پروین شاکر کی 73ویں سالگرہ: اردو شاعری کی ایک لازوال آواز

12:59 PM, 24 Nov, 2025

لاہور : آج 24 نومبر کو اردو شاعری کی ممتاز اور دلوں کو چھو لینے والی شاعرہ پروین شاکر کی 73ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ 1952ء میں کراچی میں پیدا ہونے والی پروین شاکر نے اپنی شاعری سے نہ صرف اردو ادب کو نیا رنگ دیا، بلکہ دنیا بھر میں اپنے لفظوں کی خوشبو پھیلائی۔

پروین شاکر کی شاعری میں جو خاص بات تھی وہ ان کی نرمی، گہرائی اور جذبات کا بے ساختہ اظہار تھا۔ ان کی پہلی کتاب ’’خوشبو‘‘ نے ادب کی دنیا میں ہلچل مچائی اور انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں شہرت دی۔ ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، اور انسان کے اندر کی پیچیدگیوں کا خوبصورتی سے بیان تھا، جو ہر قاری کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔

پروین شاکر نے اپنی تعلیم میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے انگریزی ادب اور لسانیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھیں، تو ایک سوال ان کی شاعری سے متعلق تھا، جو اس بات کا غماز ہے کہ ان کی شاعری کی اہمیت نہ صرف عوام بلکہ حکومتی سطح پر بھی تسلیم کی گئی تھی۔

ان کی مشہور کتابوں میں ’’خوشبو‘‘، ’’صد برگ‘‘، ’’خود کلامی‘‘ اور ’’ماہ تمام‘‘ شامل ہیں، جنہوں نے ان کی شاعری کو ایک نئی پہچان دی۔ پروین شاکر کی شاعری میں زندگی کے تلخ اور شیریں تجربات کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے، اور ان کے کلام نے اردو ادب کو ایک نیا انداز دیا۔

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ ایوارڈ سے نوازا۔ ان کی شاعری کی یہ خاصیت تھی کہ وہ نہ صرف محبت کی شاعری کرتی تھیں بلکہ عورت کی نفسیات اور جذباتی حالتوں کو بھی بخوبی سمجھ کر اسے لفظوں میں ڈھالتی تھیں۔

آج پروین شاکر کی سالگرہ پر ان کی شاعری کو یاد کیا جا رہا ہے، اور ان کے کلام کی خوشبو آج بھی ہر دل میں بستی ہے۔ ان کا کلام ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا، کیونکہ پروین شاکر نے شاعری کی دنیا میں ایک ایسا نشان چھوڑا ہے جو کبھی مٹنے والا نہیں۔

مزیدخبریں