاحات کی بنیاد رکھی گئی ہے جنھوں نے نہ صرف نظام کی ساکھ بحال کی ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مضبوط کیا ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس کا خواب برسوں سے دیکھا جا رہا تھا۔
چیئرمین ٹاسک فورس برائے ایجوکیشن و ایگزامینیشن ریفارمز، مزمل محمود کی کوششوں سے اب پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز میں اصلاحات کا نفاذ شروع ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کی تیاری ایک سال سے زیادہ عرصے پر محیط رہی، جس میں باریک بینی سے ہر پہلو کا جائزہ لیا گیا تاکہ بدعنوانی، نقل اور غیر منصفانہ عمل کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کیے جا سکیں۔ نئے نظام کے تحت امتحانی مراکز کو حکومتی سرپرستی میں منظم کیا گیا ہے تاکہ مہنگے اور غیر محفوظ نجی مقامات پر امتحانات لینے کا سلسلہ ختم ہو۔ اب طلبا اپنے امتحانات محفوظ، سہل اور نگرانی والے ماحول میں دے سکتے ہیں، جبکہ حکومت کو انتظامی اخراجات میں خاطر خواہ بچت بھی حاصل ہوئی ہے۔
امتحانی مراکز میں ریذیڈنٹ انسپکٹرز، جدید کیمرے، اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نصب کیے گئے ہیں۔ ہر پرچہ منفرد کیو آر کوڈ کے ذریعے قابلِ شناخت بنایا گیا ہے جس سے نقل اور پرچوں کی غیر قانونی تقسیم تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔
اصلاحات کا ایک اور اہم پہلو احتساب اور کارکردگی پر مبنی ترقیاں ہیں۔ اب امتحانی عملے کے تقرر اور ترقی کا انحصار دیانتداری، شفافیت اور کارکردگی پر ہے۔ جہاں بدعنوانی پر سخت کارروائی ہو رہی ہے، وہیں ایماندار افسران کی حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے۔ اس بات کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے کہ احتساب کے روایتی طریقے سے یہ عمل دیر ثابت نہیں ہو سکے گا۔ بد عنوانیوں کی روک تھام اور قابل افسران کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی احتساب کا خودکار نظام سامنے آنا ضروری ہے جو مسلسل تحرک کے باعث اپنا اثر دکھائے۔ اس طرح نہ صرف اداروں کی فعالیت اور ان کے کام کی شفافیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ان کے ذریعے عوام کا اعتماد بھی با آسانی جیتا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے امتحانی نظام میں ٹیکنالوجی کو بنیاد بنا کر حقیقی معنوں میں شفافیت کو ممکن بنایا گیا ہے۔ سرویلنس کیمرے، ڈیجیٹل واٹر مارکس، اور چہرے کی شناخت جیسے جدید اقدامات نہ صرف امتحانی نظام کو محفوظ بناتے ہیں بلکہ بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بھی کرتے ہیں۔
جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی امتحانی شفافیت کے حوالے سے ایسے اقدامات کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ پنجاب کا یہ ماڈل نہ صرف پاکستان کے دیگر صوبوں کے لیے ایک رہنما مثال ہے بلکہ اسے ایک علاقائی معیار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ 
یہ تبدیلیاں ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کوئی گئی ہیں۔ ان کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب حکومت نے امتحانات کو محض ایک رسمی عمل سے نکال کر قومی وقار اور نئی تعلیمی سوچ کی علامت بنا دیا ہے۔ ماضی میں جہاں نقل، اقربا پروری اور بدعنوانی نے نظام کو کھوکھلا کیا، وہیں اب ایمانداری، شفافیت اور ٹیکنالوجی اس کی مدد سے اس نظام کو بہتر کیا جا رہا ہے۔
شعبہ امتحانات پر توجہ کرنا اور اسے بین الاقوامی معیارات کے مطابق تبدیل کرتے رہنا نہایت ضروری عمل ہے۔ اگر اس امتحانات میں پائی جانے والی خامیوں کو بروقت دور نہ کیا جائے تو پورا تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ نہ تو درست اعداد و شمار سامنے آتے ہیں اور نہ ہی میرٹ کا بول بالا ہو سکتا ہے ساتھ ہی نظام تعلیم اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو پرکھنا بھی نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے وزیراعلیٰ پنجاب کا وژن قابل تحسین ہے اور مزمل محمود اور ان کی ٹیم کی کوششیں بھی قابل داد ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اب بھی اس نظام کو وقت کے ساتھ ساتھ مزید بہتر کیے جانے کی ضرورت باقی رہے گی تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ حالیہ تبدیلیوں کے بعد یہ کام انتظامیہ کے لیے آسان رہے گا اور نئے تجربات کئی پہلو بھی سامنے لے کر آئیں گے۔

مزیدخبریں