بھارتی افواج کا زعفرانی رنگ۔ ایک خطرناک موڑ

09:22 AM, 24 Nov, 2025

عسکری قیادت کا درست تشخص اس وقت ابھر کر سامنے آتا ہے جب ایک فوجی رہنما نظم و ضبط، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کو اپنی شناخت بناتا ہے۔ ایسی قیادت نہ صرف اپنے ادارے کی اقدار کی محافظ ہوتی ہے بلکہ قومی مفاد کو ذاتی یا گروہی مفاد پر ہمیشہ ترجیح دیتی ہے۔ درست عسکری تشخص کی حامل افواج میدانِ جنگ میں جرأت اور تدبر کا مظہر ہوتی ہیں، اور امن کے ماحول میں حکمت، بصیرت اور ذمہ دارانہ فیصلوں سے ملک کے استحکام کو یقینی بناتی ہیں۔ بھارت کی مسلح افواج کبھی ایک ایسی پیشہ ورانہ، منظم اور غیر سیاسی قوت سمجھی جاتی تھی جو قومی سلامتی کی علامت، سیکولر ہم آہنگی کی مثال اور ملکی اتحاد کی روشن تصویر تھی۔ مگر آج بھارت کا عسکری ماحول ایک نئے رنگ میں رنگتا دکھائی دیتا ہے، ایک ایسا رنگ جو وردی کے وقار سے زیادہ ایک نظریاتی مہم کا پرچم بن چکا ہے۔ بی جے پی کے زیرِ اقتدار بھارت میں فوج پر یہ زعفرانی سایہ اب صرف علامتی نہیں رہا، بلکہ ادارہ جاتی ڈھانچے، قیادت کے رویّوں اور میدانِ عمل میں فیصلوں کو متاثر کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ ہر گزرتے ماہ کے ساتھ بھارتی فوج کا سیکولر چہرہ دھندلایا جا رہا ہے اور اس کی جگہ ہندو قوم پرستی کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔
جنوری 2025ء میں ساؤتھ بلاک کے آرمی چیف لاؤنج سے 1971ء کی جنگ کی ایک تاریخی پینٹنگ ہٹا کر ’’کرَم شیتر‘‘ نامی تصویر نصب کی گئی جس میں کرشن، چانکیہ اور جدید ہتھیار موجود تھے۔ یہ تبدیلی صرف ایک تصویر کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ اس جانب اشارہ تھا کہ بھارت کی نئی عسکری قیادت اپنے ورثے کو مذہبی علامتوں کے سانچے میں ڈھال رہی ہے۔ اسی طرح دسمبر 2024ء میں فائر اینڈ فیوری کور نے لداخ کے پینگونگ تسّو کی حساس پٹی پر 17ویں صدی کے ہندو راجہ شیواجی کا مجسمہ نصب کیا۔ یہ قدم بھارتی فوج کی اس خام خواہش کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرحدی جنگی ماحول میں بھی ہندو شناخت کی علامتیں غالب رہیں۔ فوجی تنصیبات پر زعفرانی جھنڈے کا لہرانا کسی بھی سیکولر ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
تاریخ کے اوراق میں یہ کم ہی دیکھا گیا کہ کوئی حاضر سروس آرمی چیف قومی مذہبی رسومات میں وردی پہن کر پُجاریوں سے تلک اور ہار وصول کرے۔ 2025ء کے قومی یومِ اتحاد پر یہی منظر پوری دنیا نے دیکھا۔ وردی کے تقدس کو مذہبی رسم کا حصہ بنا کر بھارتی فوج کی قیادت نے اس اصول کو پیروں تلے روند ڈالا کہ فوج قوم کی ہوتی ہے، کسی ایک مذہب کی نہیں۔ اس پر مستزاد تشویشناک بات یہ ہے کہ مئی 2025 ء میں آرمی چیف مدھیہ پردیش میں رام بھدرآچاریہ کے آشرم پہنچے، وردی میں ’’دیکشا‘‘ وصول کی، اور اس مذہبی تقریب میں شریک ہوئے جس کا فوج جیسے ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جب ایک مذہبی رہنما فوج کے سربراہ کو ’’ہنومان جی‘‘ کی تمثیل میں دیکشا دے کر ’’اے جے کے‘‘ واپس لانے کی ہدایت کرے تو یہ واقعہ مذہبی اثر و رسوخ کے خطرناک حد تک بڑھ جانے کی گواہی ہے۔ ’’سندور‘‘، ’’مہادیو‘‘ اور دیگر آپریشنز کے نام رکھنا کسی بھی فوج کی غیر جانبدارانہ روایت کے خلاف ہے۔ عسکری کارروائیاں مذہبی زبان اور علامتوں کی محتاج نہیں ہوتیں مگر بھارت کی فوج آج یہ بھی کر رہی ہے۔ اس کے پیچھے صرف ایک سوچ کارفرما ہے ہندو قوم پرستی کو عسکری بیانیے کا حصہ بنانا۔ یہی عمل بھارتی افواج کی پیشہ ورانہ نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سینئر فوجی افسران کے پاکستان کے خلاف جارحانہ اور سیاسی بیانات بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارتی فوج، سیاست سے دور رہنے کے بجائے، حکومتی بیانیے کی بازگشت بنتی جا رہی ہے۔ اس طرح کے بیانات محض سیاسی نعرے ہوتے ہیں، فوجی حکمتِ عملی نہیں۔ اگنی پتھ سکیم نے بھارتی فوج کے روایتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہزاروں نوجوان ایسے نیٹ ورکس سے جڑے ہوئے ہیں جو آر ایس ایس کے نظریاتی حلقوں سے متاثر ہیں۔ مستقبل کے سپاہیوں کی ذہنی تربیت ایک خاص نظریاتی فکر میں ڈھلی ہو تو آنے والی نسل کی پوری عسکری سوچ تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سینیِک سکول کا ہندو قوم پرست گروہوں کے زیرِ اثر آنا اس تبدیلی کا ایک اور نمایاں رخ ہے۔ جہاں سے فوج کے افسر بنتے ہیں، وہیں اگر زعفرانیت کا رنگ غالب ہو جائے تو آنے والے برسوں میں بھارتی فوج کا ادارہ جاتی توازن بری طرح بگڑ سکتا ہے۔
کسی بھی سیکولر ادارے کی اصل آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے۔ مگر بھارتی فوج میں سکھ، مسلمان اور مسیحی افسران بڑھتے ہوئے دباؤ، زبردستی مذہبی رسومات میں شرکت اور پیشہ ورانہ تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ سیموئل کاملیسن کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہندو رسم میں شرکت سے انکار کرنے پر ان کی برطرفی اور پھر عدالت کی جانب سے اس فیصلے کا برقرار رہنا اس امر کی واضح علامت ہے کہ اب بھارتی فوج میں اختلافِ مذہب برداشت نہیں کیا جا رہا۔ جبکہ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 2025ء کی رپورٹ میں 520 سے زائد زیرِ حراست ہلاکتیں اور ماورائے عدالت قتل درج کیے گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایسے واقعات میں شدت اس وقت آئی جب فوج کی صفوں پر نظریاتی اثرات گہرے ہونے لگے۔ جب ادارے میں مذہبی رنگ غالب ہو تو طاقت کا استعمال بھی اسی زاویے سے سخت ہوتا چلا جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ صرف بھارت کی اقلیتوں، ریاستی سیکولرزم یا فوج کی اندرونی پیشہ ورانہ اقدار کے لیے خطرہ نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایک ایسی فوج جو مذہب اور سیاست کے تابع ہو جائے، نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ غیر جانبداری کھو دیتی ہے بلکہ پورے ملک کی جمہوری ساخت کو بھی کمزور کرتی ہے۔ بھارتی فوج سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ ریاست کے اداروں میں توازن برقرار رکھے گی، مگر آج وہ خود سیاسی اور مذہبی بیانیے کی پرچارک بنتی جا رہی ہے۔ یہ وہی فوج ہے جسے کبھی خطے میں ’’سب سے منظم‘‘ کہا جاتا تھا، مگر اب وہ نظریاتی میدان میں ایسی جنگ لڑ رہی ہے جس میں ہار صرف بھارت کی نہیں، پورے خطے کی ہے۔ بھارتی قیادت اگر یہ سمجھتی ہے کہ زعفرانی رنگ سے رنگی فوج ایک طاقتور فوج ہے، تو یہ بدترین خوش فہمی ہے۔ فوج کا وقار، قوت اور اثر تب ہی قائم رہتا ہے جب وہ ریاست کے اوپر نہیں بلکہ ریاست کے اندر اور سب کے لیے یکساں کھڑی ہو۔

مزیدخبریں