گلوبلائزیشن اور ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس

09:18 AM, 24 Oct, 2025

دنیا کو عالمگیر دیکھنے کا خواب زمین پر سب سے پہلے یونانی فلاسفر دیوجانس کلبی نے دیکھا ۔ جو اپنے آپ کو عالمگیر شہری کہا کرتے تھا ۔ طاقتوروں نے دنیا کو طاقت کی بنیاد پر گلوبلائز کرنے کی کوشش کی تو زمین پر نفرتوں کی فصلیں ا ُگنا شروع ہو گئیں ۔عالمگیریت کا خواب دنیا کی تقریباً ہر بڑی فاتح قوموں نے دیکھا ہے لیکن حقیقی معنوں میں دنیا کو گلوبلائز کرنے میں آلات ِ ابلاغ نے سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے کہ  ایک زمانہ تھا جب دوسرے ملکوں کی کہانیاں تجارتی قافلوں یا پھر سیاحوں سے سننا پڑتی تھیں۔ یہاں تک کہ شہروں کے شہرقدرتی آفات سے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے تھے اور پھر سالہا سال بعد جب کوئی قافلہ وہاں سے گزرتا تو معلوم پڑتا کہ یہ یہاں ہڑپہ اور وہاں موہنجوداڑو ہوا کرتا ہے۔ ہمارا خطہ اس حوالے سے دنیا کا اہم ترین خطہ اس لئے بھی ہے کہ یہاں انسانی ہاتھوں نے سب سے پہلے دنیا کی طویل ترین سڑک جی ٹی روڈ بنائی ۔ جس نے تجارت کے فروغ ٗ ثقافتی تبادلے ٗ عقل و دانش کے مرکب سے نئی تخلیقات ٗ روزگار کے مواقع ٗ فوجی اور عام شہری کی نقل و حرکت میں آسانی ٗ زرعی معاشرے میںپیداوار کو دوردراز کی منڈیوں تک رسائی اور نئی سماجی جہتوں سے آشنا کرایا۔ جی ٹی روڈ کے بننے سے آسانی تو ہوئی لیکن ذرائع نقل و حمل کے سُست ہونے کی وجہ سے جی ٹی روڈ کا وہ فائدہ نہ ہو سکا جس سے ازاں بعد تاجدارِ برطانیہ مستفید ہوئی ۔ جدید ٹرانسپورٹیشن آج دنیا میں ایک انسان کو دوسرے انسان کے قریب لانے اور ایک منڈی سے دوسری منڈی تک پیداوار پہنچانے میں اہم ترین کردار ادا کررہی  ہے ۔ کنٹینروں کے لئے کھلی سرحدوں پر آزاد نقل و حمل دیکھ کر امید ہوتی ہے کہ ایک دن یہ پابندیاں انسانوں کی آزاد نقل وحمل کیلئے بھی اٹھا لی جائیں گی اوریہی وہ حقیقی گلوبل دنیا ہو گی جس کا خواب کبھی دیوجانس کلبی نے دیکھا تھا ۔ پاکستان کیلئے بہرحال ایک اہم ترین خوش خبری یہ ہے کہ عرصہ دراز سے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وزیر مواصلات عبد العلیم خان کی دن رات کی کوششوں سے آخر کار 23اور 24 اکتوبر 2025 ء کو اسلام آباد میں علاقائی ٹرانسپورٹ وزراء کانفرنس (RTMC) ہو رہی ہے، جس میں 27 ممالک کے وزراء اور اعلیٰ سطحی وفود اکٹھے ہوں گے۔کانفرنس میں سعودی عرب، ترکی، آذربائیجان، ازبکستان، قازقستان، ایران، بیلاروس، ترکمانستان، سری لنکا اور مالدیپ کے وزرائے ٹرانسپورٹ بھی شرکت کریں گے ۔جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں زمینی، سمندری اور فضائی رابطوں میں علاقائی تعاون کو بڑھانے، تجارتی راہداریوں کو فروغ دینے اور دوطرفہ اور کثیر جہتی تعلقات کو وسعت دینے پر توجہ دی جائے گی۔ اس تقریب کو علاقائی روابط اور تجارت کو فروغ دینے کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے لیکن میرے نزدیک یہی وہ حقیقی کاوشیں ہوتی ہیں جن کے ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں ۔کانفرنس کی اہمیت اورحساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٗ انتظامی اور تکنیکی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت ایک خصوصی جائزہ اجلاس بھی منعقد کیا گیا جنہوں نے متعلقہ وزارتوں کو اعلیٰ معیار کے انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات دیں ۔ عبد العلیم خان نے پاکستان کی روایات اور مہمان نوازی کومدنظر رکھتے ہوئے ٗ کانفرنس کے ساتھ ثقافتی شو اور نمائش کے منصوبوں کا بھی اعلان کیاجس کیلئے سرکاری محکمے زیادہ سے زیادہ سامعین کو شامل کرنے کے لیے عوامی نمائشوں کا اہتمام کریں گے۔ بلاشبہ موجودہ حالات میں جب ایک طرف پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنے کیلئے احمقوں کا ایک ٹولہ دن رات ایک کیے ہوئے ہے وہیں 27وزراء اور سفیروں کی اس کانفرنس میں شرکت پاکستان پر اعتماد اوراِس کے بہترین مستقل کی نشاندہی کر رہی ہے ۔یہ کانفرنس پاکستان کے مستقبل پر دنیا کے غیر متزلزل یقین کا کھلا ثبوت ہے اور اس کی میزبانی بقول عبد العلیم خان ’’ پاکستان کیلئے کسی اعزاز سے کم نہیں ۔‘‘ کہ یہ وہی مملکت ِ خداداد ہے جہاں ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک عاقبت نااندیش اس دعائے عظیم کے سری لنکا بن جانے کی پیشنگوئیاں کرتا نہیں تھکتا تھا۔ عام آدمی کا تعلق چونکہ خشک سیاسی معاملات سے نہیں ہوتا اور پھر پاکستان میں میڈیا اور سوشل میڈیا کی چٹ پٹی خبروں نے عوامی مزاج بھی تبدیل کیا ہے سو بہتر سمجھتا ہوں کہ اس کانفرنس کے فوائد بارے کچھ آسان کرکے لکھ دوں۔دنیا کا پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور اس کی نظریاتی اساس کونا قابل تسخیر تسلیم کرنا ریاست پاکستان اوراس کے اداروں پربلا کا اعتماد ہے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد بھی پاکستانی منڈی اورہنر کی دور تک رسائی ہے جس کیلئے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا، ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی (سڑک، ریل، ہوائی اور سمندری) کو بڑھانا اور جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے کے علاوہ خشکی میں گھرے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی بڑھا کر علاقائی رابطوں کے مرکز کے طور پر پاکستان کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔اس کانفرنس کے نتیجہ میں  G2G اور B2B کنکشن سمیت انفراسٹرکچر اور روابط کو بہتر بنا کر تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے تاکہ گرم پانیوں تک وسطی ایشیائی رسائی کو فروغ دیا جا سکے ۔ وسطی ایشیائی ممالک کے لیے پاکستان کے گرم پانیوں کی بندرگاہوں تک رسائی کو آسان بنایا جاسکے ۔ علاقائی ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کے لیے حفاظت اور سلامتی کے معیارات پر توجہ اور ان کو ترجیح دی جائے گی۔اس کانفرنس میں ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، اقتصادی تعاون تنظیم (ECO)، انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ یونین (IRU)، اور اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (UNESCAP) کے مندوبین بھی شرکت کریں گے۔کانفرنس میں 
علاقائی رابطوں، تجارتی راہداریوں، ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کرنے والے مختلف سیشنز اور پینل مباحثے بھی ہوں گے۔ 25-26 اکتوبر کو ایک خصوصی ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر ایکسپو کا بھی انعقاد کیا گیا ہے جو عوام کے لیے کھلا رہے گا جس میں ملکی پویلین، ادارہ جاتی نمائش، جدید ٹرانسپورٹ سسٹم، تحقیقی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کی نمائش کی جائے گی۔ ریلوے، تجارت، بحری امور اور منصوبہ بندی کے وفاقی وزراء سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی ہائی پروفائل بین الاقوامی تقریب میں شرکت کریں گے۔ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس 2025 ء کا اختتامی سیشن 24 اکتوبر کو ہو گا جس کے مہمان خصوصی نائب وزیر اعظم پاکستان اسحاق ڈار ہوں گے ۔میں عرصہ دراز سے برادرم عبد العلیم خان کا سینٹرل ایشیا ئی اور دوسرے ممالک میں ٹرانسپورٹ منسٹرز سے ملاقات کو خصوصی طور پر آبزروکررہاتھا جس کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے کہ جس وقت یہ تحریر آپ کی نظر سے گزر رہی ہو گی وہ علاقائی ٹرانسپورٹ کانفرنس کا آخری دن ہو گا کہ انسان نے انسان کو انسان کے قریب لانے کا فریضہ ادا کرنا شروع کردیا ہے جو یقیناایک نئی دنیا کی بنیاد رکھے گا۔ شکریہ عبد العلیم خان ۔

مزیدخبریں